ماگام ہندوارہ حکومت کی نظروں سے اوجھل،عوام نالاں

طبی وتعلیمی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے آبادی کو مشکلات کا سامنا

تاریخ    24 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


اشرف چراغ
کپوارہ//ماگام ہندوارہ کا علاقہ حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے اور علاقہ میں بنیادی طبی اور تعلیمی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔علاقہ میں قائم پرائمری ہیلتھ سینٹر میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے اور اس طبی مرکز کے ایک طرف دور پہاڑی پرواقع ہونے کی وجہ سے لوگوں کو وہاں تک جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کابندوبست کرناپڑتا ہے جس کی وجہ سے ماگام علاقہ کے مریض ہندوارہ یاکپوارہ کے اسپتالوں میں علاج کرانے کیلئے جانے پرمجبور ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق پرائمری ہیلتھ سینٹر میں طبی اور نیم طبی عملہ کی سخت کمی ہے جبکہ اسپتال میں جدیدمشینری کوآج تک نصب نہیں کیا گیاہے اور لوگوں کو ایکسرے اوردیگرٹیسٹوں کیلئے دردرکی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں ۔مذکورہ ہیلتھ سینٹر میں ماہرامراض خواتین اور دیگر ماہرڈاکٹرتعینات نہیں ہیں۔مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس اسپتال کوسب ضلع اسپتال کا درجہ دیاجائے اوراسپتال میں جدیدمشینری اورسازوسامان کو نصب کرنے کے علاوہ ماہرڈاکٹروں کو بھی تعینات کیا جائے۔مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقہ کو اس طرح سے تقسیم کیا گیا ہے کہ ضلع ترقیاتی کونسل نشست سے بھی یہ علاقہ محروم ہے ۔لوگوں کے مطابق ماگام ہندوارہ میں تین ہائراسکینڈری اسکول ہیں تاہم ان اسکولوں میں جدیدمضامین پڑھانے کو کوئی انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں کے طلاب کو ہندوارہ یا کپوارہ حصول تعلیم کیلئے جانا پڑتا ہے ۔علاقہ کے لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ہم پورہ اور شوگی پورہ جیسے دوردرازعلاقوں کی پسماندہ زمرے میں نہیں رکھاگیا مگر تحصیل صدرمقام کو سیاسی بنیادوں پر پسماندہ علاقہ میں قائم کیا گیا۔

تازہ ترین