تازہ ترین

کسانوں اورحکومت کے مابین 11ویں دور کی بات چیت بے نتیجہ

تاریخ    23 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 نئی دہلی// کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین جمعہ کے روز 11 ویں دور کی میٹنگ فریقین کے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کے سبب بے نتیجہ رہی۔ حکومت نے اگلی میٹنگ کی کوئی تاریخ متعین نہیں کی ہے۔ نئے زرعی قوانین سے متعلق کسان لیڈروں سے بات چیت میں اب حکومت سخت ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ جمعہ کی میٹنگ میں حکومت کی طرف سے واضح پیغام دیا گیا کہ جب تک ڈیڑھ سال والے پرپوزل پر کسان غور نہیں کریں گے تب تک بات چیت ممکن نہیں ہے۔ میٹنگ کے دوران مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسان لیڈروں سے کہاکہ ’حکومت آپ کے تعاون کے لئے شکر گزار ہے۔ قانون میں کوئی کمی نہیں ہے، ہم نے آپ کے احترام میں تجویز پیش کی تھی، آپ فیصلہ نہیں کرسکے۔ آپ اگر کسی فیصلے پر پہنچتے ہیں تو مطلع کریں، اس پر پھر ہم بات چیت کریں گے۔ آگے کی کوئی تاریخ طے نہیں ہے’۔دراصل 10 ویں راونڈ کی میٹنگ میں حکومت کی طرف سے کسان لیڈروں کو یہ پرپوزل دیا گیا تھا کہ ہم ڈیڑھ سال تک نئے قانون کو معطل رکھیں گے۔ اس پر کسان لیڈروں سے تبادلہ خیال کرنے کے لئے کہا گیا تھا، لیکن 11 ویں راونڈ کی میٹنگ سے پہلے کسان لیڈروں کی طرف سے واضح کردیا گیا کہ اس پرپوزل پر کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا جائے گا اور قانون واپسی ہی صرف ایک آندولن روکنے کا متبادل ہے۔حکومت نے کہاکہ ہماری طرف سے بہترین اور آخری آفر تھا۔۔اب حکومت کی طرف سے واضح کردیا گیا ہے کہ ڈیڑھ سال تک قانون کو روکنے کا پرپوزل ان کا ’آخری سرحد’ تھا۔ کسان لیڈروں سے اس پرپوزل پر دوبار تبادلہ خیال کرنے کو کہا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ بھی واضح کردیا گیا کہ قانون میں کوئی کمی نہیں ہے۔ اس کا واضح پیغام ہے کہ حکومت قانون پر پوائنٹ کے ساتھ تبادلہ خیال کرسکتی ہے۔
 

تازہ ترین