گُپکار الائنس…نااتفاقی کا اتحاد

شورِ نشور

تاریخ    27 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
سجاد غنی لون کی سربراہی والی پیپلز کانفرنس نے گذشتہ ہفتے پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ سے علیحدگی اختیار کی۔یہ اتحاد مقامی مین اسٹریم جماعتوں پر مشتمل ہے جس کا قیام گذشتہ برس ماہ اکتوبر میںعمل میں لایا گیا تاکہ’’جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے مشترکہ طورجد و جہد کی جاسکے‘‘۔اتحاد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دفعہ370کی منسوخی کے فیصلے کے رد میں ایک مفصل’وائٹ پیپر‘جاری کرے گا لیکن یہ اعلان کرنے والے سجاد لون نے خود کو ہی اتحاد سے الگ کردیا۔سجاد لون کا الزام ہے کہ حالیہ منعقدہ  ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات میں پراکسی امیدوار کھڑا کرکے اتحادی پارٹیوں کے مابین اعتماد کی خلاف ورزی ہوئی ہے ’جوعلاج سے ماورا‘ ہے۔
حالانکہ عوامی اتحاد کے لیڈران نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ اُن کی منزل انتخابات سے بالا تر ہے اور ڈی ڈی سی انتخابات محض ایک ضمنی معاملہ ہے جس میں شرکت کا واحد مقصد ’’الیکشن کے میدان میں کشمیر دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے‘‘،لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس جیسی اقتداری سیاست کی حامل پارٹیاں انتخابات کے دائرے سے باہر کچھ سوچ ہی نہیں سکتی ہیں۔اگر پیپلز کانفرنس کی طرف سے عائد کردہ پراکسی اُمیدوارکھڑا کرنے کا الزام صحیح مان لیا جائے تو مذکورہ پارٹیوں کی  اس سوچ پر تصدیق کی مہر ثبت ہوتی ہے۔
 سجاد لون نے پارٹی فیصلے سے اتحاد کے صدرڈاکٹر فاروق عبد اللہ کو مطلع کرتے ہوئے لکھا ’’ہمارے لئے اس پر (اتحاد) پرقائم رہنا اور دکھاوا کرنا مشکل ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ شراکت داروں کے مابین اعتماد کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ یہ علاج سے باہر ہے۔ ہماری پارٹی میں اکثریتی نظریہ یہ ہے کہ ہمیں معاملات کو گندگی میں مبتلا ہونے کے منتظر رہنے کی بجائے متحرک انداز میں اتحاد سے دستبرداری کرنی چاہئے‘‘۔
ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج کو لیکر عوامی اتحاد کا دعویٰ تھا ’’ کشمیری عوام نے نئی دلی کے 5اگست 2019کے فیصلوں کو مسترد ‘‘کرکے اُن کے اُمیدواروں کی جیت کو یقینی بنایا ہے۔لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی لیڈر رام مادھو کا ماننا ہے ’’عوامی اتحاد کی ڈی ڈی سی انتخابات  میں جیت کا دعویٰ بے بنیاد ہے کیونکہ اتحادی اُمیدواروں نے وادی کی140میں محض80سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل حاصل کی ہے جبکہ 30نشستیں آزاد اُمیدواروں کے حق میں گئی ہیں‘‘۔رام مادھو کے تحریر کردہ ایک مضمون کے مطابق عوامی اتحاد میں ’’پاور سٹرگل‘‘ اول روز سے جاری تھی یہی وجہ ہے کہ اتحاد میں شامل پارٹیاں کونسل چیئرمینوں اور وائس چیئر مینوں کا بھی انتخاب عمل میں نہیں لاسکی ہیں۔بھاجپا لیڈر کے مطابق ’’عوامی اتحاد میں نا اتفاقی کی بنیاد پر ہی ایک بار محبوبہ مفتی نے اتحادی پارٹیوں کی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا اور وہ صرف ڈاکٹر فاروق کی ذاتی مداخلت کے بعد ہی میٹنگ میں شامل ہوئیں‘‘۔
 مبصرین کہتے ہیں کہ بھاجپا لیڈر مادھوکے بجائے اگر اتحادی پارٹیوں کے دعوئوں کو صحیح مان لیا جائے تو اُنہیں عوامی منڈیٹ کا احترام کرنا چاہئے تھا لیکن اس کے برعکس اتحاد سے الگ ہونے کی وجوہات ڈی ڈی سی انتخابات سے متعلق باتوں کوقرار دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اتحاد کا مقصد الیکشن تھا اور کچھ نہیں۔جب الیکشن کا موسم ختم ہوگیا تو ہر پارٹی اپنے اپنے مفادات کے دائرے میں پھر قید ہوگئی۔
باخبرذرائع کا مانیں تو سجاد لون اپنے مرحوم والد خواجہ عبد الغنی لون کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور وہ اُنہیں اس بات کیلئے قائل کرنے کیلئے کوشاں ہیں کہ پیپلز کانفرنس میں سر نو شمولیت اُن کی ’گھرواپسی ‘کے مترادف ہوگی۔
ادھر پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اپنی بکھری صفوں کوکسی طرح برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے ۔چونکہ ایسا کرنے کیلئے محبوبہ اکیلی ہی میدان میں ہیں اس لئے اُن کی کامیابی کے امکانات زیادہ نہیں ہیں۔ واقف کار حلقوں کے مطابق پی ڈی پی نئی دلی کے عتاب کا شکار ہوکر ٹوٹ گئی ہے اور محبوبہ اس کو بکھرنے سے بچانے کیلئے ہر ممکن کوششوں میں مصروف ہے۔محبوبہ بخوبی جانتی ہے کہ پارٹی کو عوامی حلقوں میں زیر بحث رکھنے کیلئے منتخب اصطلاحات کا بار بار استعمال کرنا سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔یہی وہ نسخہ تھا جس کے نتیجے میں پی ڈی پی نے اپنے قیام کے تیسرے سال ہی اقتدار تک رسائی حاصل کی اور جس کا سہرہ پارٹی کے سابق سربراہ اور محبوبہ کے والد مفتی محمد سعید کے بجائے خود محبوبہ کے سر بندھتا ہے جس نے ایک ماہر کارکن کی طرح عوام کی نبض کو کامیابی کے ساتھ بھانپ لیاتھا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ محبوبہ کی خواہش ہے کہ عوامی اتحاد برقرار رہے تاکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار پی ڈی پی کو کچھ سنبھلنے کا موقع ملے۔ 
دوسری طرف نیشنل کانفرنس ،جو اب بھی وادی کشمیر میں سب سے بڑی کیڈر والی پارٹی ہے ،کے اندر بھی عوامی اتحاد مخالف آوازیں موجود ہیں جنہیں مطمئن کرنے کیلئے پارٹی صدر کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کررہے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو عین ممکن ہے کہ ’اپنی‘یا ’پیپلز‘ والے اُنہیں بھی اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعض سینئر سیاست دانوں کے ہاتھوں کسی نئی پارٹی کی داغ بیل ڈالی جائے جس میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی، یہاں تک کہ کانگریس کی کچھ ناراض آوازوں کو بھی جگہ ملے ۔اس طرح کی نئی سیاسی پارٹی کے بارے میں پہلے ہی چہ میگوئیاں جاری ہیں ۔
حالانکہ سجاد لون یقین دلاچکے ہیں کہ انہوں نے اتحاد کو طلاق دی ہے، اس کے مقاصد کو نہیں۔لیکن یہ سب بیان بازیاں ہیں جبکہ ان کی جیسی سیاسی پارٹیوں کا اصل مقصد حصول ِطاقت ہوتا ہے اور اس کیلئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔سیاسی پارٹیوں کی توسیع پسندی انتخابی جمہوریت کا حصہ ہے اور اگر سجادلون اس کیلئے فکری مخالفین کے ساتھ بھی ماضی قریب کی طرح اعلانیہ یا خفیہ الائنس کرتے ہیں تو کوئی عجب نہیں۔ 
قابل توجہ ہے کہ کشمیر میں اتحادی فورموں ، ان کی توڑ پھوڑ اور فکری مخالفین کے ساتھ گٹھ جوڑکی اپنی تاریخ ہے تاہم جموں کشمیر میں مرکزی سرکار مخالف مین اسٹریم پارٹیوں کا اتحاد شاید پہلی بار گذشتہ سال کے آخری حصے میں قائم ہوا ہے۔عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نام کا یہ اتحاد جموں وکشمیر کی متعدد مرکزی دھارے میں شامل علاقائی سیاسی جماعتوں کے مابین ایک سیاسی اتحاد ہے جس کا مقصد سابق ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی ہے اور سجاد لون اس اتحادی فورم کے ترجمان اعلیٰ تھے۔اس سے قبل ماضی قریب میں علیحدگی پسندوں کا فورم، کل جماعتی حریت کانفرنس بھی الیکشن میں مبینہ پراکسی اُمیدواروں کی بنا پر توڑ پھوڑ کا شکار ہواتھا۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ’قابل حصول وطنیت‘ کے مصنف مزاحمتی خیمے میں شامل تھے ۔ 
اُس وقت اور آج کے کشمیر میں اس سے زیادہ کچھ فرق نہیں کہ علیحدگی پسندوں کی سیاسی سرگرمیاں اب قابل ذکر حد تک کم ہوگئی ہیں جبکہ اُس زمانے میں اُنہی کا طوطی بولتا تھا۔ رام مادھو نے ’اوپن‘ میں شائع اپنے متذکرہ بالامضمون میں کشمیر کی موجودہ صورتحال کا خاکہ کھینچا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر چہ حریت کانفرنس جیسی علیحدگی پسندقوتوں کا قلع قمع کیا گیا ہے لیکن اب کشمیر میں بقول انکے ایک مختلف قسم کی سخت گیر سوچ پنپ رہی ہے۔رام مادھو لکھتے ہیں ’’کشمیر کی مساجد میں اب سیکورٹی فورسز کو دھوکہ دینے کیلئے کچھ مولوی عربی زبان میں بھارت مخالف دعائیں مانگتے ہیں۔یہاں کی مساجد میں اللہ مخرج جنودلہند فی الکشمیر(اے اللہ! بھارت کو کشمیر کی سر زمین سے باہر نکال دے)کی دعائیں مانگتے ہیں اور اس کے جواب میں لوگ اجتماعی طور آمین کہتے ہیں‘‘۔رام مادھو کشمیر کے حالات کو ’’ٹھیک‘‘ کرنے کا نسخہ پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں’’کشمیر کا بیانیہ کشمیر سے باہر تیار کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔وہ لکھتے ہیں کہ’’ کشمیر کے نوجوان طبقے میں موجوداسلامک ریڈی کلائزیشن کا مقابلہ کرنے کیلئے یہاں نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا اور اے بی وی پی جیسی طالب علم تنظیموں کی شاخیں قائم کرنے کی ضرورت ہے ‘‘۔یہاں کے ’’حالات ٹھیک کرنے‘‘ اور یہاں کے’’ مسائل کو ایڈریس‘‘ کرنے کی تجاویز ہر سیاسی پارٹی کے پاس ہیں اور جملہ پارٹیاں ان تجاویز کا بر ملا اظہار بھی کرتی رہتی ہیں۔ ایک ایسی صورتحال میں جہاں بھارت کی حکمرانی کو چیلنج کرنے والی آوازیں اب خاموش ہوچکی ہیں ،اپنی پارٹی کے سامنے ’مسائل کا حل ریاستی درجہ اور فور جی انٹر نیٹ سروس کی بحالی‘ میں مضمر ہے اورعوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ خصوصی پوزیشن کی واپسی کو مسئلے کا حل تصور کرتا ہے۔ عجب نہیں کہ اتحاد سے الگ ہوکر پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون’قابل حصول حل‘ کی دستاویز لیکر سامنے آئیں!۔

تازہ ترین