افسانچے

تاریخ    24 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


حبیب ہمراز

مصروفیت

 بیٹا جعفر!گیس لیک ہورہی ہے۔ جلدی آؤ سلینڈر کو باہر نکالنے میں میری مدد کرو۔۔جعفر او جعفرتم سنتے نہیں۔ماں نے چلاتے ہوئی پکارا۔
جعفر موبایٔل ہاتھ میں لیکر اتنا مشغول تھاکہ اُس نے کچھ سُنا ہی نہیں۔ماں دوسرے کمرے میں بیٹھے دوسرے بیٹے ارشد کو پکارنے گئی لیکن وہ ٹانگیں پسارے موبایٔل ہاتھ میں لیکر دنیا و مافیہا سے بے خبر اوں آں کرتا رہا۔وہ پھر جعفر کے پاس دوڑی۔,,ماں ایک منٹ ٹھہروبس ختم ہی ہونے والا ہے۔کچھ منٹ لگ جائینگے۔ ارے گیس لیک ہورہی ہے۔سارے گھر میں پھیل رہی ہے۔آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ وہ دوبارہ ارشد کو پکارتی رہی۔ماں ٹھہرو۔ارے یہ مارا ۔کیا نشانہ ہےـ۔ٹھا!ٹھا! ارشدخوشی سے چلایا۔جب ماں نا امید ہوئی۔تو اُس نے گیس سلینڈر کو گھسیٹتے ہوئی باہر نکالنے کی کوشش کی۔
کچھ دیر کے بعددونوں بھائیوں کو گھٹن سی محسوس ہوئی۔وہ دونوں پکارنے لگے ماں یہ بُو کیسی آرہی ہے۔۔۔وہ کچن میں چلے گئے۔ماں کچن کے دروازے سے باہر پڑی کرارہی تھی۔اُس کی ٹانگ ٹوٹ چکی تھیں۔سلنڈر صحن میں ایک طرف پڑا تھا۔

گناہوں کا کفارہ

  اُس نے ایک بڑی رقم بطورِ کفارہ مقدس آدمی کی خدمت میں پیش کی اوراپنے گناہوں کا اعتراف کرکے اُن کو درگذر کروانے کی دُعاء کے لئے درخواست کی۔مقدس آدمی نے رقم سمیٹتے ہوئے دوسرے دن آنے کی ترغیب دی۔دوسرے دن آتے ہی اُس کو گناہوں کے معاف ہونے کی اطلاع دی اور کہاکہ اب تیرے نام کوئی گناہ نہیں ہے۔گناہوں سے تیری جولی خالی ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سمایا اور دیوانہ واراُچھلنے کودنے لگا۔
مُقدس آدمی نے پُوچھا۔۔۔۔یوں کیا ہوا؟یہ کیا دیوانگی ہے؟کیا بتاؤں محترم ۔۔۔میں کتنا خوش ہوں۔۔۔
اب مجھے خالی جولی دوبارہ بھرنے کی کُھلی چُھوٹ ہے۔

تصویر

ہم ایک سال سے وٹس اپ پرایک دوسرے کے ساتھ چیٹ کر رہے  ہیں۔ایک دوسرے کے متعلق بہت کچھ جان چکے ہیں۔کیوں نہ ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی تصاویر اور مکمل پتہ بھیجدیں۔سہیل عباس نے راحیلہ کو تجویز پیش کی جو اُس نے خوشی خوشی قبول کی اور کہا کہ پہلے آپ اپنی تصویر اور ایڈرس بھیج دیں کیوں کہ پہل مردوں کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔اسطرح انہوں نے ایک دوسرے کو اپنی اپنی تصاویر اور پتے بھیج د یئے۔سہیل عباس نے ایک دلکش تصویر بھیج دی۔۔۔دوسرے دن انہوںنے بڈشاہ باغ میں ملنے کا پروگرام بنایاتاکہ شادی کیلئے ضروری اقدامات کے جائیں۔طے پایا کہ سہیل عباس سفید لباس پہنے ہاتھ میں سُرخ  رومال لئے تالاب کے پاس پہنچیں گے تاکہ ایک دوسرے کی کسی دِقت کے بغیر پہچان ہو جائے۔
سہیل عباس وقت مقر رہ پر تالاب کے کنارے بینچ پربیٹھا راحیلہ کے انتظار میں تھا۔تھوڑی دیر کے بعد راحیلہ بھی پہنچی لیکن راحیلہ کودھچکا لگا۔۔یہ تو وہ نہیں ۔لباس تو وہی ہے۔لیکن 
تصویر۔۔۔کیا معاملہ ہے۔وہ چکرا گئی۔لیکن چُٹکی میں وہ یہ سمجھ گیٔ کہ سہیل شرمیلا ہے۔شاید۔۔اس 
لئے اُس نے ڈیڈی کو بھیجا ہے۔اب مجھے با ادب اُس کے سامنے جانا ہے۔اُس نے سر پر اچھی طرح دوپٹہ سجایا  اور باعزت و احترام اُس کو سلام کیااور کہاڈیڈی جان کیا سہیل صاحب نہیں آئے۔۔۔
ڈیڈی لفظ سُن کر سہیل عباس دُم دباکر بھاگ گیا۔
 
تارزو سوپور،موبائل نمبر؛8899039440
 

 

تازہ ترین