تعلیم سے تعمیر

درس وتدریس

تاریخ    28 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


جنید احمد بٹ
قوموں کا عروج و زوال تعلیم سے وابستہ ہوتا ہے۔افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم کی بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔افراد کی ساری زندگی کی عمارت اسی بنیادپر تعمیر ہوتی ہے اور اقوام اپنے تعلیمی فلسفے کے ذریعے ہی اپنے نصب العین ،مقاصد حیات،تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت کاا ظہار کرتی ہیں ۔اقوام کی ترقی کا راز اسی میں پنہا ںہے ۔اسی سے پست اقوام ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں،نا ممکن کو ممکن میں تبدیل کرنے کا عزم پیدا ہو جاتاہے ،جہالت کے اندھیرے سے نکل کرعلم و عرفان کے راستوں پران کے قدم چلنے لگتے ہیں ۔نیکی اور برائی کی تمیزجبکہ نیکی کو اپنانے اوربرائی سے بچنے کے لئے شعور پیدا ہوجاتا ہے۔ تعلیم آدمی کو انسان اور انسان کوفرشتوں سے افضل مقام بخشتی ہے۔تعلیم کے حصول کی راہ ’’تعلیم‘‘ہے جو عربی زبان کے لفظ ’’علم ‘‘سے مشق ہے جس کے معنی آگاہی  حاصل کرنے کے ہیں۔تعلیم عربی میں تفصیل کے وزن پر ہے جو اپنے اندر تدریخی صفات رکھتی ہے۔جس کے معنی نشو نماکرنا،تربیت ،پرورش ہے ،نئی نسلوں تک معاشرتی  اقدار،آدب و ثقافت  اور مااضی کے تجربات منتقل کرنے کے لئے آتے ہیں۔ مختصر الفاظ میں اگرکہا جائے کہ تعلیم کے وسیع معنی یہ ہیں کہ انسان کو مہد سے لحد تک جومعلومات اور تجربات حاصل ہوں ،وہ سب تعلیم میں شامل ہیں تو بیجا نہ ہوگا ۔
انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ جتنی پُرانی ہے ،تعلیم اور نظام تعلیم بھی اتنی ہی پُراناہے ۔ہر دور کے انسانوں تعلیم و تربیت کی ضرورت محسوس کی ہے اور اس ضرورت کی تکمیل کے لئے انفرادی و اجتماعی سطح پر انتظامات کئے ہیں ۔جس قدر ان کے انتظامات تھے،اُس قدر اُس قوم میں  تعلیم و ترقی اور خوشحالی تھی۔تعلیم پر صرف قوم کی تعلیم و ترقی کا ہی انحصار نہیںبلکہ اس قوم کے احساس و شعور کو جلا بخشنے کی طاقت بھی مُضمر ہے۔اسلام نے انسان کی امتیازی خصوصیات میں علم شامل کیا ہے۔حضرت محمد ﷺ کواللہ تعالی نے انسانوں کے لئے معلم بنا کر مبعوث فرمایا اور آپﷺ  نے انسانی زندگی میں جو انقلاب بر پا کر دیا،اس میں تعلیم ایک کار گر وسیلہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔
مسلمانوں نے اپنے دور عروج میں جس تعلیمی نظام کو فروغ بخشاتھا،وہ تعلیم اور تربیت دونوں کا نظم کرتا تھا ۔اس نظام میں کلیدی اہمیت  انسانوں کو یعنی طلباء اور اساتذہ کوحاصل ہوتی ہے۔دور حاضرمیںاس جامع نظام ِ تعلیم کو احیاء کی ضرورت ہے۔عملاً اس کام کو انجام دینے کے لئے محض اہل علم اصحاب کو توجہ دینا ہوگی ۔پوری دنیا میں جہاں بھی مسلمان آبادی پائی جاتی ہو،وہاں اسلام کے مطلوب تعلیمی نظام کو از سر نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے ۔موجودہ دنیامیں عالم اسلام میں تعلیمی نظام میں کوئی یک رنگی نہیں پائی جاتی ہے ،جس کی وجہ سے منتشر خیال قوم پیدا ہوئی ہے۔ہر ایک اپنی اپنی جگہ الگ فکر کے ساتھ یہ سوچ رہا ہے کہ میں صحیح ہوں اور باقی سب غلط، جس کی وجہ سے قوم وحدت کا فقدان نظر آ رہا ہے ۔ 
اگر اس وقت مجموعی طورپوری دنیاپر نظر دوڑائی جائے تومسلمان تعلیم کے میدان میں بالا دستی قائم رکھنے والے والے ممالک امریکہ،لندن،آسٹریلیا،جرمنی،،فرانس وغیرہ سے بہت پیچھے ہیں حالانکہ ہمارے اسلاف نے تعلیم کے میدان میں ایسے سنگ میل چھوڑے ہیں جن سے دنیاابھی تک مستفید ہو رہی ہے۔تعلیم و تعلم ہی ہماری وراثت میں رہی ہے ۔اسی کی بُنیاد پر مسلم حکمرانوں نے دنیاپر راج کیا ہے اوراسی کی قوت تسخیر سے ملکوں اور قوموں کو مسلم سلطنت سے منسلک کیاہے۔ہماری تہذیب کی پہچان علم و قلم سے ہی تھی لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں میں تعلیمی زوال رونما ہوا جس کی وجہ سے آج پستی کی آخری حد تک پہنچے ہوئے ہیں۔اپنی قوم و ملت کے عروج کی خاطرتعلیم کی اسی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں’’ تعلیم سے تعمیر‘‘ مہم کاآغاز کرنا ہوگا۔بقول ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
 ہوجائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر
تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب 
 سونے کا ہمالہ ہو تومٹی کا اِک ڈھیر    
رابطہ۔ ستورہ ،ترال کشمیر
فون نمبر۔7006474903 

تازہ ترین