برڈ فلو نے وادی کشمیر میں دستک دے دی

چار اضلاع میں کوئوں اور مہاجر پرندوں میں تصدیق، ایڈوائزری جاری

تاریخ    24 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
 سرینگر// مرکزی وزات فشریز، اینمل ہسبنڈی اورپولٹری کی جانب سے کشمیر میں برڈ فلو کی تصدیق کے بعد جموں وکشمیر حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر کے جن 4اضلاع سے مہاجر پرنددوں اور مردہ کوئوں کے نمونے جانچ کیلئے بھوپال اور جالندھر بھیجے گئے تھے، ان میں سے کچھ ایک کوئوں اور مہاجر پرندوں میں فلو کی تصدیق ہوگئی ہے۔ مرکزی وزارت نے ایک ایڈوائزری میں کہا ہے کہ 9ریاستوں اور دیگر علاقوں میں برڈ فلو کی تصدیق ہوئی ہے  جبکہ جموں کشمیر سمیت دیگر 12ریاستوں میں پرندوں میں بیماری پھیل گئی ہے۔مرکزی وزارت حیوانات، فشریز و پولٹری نے جموں کشمیر انتظامیہ کے نام ایڈوائزری میں کہا ہے کہ برڈ فلو کی تصدیق اننت ناگ، پلوامہ، کولگام اور بڈگام اضلاع میں ہوئی ہے، تاہم ابھی تک کسی بھی پولٹری پرندے میں اس فلوکی موجودگی کے آثار نہیں ملے ہیں۔یاد رہے کہ ہمسایہ ریاستوں میں برڈ فلو کے پھیلائو کے بعد جموں وکشمیر حکام نے کشمیر درآمد ہونے والے پرندوں اور پولٹری پر پابندی عائد کی۔ لیکنپولٹری کی درآمد سے پابندی ہٹائے جانے کے صرف ایک دن بعد ہی وادی کے 4اضلاع میں کوئوں اور مہاجر پرندوں میں برڈ فلو کی تصدیق کی گئی ۔ یاد رہے کہ کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے محکمہ انیمل ہسبنڈی اور جنگلی حیات کی مشترکہ ٹیموں نے جھیل ڈل ، ولر ، ہوکرسر، ٓانچار ، مانسبل سمیت دیگر آبی زخائر سے مہاجر پرندوں کے فضلہ( بیٹ) سے نمونے حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ،جو تاحال جاری ہے ۔محکمہ میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ابھی تک قریب 90نمونے جانچ کیلئے جالندھر اور بھوپال بھیجے گئے، جس میں سے کچھ ایک نمونوں کی رپورٹ مثبت آئی ہے ۔ کشمیر میں اس فلو کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس فلو کی قسم اتنی خطرناک نہیں ہے البتہ لوگوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کوئوں اور مہاجر پرندوں کے اندر برڈ فلو کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ متحرک ہے اور ہر طرح کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا دبائواس وقت جالندھر اور بھوپال کی لیبارٹریوں پر ہے، اور گذشتہ روز ہی انہیں یہ بتایا گیا کہ کشمیر کے چار اضلاع کے نمونے بھی مثبت آئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا یہ بیماری زیادہ خطرناک نہیں ہے، تاہم لوگوں کو حکام کی جانب سے دی گئی ایڈوائزری پر عمل کرنا چاہئے ۔گذشتہ رات مرکزی وزات فشریر و انیمل ہسبنڈی اورپولٹری نے اس بات کی تصدیق کرنے کے بعدجموں وکشمیر انتظامیہ نے ایڈوائرزی جاری کی کہ کوئوں ، پرندوں ہجرت کرنے والے پرندوں ہاتھ لگانے سے پرہیز کیا جائے ۔ معلوم رہے کہ جموں وکشمیر سمیت دیگر 12ریاستوں جن میں مدھیہ پردیش ، ہریانہ ، مہارشٹرا ، چھتیس گڑھ ، ہماچل پردیش ، کجرات ، اترپردیش ، اتراکھنڈ ، دہلی ، راجستھان اور پنجاب میں کوئوں، ، ہجرت کرنے والے پرندوں  اور آوارہ پرندوں میں یہ وبائی بیماری پھوٹ پڑی ہے جبکہ 9ریاستوں میں برڈ فلو مکمل طور پر پھیل گیا ہے ۔اس دوران ضلع ترقیاتی کشمیر سرینگر ڈاکٹر شاہد چودھری نے سرینگر میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے حاشیہ پر کہا کہ یہ بیماری جنگلی پرندوں میں پائی گئی ہیں اور وہ اس کو سرسری لیتے ہیں دانشمندی نہیں ہے،بلکہ یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کئی مقامات پر پولٹری اور جنگلی پرندے مسکن کا اشتراک کرتے ہیں ،اور کئی مقامات پر انسان جنگلی پرندوں کو دانہ وغیر ڈالتے ہیں،وہاں پر انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
 

تازہ ترین