جمعہ کو 3003طبی عملے نے ٹیکے لگوائے

تعداد 10ہزار تک پہنچ گئی

تاریخ    23 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
 سرینگر // سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں شعبہ امراض چھاتی کے سربراہ اور سٹیٹ ایمونائزیشن آفیسر جموں و کشمیر سمیت جمعہ کو مزید 3ہزار سے زائد ہیلتھ ورکروں کو کورونا مخالف ٹیکے لگائے گئے اور اسطرح جموں و کشمیر ابتک 10ہزار ہیلتھ ورکروں کو کورونا مخالف ویکسین دیئے گئے ہیں۔جمعہ کو سی ڈی اسپتال میں سب سے پہلے کورونا مخالف ٹیکہ لگوانے والے ڈاکٹر نوید نذیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ٹیکہ لینے کے بعد مجھ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ میں ہلکا بخار اور جسم میں درد کی اُمید کررہا تھا لیکن وہ بھی نہیں ہوا ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کرانے کے بعد میں تمام ہیلتھ ورکروں سے کہوں گا کہ وہ اپنے لئے اور اپنے اہلخانہ کے علاوہ دیگر لوگوں کیلئے ویکسین لگوائیں کیونکہ جب وہ محفوظ رہیں گے ، تبھی انکے اہلخانہ اور دیگر لوگ بھی محفوظ رہیں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ لوگ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ ویکسین لینے سے بیماریاں ہورہی ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ ٹیکہ لینے کے بعد عام طور پر ہونے والا بخار 24گھنٹوں تک رہتا ہے لیکن کورونا ویکسین سے نہ تو بخار ہوتا ہے اور نہ اور کوئی بیماری ،اور اسلئے ہر ہیلتھ ورکر کو ویکسین لینا چاہئے۔ جموں و کشمیر میں وبائی بیماریوں کے خلاف ٹیکہ کاری کیلئے تعینات سٹیٹ ایمونائزیشن آفیسر ڈاکٹر قاضی ہارون نے بتایا ’’ جمعہ کو مجموعی طور پر 3003ہیلتھ ورکروں کو کورونا مخالف ٹیکہ لگوائے گئے اور اسطرح 16جنوری سے اب تک 10ہزار ہیلتھ ورکروں کو ویکسین دی گئی ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہیلتھ ورکروں کو راغب کرنے کیلئے میں نے  خود اور ڈاکٹر نوید نذیر نے ویکسین لگلوائے ‘‘۔ڈاکٹر قاضی ہارون نے کہا ’’ سیرم انسٹی  ٹیوٹ آف انڈیا میں لگی آگ سے کورونا مخالف ٹیکہ کاری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ آگ اس بلاک میں لگی ہے جہاں Rota virusمخالف ویکسین تیار ہورہی تھی‘‘۔ڈاکٹر قاضی ہارون نے کہا ’’ کورونا وائرس کو جموں و کشمیر سے ختم کرنے کا واحد ذریعہ ویکسینیشن ہے اور یہ ویکسینیشن انتہائی محفوظ ہے‘‘۔
 

تازہ ترین