تازہ ترین

رمزِمحبت

افسانہ

تاریخ    24 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ناہید طاہر
 سیاہ شب کی خاموشیوں میں مانوس قدموں کی آہٹ پر ریان کی نظریں اس سراپے پرمنجمد ہوئیں۔
’’کبھی کبھی جلد بازی اور جذبات کی رو میں کیے گئے فیصلوں کا خمیازہ ہمیں تاحیات بھگتنا پڑتا ہے.!‘‘ریان نے ریم کے کمزور وجود کو دیکھتے ہو ئے سوچا۔وقت کے ساتھ زخم بھر تو جاتے ہیں لیکن کبھی کبھی یہ ناسور کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ہماری نادانیوں اور غلطیوں کا احساس انھیں مندمل ہونے نہیں دیتا اور یہ ناسور ہمیں موت کے اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ریم کے چہر ے پر جھلملاتا عکس ، ہجر کی روداد ، لمبی راتوں کے کرب کا غماز تھا۔’’کیوں آئے ہو؟‘‘ ریم کی کربناک آواز خاموشی کا سینہ چاک کرگئی۔
’’طویل مسافت سے تھگ گیا ہوںلیکن مجھے زیست سے کوئی شکایت نہیں ہے‘‘
’’مجھے ہے۔۔۔۔۔۔‘‘ریم کرب سے چلائی۔
ریم اس کی عم زاد تھی۔۔۔۔۔۔ جوانی کی بیل ایک ہی آنگن میں پروان چڑھی تھی۔ریان کو ریم سے جنون کی حد تک محبت تھی۔دل کی ہر خوشی اور بے کلی اسی کے وجود سے وابستہ تھی۔لیکن افسوس جذبات کی شدید وابستگی کے باوجود ریان کو ریم کی ذات سے سوائے بے اعتنائی کے کچھ حاصل نہ ہوسکا۔درد کی کسک اتنی بڑھ گئی کہ وہ رات بھرکروٹیں بدلتارہتا۔دل، وجود اور خواب گاہ، سگریٹ تلے دھواں دھواں ہوجاتے ایسے میں وہ چھم سے اپنی پائل چھنکاتی، بنا اجازت خوابوں کی گلیوں سے ہوتی ہوئی ریان کی پلکوں پر جھولا جھولنے لگتی۔وہ اسے تھامنے کی کوشش کرتا۔۔۔دبوچ لیناچاہتا۔۔۔۔لیکن ایک آندھی اٹھتی۔۔۔ آنکھوں کا سمندر اور اس کی سرکش لہریں ریم کے وجود کو کہیں دور بہا لے جاتے۔’’ریم ۔۔۔! ‘‘ ریان بے خودی کے عالم میں چلاتا ، آنکھیں مسلنے لگتا وہاں بہتی موجوں کے علاوہ کچھ نہ ہوتا۔ اس کربِ نارسائی پر نڈھال وہ بری طرح ہانپنے لگتا۔
ریم اکثر بڑی معصومیت سے استفسارکرتی۔’’تمھیں مجھ سے محبت ہے؟ ‘‘
’’مجھے تم سے جنوں کی حد تک عشق ہے !!‘‘تب وہ قہقہ بلند کرتی ہوئی گویا ہوتی۔ 
’’کاش مجھے بھی ہوتی!!‘‘ریان بھنا جاتا۔ 
’’کیا واقعی ، تمھیں مجھ سے محبت نہیں؟‘‘
’’محبت۔۔۔۔۔؟یہ فلسفہ سمجھ نہیں آتا۔۔۔۔۔۔تشریح کردیں ‘‘
’’محبت بہت ہی پاک اور مقدس جذبہ ہے ۔۔۔۔۔۔جو صرف خوش نصیب دامن کوترکیے مسکراہٹ بکھیرتا ہے!!
ریان اپنی آنکھوں کی نمی سگریٹ کے دھوئیں میں چھپاتے ہوئے استفسار کرتا۔’’سچ کہو۔۔۔۔۔۔تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے ناں؟‘‘
’’نہیں ‘‘ وہ قدرے توقف سے گویا ہوتی۔
’’ضروری نہیں کہ محبت دو طرفہ ہو۔ محبت یک طرفہ بھی ہوسکتی ہے!!‘‘
’’تکبر کی چٹانوں سے ماتھا ٹکرانے کے بجائے اپنی ناکام محبت کا جنازہ اٹھائے تمہاری نظروں سے روپوش ہونا چاہتا ہوں‘‘
تب وہ غصے سے سرخ ہوجاتی۔’’پھر تو یہ ،محبت نہیں سودا ہوا۔۔۔۔۔۔محبت کے عوض محبت ،ورنہ راہ فرار !! یہ کیسی محبت ہوئی؟‘‘
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے 
  اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔۔۔۔وہ ہنستی ہوئی گنگناتی۔
ریان کئی سالوں بعدلوٹا تھا۔۔۔۔۔۔وفا کی پاسداری کرتی ہوئی ریم ،  وہیں کھڑی تھی ، جہاں سے ریان نے اپنے قدم پیچھے لیے تھے۔پتھر کے کسی مجسمے کی طرح !!لہجے میں بے پناہ نفرت لیے وہ دوبارہ چلائی۔
’’جو لوگ محبت کے محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں۔۔۔وہی بہادر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔بُزدل وہ ہوتے ہیں جو میدان چھوڑ جاتے۔۔۔۔۔۔ مجھے بزدلوں سے نفرت ہے۔‘‘یہ سن کر ریان دھیرے سے مسکراتا ہواگویا ہوا۔
’’ ضد اور اناکے محاذ پر کھڑے ہوکر محبت کی جنگ جیتی نہیں جاتی!!ویسے آج اس طُرفہ انتظار کا مفہوم سمجھ آیا‘‘ ریان کچھ توقف بعدآگے بڑھا اورریم کے بکھرے وجود کو تیزی سے بانہوں میں بھر لیا۔۔۔۔۔۔وہ تڑپ اٹھی۔خود کو آزاد کرنے کی کوشش کرتی رہی!! کئی ساعتیں اسی کشمکش میں گزر گئیں۔آخرحُسن تھک گیا۔ریم نے سرگوشی میں اپنی ہار کا اقرار کرتے ہوئے دل کے بند خانوں سے رمزمحبت کومعطر فضاؤں میں آزاد کیا۔
���
رابطہ؛ریاض،سعودی عرب،00966504509215