عورت اور ہمارا رویہ

آئینہ

تاریخ    28 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


عبید احمد آخون
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں بوڑھی ہو جاتی ہے؟کیوں شادی ہوتے چند سال میں بیٹی اپنی ماں کی بہن دکھنے لگتی ہے؟خوبصورت سے خوبصورت عورت کا جسم وقت سے پہلے بے ڈھنگا اور بدنما ہوتا چلا جاتا ہے۔مرد شادی کے چند سال بعد اپنی ہی بیوی کا چھوٹا بھائی دکھائی دیتا ہے۔اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ہمارا معاشرہ، مرد یا عورت کی جسمانی ساخت؟
عورت جسمانی طور پر شاید مرد کے مقابلہ میں کمزور ہو لیکن فطرت نے اسکے جسم میں وہ تمام صلاحیتیں رکھی ہیں جن کی بدولت وہ نہ صرف افزائش نسل کا فریضہ سر انجام دے سکے بلکہ اپنی ساخت کو ایسے برقرار رکھ سکے جو مرد کے لیے کشش اور مسرت کی وجہ ہولیکن ایسا کیوں ہے کہ ہمارے معاشرہ میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ہمارے معاشرہ میں اکثر لڑکیوں کی شادی ان کی پسند کی نہیں ہوتی مرضی سے ہوتی ہے۔لڑکی کی مرضی کسی نہ کسی صورت میں سمجھوتے کی ایک شکل ہوتی ہے۔یہ سمجھوتا کچھ معاملات میں عورت خود اختیار کرتی ہے جس کے پس منظر میں ماں باپ کی محبت اور گھر کی عزت کے ساتھ جذبہ شکر گزاری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے اور کچھ مواقع پر عورت کو مجبوراً سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔
ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی کے فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہوا جائے، اس لیے دوسرے یا تیسرے رشتہ کو ہاں کی سند مل جاتی ہے۔ پھر عموماًیہ دعا بھی رخصتی کے وقت دل کی گہرائیوں سے دی جاتی ہے کہ اس گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی اٹھے۔ شادی کے بعد عورت کا اولین فریضہ افزائش نسل سمجھتا جاتا ہے جس کے ساتھ اضافی ذمہ داریوں میں شوہر کی خدمت، سسرالیوں کی نازبرداریاں، اولاد کی تربیت اور گھر کی مکمل ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے۔
سات برسوں میں چھے بچوں کی پیدائش اور بقیہ ذمہ داریوں کو بجا لاتے عورت کی عمر وقت کی رفتار کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کئی منازل طے کر جاتی ہے۔اب تیس سال کی لڑکی اپنی پچپن سالہ ماں کی بہن دکھائی دیتی ہے۔کیا اس صورت میں مرد عورت کو قابل التفات سمجھے گا جس مرد کی فطرت میں خوبصورتی کی طرف جھکاؤ کا مادہ شامل ہے۔
اب یہ عورت مرد کے لیے ایک ذمہ داری ہے اس کی ضرورت نہیں۔وہ اس کے ساتھ گھومنا پسند نہیں کرے گا۔ ہنسی مذاق کا ذوق ختم، تفریح کے مواقع عید کے چاند کی طرح ہو جاتے ہیں۔عورت جسمانی طور پر تو بوڑھی ہو جاتی ہے لیکن کیا اس کا دل اس کی روح بھی بوڑھی ہوتی ہے۔ کیا اس کی دل میں وہ سب خواہشات اور امنگیں کروٹیں نہیں بدلتیں جو جوان سال مردوں کے دلوں میں ہوتی ہیں۔
ہمارے سماج کے لامتناہی المیوں میں سے ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں عورتوں کے مسائل کو طہارت، پاکیزگی، مباشرت، مخصوص ایام اور بچوں کی پیدائش تک محدود سمجھا جاتا ہے اور ہمارے تمام تر " تحقیق " انہی مسائل سے متعلق ہوتی ہے۔عورت کے جذبات، خواہشات ، نفسیات اور ضروریات کو مسائل کی سند حاصل نہیں۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا وجہ ہے کہ گھر میں بیس سال تک بابا کی لاڈلی کہلائے جانے والی لڑکی شادی کے پانچ برسوں میں بابا کی لاڈلی کے منصب سے اتر کر خاندان چلانے والی بوڑھی کے درجہ پر فائز ہو جاتی ہے۔ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے آزادی نہیں چاہتی۔ یہ مرد کے ساتھ جینا چاہتی ہے، اس کے شانہ بشانہ زندگی کے سب رنگ دیکھنا چاہتی ہے۔پس مردوں پر لازم ہے کہ وہ تمام( جائز) خواہشات، جو وہ اپنے لیے رکھتے ہیں، ان میں خواتین کو بھی شامل کریں۔ صرف اچھا کما لینا ہی ذمہ داری نہیں، اچھی اور پرمسرت زندگی کے لیے ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔
 ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین ،جن کو طلاق ہو جائے یا ان کے خاوند فوت ہو جائیں،انہیںایک عیب والی عورت سمجھتے ہیں طلاق یافتہ اور بیوہ ہونا کوئی عیب نہیں ،یہ قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں ۔اب اکثر دیکھا یہ جاتا ہے کہ ان خواتین سے کوئی شادی کرنا پسند نہیں کرتا حالانکہ اکثر ایسی خواتین کی عمر 28 سے 40سال تک ہوتی ہے۔اب ان سے شادی نہ کرنا ناانصافی ہے کیا ہوا جو خاوند نے طلاق دے دی ۔کیا اب اس عورت کو دوسری شادی کرنے کا حق حاصل نہیں۔ایسی بیچاری خواتین بقیہ ساری زندگی گھر میں بیٹھے گزار دیتی ہیں۔ہر آدمی چاہتا ہے میں کنواری لڑکی سے شادی کروں، خوبصورت بھی ہو مالدار بھی ہو، پڑھی لکھی بھی ہواور غریب کی بیٹیاں گھر بیٹھے بوڑھی ہو جاتی ہیں کوئی نہیں سوچتا ،سب قارون بنے بیٹھے ہیں اپنی دولت پہ۔
پتہ۔ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی
فون نمبر۔ 9205000010
 

تازہ ترین