غنی کشمیری کے نام کھلا خط

میرے وطن کے کوہ نور !

تاریخ    23 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


منظور انجم
تیری علمی عظمتوں ، فکری رفعتوں ، تیرے جنون اور تیری سادگی کو میرے روم روم کا ، میرے زمانے کا ، کشمیر کے فلک بوس پہاڑوں ، برف پوش چوٹیوں ، حسین و جمیل وادیوں ، پھولوںو کلیوں ، دم توڑتی جھیلوں ۔ خشک آب گاہوں اور انسانی خون میں نہائے ہوئے ندی نالوں، آبشاروں اور دریاوں کا سلام !
 کشمیر کو قدرت نے جو کچھ بھی عطاکیا ہے وہ آپ سے مانوس ہے ۔ جن پہاڑیوں پربیٹھ کر آپ غور وفکر کیا کرتے تھے ، جن دریائوں کے کناروں پر آپ پانی کے مٹکے بھرتی حسین دوشیزائوں کو دیکھ کرصناعی قدرت کی سحرانگیزیوں میں کھوجاتے تھے ۔ جن جنگلوں اور چراگاہوں میں آپ ادھ ننگے کشمیریوں کو خون پسینہ ایک کرتے دیکھ کر بغاوتوں اور انقلابوں کی باتیں سوچا کرتے تھے، ان کے سارے نظارے ،سارے پیڑ پودے ،ساری کلیاں اور سارے پھول آپ کو جانتے ہیں لیکن اسے ہماری قومی بے حسی کہئے ،بے مروتی کہیے ، جہالت کی انتہا کہئے یا بدبختی کہئے کہ اس سرزمین پر رہنے والے انسانوں کے لئے آپ اب اجنبی ہوکر رہ گئے ہیں ۔ ہمارے بچے شیکسپیر کو جانتے ہیں ۔ جان کیٹس کے گیت گاتے ہیں ۔ غالب کی غزلیں بھی سنا کرتے ہیں اور اقبال کے ترانے بھی گاتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کی اپنی سرزمین نے ایک ایسی ہستی کو بھی جنم دیا ہے جو بے شک ان سب سے بلند و برتر تھی ۔ آپ کے اس دنیا سے چلے جانے کے وقت کشمیر کی درباری زبان فارسی تھی ۔ اس کے بعد کافی عرصہ تک یہی زبان کشمیر کی درباری زبان رہی لیکن اس دوران کشمیری زبان نے بھی کافی فروغ حاصل کیا اور کئی ایسی برگزیدہ شخصیات کشمیر کی سرزمین پر پیدا ہوئیں جنہوں نے کشمیری زبان میں بے مثال علمی اور تخلیقی کام کیا۔ کشمیر اُس وقت فکر کی لامتناہی بلندیوں کو چھورہا تھا جب برصغیر فکر و علم کے اعتبارسے بہت کھوکھلا تھا ۔ اردو زبان ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی جب لل عارفہ کشمیری میں تصوف اور فلسفے کے انمول موتی پرورہی تھیں ۔ حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ نے کشمیری زبان میں علم و ہدایت کے وہ چشمے رواں کئے جو اب بھی پیاسوں کی پیاس بجھاتے ہیں ۔اس کے بعد بھی بڑی بڑی ہستیاں پیدا ہوئیں جنہیں دنیا کے کسی بھی علم و ادب کے ستارے کے مقابلے میں فخر کے ساتھ کھڑا کیا جاسکتا ہے لیکن شخصی دور کے خاتمے کے بعد کشمیری ذہن ایسے بدلا کہ اس نے اپنا سب کچھ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ۔اسے اپنی ہر چیز میں اپنی وہ کسمپرسی، وہ مظلومیت اور محکمومیت نظر آئی جو غلامی کے طویل اندھیروںکی دین تھی ۔اسے لگا کہ اس کا فیرن بھی پسماندگی کی علامت ہے ، وہاب کھار بھی ، رسول میر بھی اور مہجور بھی۔ چنانچہ اس نے اپنا افتخار علامہ اقبال ، غالب اورمحمود غزنوی میں تلاش کرنا شروع کردیا۔اسی راستے سے ’’ ترقی ‘‘کرتے کرتے اس کی نسلیں جان کیٹس اور شیکسپئر سے ہوتے ہوئے مائیکل جیکسن تک پہنچ گئیں ۔ حالانکہ کچھ لوگ ابھی بھی اقبال کی شاعری کے ہائیڈ آوٹ میںہی چھپے بیٹھے ر ہے۔ وہ نئی نسل کی جیکسن پرستی کو تہذیبی جارحیت کہتے ہیں اور نئی نسل کو اس سے روکنے کے لئے علماء سے ہر چھ مہینے کے بعد ایک بہت بڑی مہم چھیڑنے کی اپیل کرتے ہیں مگر اے میرے محبوب ْ! اگر انہوں نے آپ کی شاعری کا ترجمہ ہی پڑھا ہوتا تو وہ اپنی ساری عینکوں کواتار کر کہتے کہ بے شک کشمیر میں وہ کچھ ہے جو اور کہیں بھی نہیں ، کہیں نہیں ، بالکل نہیں۔ اورانہیں اس بات پر افسوس ہوتا کہ انہوں نے اقبال اورغالب پرستی کے راستے سے ہی کشمیری ذوق کو جیکسن تک پہنچایا ۔ انہیں یہ بات بھی ایک سانحے سے کم نہیں لگتی کہ آج کشمیر یونیورسٹی میں اقبال لائبریری بھی ہے اور اقبال چیر بھی لیکن غنی کشمیری یہاں بھی برائے نام ہی ہے شاید اس لئے کہ سیاست کے بازار میں غنی کا کوئی مول نہیں ۔آج کے دور میں وہی عالم ، وہی دانشور ، وہی شاعر اور وہی فلسفی سربر آوردہ ہے جس کی سیاست کے بازار میں مانگ ہے اورمیرا غنی تو ’’ دیوانہ ‘‘ تھا ۔ سیاست سے اس کا واسطہ ہی کیا ۔ اس کی شاعری میں کوئی شکایت نہیں ، کوئی درس نہیں ، کوئی ہدایت نہیں ، کوئی نصیحت نہیں، کوئی تاریخ نہیں اور کوئی خواب نہیں ۔اس لئے اسے سیاست کے بازار میں نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ خریدا جاسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ غنی کشمیر ی کو یاد کرنا تو دور اس کے مزار کی ویرانی پر بھی کسی کی نظر نہیں جاتی اوراس کا وہ مکان جس میں اس نے زندگی کے شب و روز گزارے تھے، ناجائز قبضوں کی زد میں آچکا ہے ۔ سرکار نے جس روز سے اسے قومی یادگار قرار دینے کا اعلان کیا، اسی روز سے اس کے در و دیوار گرنے لگے اور آس پاس کے لوگ اس کی زمین پر قابض ہونے لگے ۔ اب جب بھی میں یہ مکان دیکھتا ہوں اور اس کے ساتھ ہی غنی کی یاد میں تعمیر کیا گیا غنی سٹیڈیم دیکھتا ہوں تو میں خون کے آنسو رونا چاہتا ہوں۔غنی کا مکان ہماری بے حسی پر رورہا ہے ۔ آنے والے چند سال کے اندر اس کا کوئی نشان بھی نہیں ملے گا۔ اس کی جگہ کوئی نیا مکان تعمیر ہوچکا ہوگا ۔غنی سے مزار پر لوہے کا جنگلہ نہ ہوتا تو اس کا بھی کوئی نشان نہ ملتا ۔ اس کے باوجود بھی اس مزار کو خود رو گھاس نے ڈھک دیا ہے ۔
  میرے وطن کے بلبل !
 آ پ کو کھلا خط لکھنے کی جرأت میں کبھی نہیں کرتا ۔ایسے الفاظ کہاں میرے پاس ہیں یا اس زبان میں ہیں جس میں میں لکھتا ہوں جو آپ کے نازک احساسات کے شایان شان ہوں ۔لیکن کچھ روز پہلے اچانک میرا گزر راجوری کدل سے ہوا ۔ آپ کے مکان کو دیکھا تو خیال آیا کہ اس کے سامنے ہی وہ چشمہ یا نالہ رہا ہوگا (جو اب موجود نہیں)میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر کھلاکہ نالے کے قریب ہی ایک درخت کے نیچے ٹیک لگائے وہ تھکا ہارا ایرانی شاعر بیٹھا ان خوبصورت پری چہرہ خواتین کو دیکھ رہا تھا جو برتن دھو تے ہوئے ایک دوسرے سے محو گفتگو تھی۔انہیں دیکھ کر اس کے لبو ںپر ایک مصرعہ آیا جسے وہ بار بار دہرا رہا تھا لیکن دوسرا مصرعہ اسے نہیں سوجھ رہا تھا ۔ قریب ہی ایک فقیر جیسا انسان چادر تانے دراز تھا، اس نے چہرے سے چادر ہٹادی اور دوسرا مصرعہ کہہ ڈالا ۔ایرانی شاعر کے منہ سے چیخ نکل گئی ۔’’ تم ہی غنی ہو ، اور کوئی نہیں ہوسکتا ‘‘۔یہ ایرانی شاعر ایران سے پیدل چل کر آپ سے صرف آپ کے ایک شعر کے ایک لفظ ’’ کرالہ پن ‘‘ کا مطلب دریافت کرنے کے لئے آیا تھا ۔وہ آپ کے گھر بھی پہنچا تھا لیکن ہمیشہ آپ کے گھر کو تالہ بند پاتا تھا اور جب آپ کے گھر پر تالہ نہیں ہوتا تھا تو آپ وہاں موجود نہیں ہوتے تھے ۔پھر کسی سے پوچھنے پر اسے معلوم ہوا کہ غنی جب گھر میں ہوتا ہے تو باہر سے گھر کو تالہ لگواتا ہے اور جب وہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو گھر کھلا ہوتا ہے ۔پھر جب اس نے آپ سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے کہا کہ میرے گھر میں سب سے قیمتی شئے تو میں ہی ہوتا ہوں اس لئے اپنی حفاظت کیلئے تالہ لگواتا ہوں، جب میں نہیں ہوتا تو پھر وہاں کیا ہوتا ہے ۔حیرت کی بات ہے کہ آپ کو اُس وقت انسانی جان کی قدر و قیمت کا اتنا احساس تھا کہ آپ اسے دنیا کی ہر شئے سے بلند و برتر مانتے تھے ۔ حالانکہ وہ بادشاہوں کا زمانہ تھا جو شوقیہ طور پر بھی کسی کا سر کاٹ ڈالتے تھے ۔آپ کو بھی ایک بار وقت کے بادشاہ نے بلاوا بھیجا تھا لیکن آپ نے قاصد سے کہلوا بھیجا کہ ’’ غنی کسی بادشاہ سے نہیں ملنے جاتا ‘‘ ۔ یہ آپ کی خود داری تھی حالانکہ آپ یہ بھی جانتے تھے کہ بادشاہ غصے میں آکر آپ کا بھی سر کٹوادیتا لیکن آپ کو انسانی جان کی قدر و قیمت کا جتنا اندازہ تھا، اس سے زیادہ خود ی کا ادراک و احساس تھا ۔حیرت یہ ہے کہ اُس وقت جب آپ کی زندگی میں آپ کا شہرہ ایران ،جو اس وقت علم و دانش کا بڑا مرکز تھا ،تک پہنچا، آپ کے اپنے لوگوں نے آپ کو ایک دیوانے سے زیادہ بڑا مقام نہیں دیا۔حالانکہ آپ کو اس کی پرواہ بھی نہیں تھی کہ کون آپ کو کیا سمجھتا ہے ۔ آپ اپنی ہی دھن میں مگن تھے ۔لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس بات پر سر پیٹوں یا روئوں کہ آج ایران میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی کئی زبانوں میں آپ کی شاعری کے ترجمے لوگ پڑھ رہے ہیں مگر کشمیر میں چند لوگ ہی ایسے ہیں جو آپ کے نام سے واقف ہیں ۔آپ کے نام پر آپ کے گھر میں ایک لائبریری قائم کی گئی تھی جو اب برائے نام ہی ہے ۔ایک سٹیڈیم ہے لیکن سٹیڈیم سے آپ کا کیا لینا دینا ۔ آپ نے کبھی نہ کرکٹ کی گیند دیکھی نہ فٹ بال کی۔ آپ لفظوں کے جادوگر تھے اور لفظوں سے کھیلتے تھے ۔آپ کے نام کی یادگار ایک لائبریری ہی ہوسکتی تھی ۔
میرے وطن کے گوہر نایاب؛ مجھے جو کہنا ہے ابھی نہیں کہہ پایا ہوں۔ مجھے آپ سے بہت سی باتیں کرنی ہے کیونکہ میں جس دور میں جی رہا ہوں، اس کا کرب آپ کے سوا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے ۔ آپ کا وطن آج ایک ملک نہیں جو آپ کے زمانے میں تھا ۔ ایک ریاست بھی نہیں جو آپ کے بعد تھی ۔ اب یہ یونین ٹیریٹری ہے ۔میں یونین ٹیریٹری سے آپ سے مخاطب ہورہا ہوں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یونین ٹیریٹری کے قوانین گزر ے زمانے کے ایک دانشور کو کھلا خط لکھنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں ۔ انجام جو بھی ہو میں آپ سے بات کروں گا اور ضرور کروں گا ۔
 

تازہ ترین