تعلیمی نظام کی ابتری کا نوحہ

اساتذہ ہی بُرائی کی جڑ نہیں،افسر شاہی کی بھی خبر لیں

تاریخ    28 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ملک منظور
سرکاری سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ  اتنے بھی نا اہل نہیں ہیں کہ ہر کوئی طعنہ کستا رہے ۔ جموں وکشمیر پچھلے تین دہائیوں سے جہاں نامساعد حالات سے جوجھ رہا ہے وہیں تعلیمی نظام کو درہم برہم کر دینے والے مختلف وجوہات کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔نوے کی دہائی میں جہاں سکولی بچوں کو بدحالی کا شکار ہونا پڑا وہیں سکولی عمارات جو کہ گنی چنی ہی تھیں،کو نذر آتش کرکے قوم کو تاریکیوں میں گم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی۔پھر دو ہزار کے ابتدائی حصے میں سرکار نے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے کچھ اقدامات اٹھانے کی ایک منفرد کوشش کی جس سے تعلیمی نظام میں کسی حد تک بدلاؤ ضرور آیا لیکن اس حد تک نہیں جس سے تعلیم یافتہ افراد کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوتا۔نامساعد حالات اور ناقص پالیسیوں نے اس نظام کو بد سے بدتر بنادیا۔لاک ڈائون،ہڑتال اور سٹرائیکوں نے لگاتار سکولوں کو تالا بند رکھا اور نتیجتاً جموں و کشمیر باقی ریاستوں کے مقابلے میں شعبہ تعلیم میں بہت پیچھے رہا۔دوہزار دو میں ملکی سطح پر سروشکھشا ابھیان نامی سکیم لاگو کی گئی جس کے تحت ہر ایک کلومیٹر کے فاصلے میں ایک پرایمری سکول کھولا گیا تاکہ ذیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم ہو اور ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں تعلیم کا رحجان بڑھے۔صوبہ کشمیر کے لئے یہ وہ زمانہ تھا جب بیروزگاری کی شرح عروج پر تھی اور پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد بہت کم تھی۔ہڑتال کی وجہ سے ڈیوٹی پر پہنچنا مشکل تھا لہٰذا سروشکھشا ابھیان نامی یہ سکیم کشمیر کے لئے کسی رحمت سے کم نہ تھی۔ گاؤں گاؤں میں سکول ہونے کے ساتھ ساتھ نزدیک کے یا گاؤں کے ہی پڑھے لکھے نوجوان بحیثیت استاد کام کرنے لگے نہ ہڑتال کا اثر اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کی عد م دستیابی سے سکول بند ہوئے۔لوگوں میں بیداری بڑھتی گئی اور خواندگی کی شرح میں اضافہ ہوتا گیا۔خواندگی  میں اضافہ نہ صرف ریاستی سطح پر دیکھا گیا بلکہ قومی سطح پر بھی نمایاں اضافہ درج کیا گیا۔
  لیکن تعلیمی معیار کو بڑھانے اور برقرار رکھنے میں جہاں موافق حالات ضروری ہیں وہیں بہترین سیاستدان ،دانشمند بیوروکریسی، سودمند اور جدید منصوبہ بندی اور زیرک و محنتی مدرسین کا کلیدی کرداربھی لازمی ہے۔بد قسمتی سے جموں و کشمیر میںتعلیمی نظام ناقص سیاست اور روایتی منصوبہ بندی کی وجہ سے دن بہ دن زوال کا شکار ہوتا گیا۔تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ کو الگ الگ گروہوں میں منقسم کیا گیا اور یوں اس عظیم منصب کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیاگیا جو آج تک حل نہیں ہوا۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ سیاست کے الٹے داؤ پیچوں نے معلمین حضرات میں ایک حقارت آمیز عداوت کو جنم دیا جو دن بہ دن طول پکڑتی جارہی ہے اور ہمارے سیاستدانوں اور نا اہل افسر شاہی نے وقفے وقفے پر اس خلیج کو کم کرنے کے بجائے اور بڑھا دیا جو اپنے آپ میں ایک المیہ سے کم نہیں ہے ۔اب نہ صرف سکولوں میں بلکہ دکانوں اور گلیوں کی ہر نکڑ پر روزانہ اساتذہ کے بارے میں ہی بحث ہوتی ہے۔جس عمارت کے ستون کمز ر ہوں وہ عمارت کبھی مضبوط نہیں رہ سکتی۔اس لئے اساتذہ کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے اور بھید بھاؤ کے عناصر کو پنپنے سے روکنا ہوگا اور ایسا گورنر راج میں ہی ممکن ہے تاکہ اساتذہ کا یہ مقدس پیشہ جو سماج میں اپنی پہچان اور رتبہ تیزی سے کھو رہا ہے، ذلت کی پستی میں اور گم نہ ہوجائے۔اگر زیرکی اور دور اندیشی سے کام نہ لیا گیا تو وہ دن دور نہیں ہوگا جب سرکاری تعلیمی نظام اپنی بچی کھچی پہچان بھی کھو دے گا۔ 
تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے انفراسٹرکچر اور موثر ومنظم طریقہ کار کا ہونا لازمی ہے جہاں اسکولوں میں ہر قسم کی سہولیات مہیا ہوں وہیں درس وتدریس کے عمل میں جدت اور جوابدہی کے عناصرکا ہونا لازمی ہے۔کاغذی گھوڑوں سے کام نہیں چلے گا۔بدنظمی اور جانب داری کا خاتمہ ازحد ضروری ہے۔سفارشات اور رشوت کی دم پر بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے اساتذہ اور سیاہ نویسوں کو وقت سے پہلے سبکدوش کیا جائے۔
 جہاں تک زمینی سطح پر دیکھا گیا ہے تو لوگ آج بھی گورنمنٹ اداروں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں اگر گورنمنٹ اساتذہ کے معاملات کو سلجھا کر ان کو جوابدہ بنائیے۔سرکاری آفیسر آفسوں کے ساتھ ساتھ سکولوں کا  نہ صرف معائنہ کریں بلکہ کارکردگی کا از خود جائزہ بھی لیں۔سکولوں کی کارکردگی کی بنیاد پر درجہ بندی کریں اور ہر گاؤں یا قصبے کے سکولوں کے لئے ایک ایماندار اور زیرک مانیٹرنگ کمیٹی رکھیں جو وقفے وقفے پر ان سکولوں کا نہ صرف معائنہ کرے گی بلکہ اساتذہ کی تربیت میں بھی کلیدی کردار ادا کریگی۔سکولوں میں جو غیر تدریسی فرائض ہیں ان کو استاد پر نہ ڈالیں یا کم کریں جیسے آئے دن مختلف قسم کے سٹیٹمنٹ کی مانگ اساتذہ پر غیر ضروری بوجھ ڈالتے ہیں اور ان کو بنیادی ذمہ داری سے دور رکھتے ہیں۔یہ تفویضات سال کے ابتدائی حصے یا آخری حصے میں پورے کئے جائیں یا پھر ڈیجٹائز کر کے اپڈیٹ کر کے رکھیں۔ اساتذہ کی تعداد جماعتوں کے حساب سے مقرر کی جائے اور مخصوص سبجیکٹ کے لئے مخصوص استاد کو متعین کریں۔جن سکولوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہو وہاں سیکشن بنا کر اساتذہ کی تعداد بھی بڑھائی جائے اور پھر مختلف ایجوکیشنل ٹیورز کے زریعے بچوں کے تجربات میں بھی اضافہ کیا جائے۔کھیل کود کے محکمے کو بھی جوابدہی کے دائرے میں لاکر اس شعبے کی کارکردگی میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے۔
تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لئے سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ پرائمری سکولوں پر فوکس کیا جائے کیونکہ پرائمری سکولوں کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے ۔اگر اس مرحلے میں بچوں کی نشوونما صحیح انداز میں ہوجاتی ہے تو پورے نظام کو سدھارنے میں مشکل نہیں ہوگی۔یہاں میں ایک المیہ بیان کرنا چاہوں گا جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایک کامیاب ادارہ کس طرح ناقص سیاست اور عدم توجہی سے تباہ ہو گیا۔سال دو ہزار نو میں گورنمنٹ نے ضلع کولگام کے ایک گاؤں تلواں پورہ قصبہ کْھل ،جہاں غریب چوپان، تیلی اور چند گوجر گھرانے رہتے ہیں،میں اسکول کھولا۔ چونکہ گاؤں میں ایک امیر طبقے کے علاوہ کوئی بچوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ نہیں کرتا تھا، اس لیے جب سکول نے جولائی میں کام شروع کیا تو چند بچے درج کئے گئے لیکن اساتذہ کی بے لوث محنت سے سکول میں بچوں کی تعداد بڑھتی گئی اور ساتھ ہی مشہوری بھی۔دو ہزار بارہ میں سکول کی عمارت کے لئے اساتذہ نے سرکاری زمین کی نشاندہی کروا کر سکول کی عمارت کی بنیاد رکھی لیکن غیر قانونی طور پر قابض لوگوں کو یہ پسند نہیں آیا اور انہوں نے روڈے ڈالنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ سکولی عمارت کو سیاست کے دم پر تعمیر ہونے سے روک بھی لیا اور دو ہزار پندرہ میں دوسرے سکول کے ساتھ کلب بھی کروایا۔نتیجہ یہ نکلا جن غریب بچوں نے بھیڑوں کے ریوڑ چھوڑ کر پڑھنا شروع کیا وہ پھر وہی کام کرنے لگے۔اساتذہ آج تک ناکام دوڈ دوپ کر رہے ہیں کہ سکولی عمارت کو تعمیر کیا جائے اور پھر سکول کو واپس بھیج دیا جائے۔ ایسے ہی بہت سارے معاملے ہیں جو عدم توجہی کے باعث آج بھی ناکامی کا ماتم کررہے ہیں۔
الغرض سرکاری تعلیمی نظام میں نکھار لانے کے لئے ضروری ہے کہ سرکار اساتذہ کو الجھنوں سے نکال کر کام کرنے پر مجبور کریں اور شعبہ تعلیم کے ہر چھوٹے بڑے آفیسر کو ذمہ دار بنا کر اپنے طرز عمل میں جدت پیدا کریں۔ غیر ضروری جانب داری کو روک کر ایک صاف ستھرا نظام رائج کریں۔
پتہ۔قصبہ کھْل نور آباد، کولگام 
ای میل۔manzoormalik3@gmail.com 

تازہ ترین