بابر اعظم کا2007 میں’بال پکر‘ سے پاکستان ٹیم کے کپتان تک کا سفر

تاریخ    24 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


پاکستانی  ٹیم کے بلے باز بابر اعظم جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کی قیادت کرکے پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی قیادت کا اعزاز حاصل کرلیں گے۔بابراعظم کو اپنا یہ سفر ایک خواب کی طرح محسوس ہوتا ہے کیونکہ 14سال قبل جنوبی افریقی ٹیم کے دورہ پاکستان کے موقع پر وہ میدان سے باہر باؤنڈری پر کھڑے ایک غیرمعروف 'بال پکر' تھے لیکن 14سال بعد وہ قومی ٹیم کی قیادت کریں گے۔جنوبی افریقہ کی ٹیم 14 سال بعد پاکستان کا دورہ کر رہی ہے اور آخری مرتبہ 2007 میں جنوبی افریقی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔اس سیریز کی خاص بات یہ تھی کہ یہ قومی ٹیم کے عظیم بلے باز اور سابق کپتان انضمام الحق کی آخری ٹیسٹ سیریز تھی۔انہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑ کر ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا سب سے کامیاب بلے باز بننے کے لیے محض چند رنز ہی درکار تھے لیکن وہ پال ہیرس کی گیند پر اسٹمپ ہو کر یہ ریکارڈ نہ توڑ سکے۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں باؤنڈری لائن کے باہر ایک بچہ بال پکر کی حیثیت سے کھڑا یہ سب مناظر دیکھ رہا تھا اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ قومی ٹیم کے موجودہ کپتان بابر اعظم تھے جن کی آنکھوں میں آج بھی وہ منظر محفوظ ہے۔تینوں فارمیٹ میں پاکستان کی قیادت کرنے والے بابر اعظم نے کہا کہ کرکٹ کے نامور ستاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کا شوق انہیں قذافی اسٹیڈیم کھینچ لایا اور وہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے 2007 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ میں بال پکر بنے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایک بال پکر کی حیثیت سے نہ صرف باؤنڈری کراس کرنے والی گیندیں پکڑتے بلکہ کھلاڑیوں کو ناکنگ بھی کرواتے تھے۔انہوں نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے کہا کہ یہ انضمام الحق کے ٹیسٹ کیرئیر کا آخری میچ تھا، انہیں جاوید میانداد کا ریکارڈ توڑنے کے لیے مزید 2 رنز درکار تھے مگر وہ اسٹمپ ہوکر پویلین واپس لوٹ گئے۔انہوں نے کہا کہ سابق کپتان کے پویلین واپس لوٹنے اور ڈریسنگ روم میں غصے سے بیٹ مارنے کا منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کراچی اور دوسرا لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جو بابر اعظم کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔
 

تازہ ترین