تازہ ترین

سکمز صورہ کا اہم سنگ میل ،بچے کا بون میئرو تبدیل

جموں کشمیر میں پہلی بار اس طرح کی جراحی عمل میں لائی گئی

تاریخ    22 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے شعبہ کلنیکل ہیموٹالوجی نے اہم سنگ میل سر کرتے ہوئے جموں کشمیر میں پہلی بار ایک 8سالہ بچے کا بون میئرو تبدیل کیا۔سکمز میں شعبہ ہیمو ٹالوجی شعبہ کی جانب سے یونین ٹریٹری جموں کشمیر میں پہلی بار ایک کم سن مریض کا بون میئرو اور خون کے خلیہ تبدیل کرنے کی کامیاب جراحی انجام دی جو (Beta thalassemia major) کی بیماری میں مبتلا تھا۔ شعبہ ہیمو ٹالوجی کے سربراہ ڈاکٹر جاوید رسول بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو  بتایا ’’ خون میں دو اقسام کے خلیہ موجود ہوتے ہیں جن میں ایک کو  Alfa اور دوسرے قسم  کو Beta کہا جاتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ چند مریضوں میں Betaخلئے کم یا موجود نہیں ہوتے اور اس بیماری کو Beta thalassemia majorکہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8سالہ بچے میں میں بھی خون کےBetaخلئے موجود نہیںتھے اور ایسے بچے کا علاج صرف بون میرو تبدیل کرکے کیا جاتا ہے‘‘۔ڈاکٹر جاوید نے بتایا ’’8سالہ یہ بچہ جنم کے 8ماہ بعد ہی اس بیماری کا شکار تھا اور علاج کیلئے بیرون ریاست بھی منتقل ہوا‘‘۔جاوید رسول نے کہا کہ بچہ کو ایمز منتقل کیا گیا جہاں جراحی پر 10لاکھ روپے کا کل خرچہ آرہا تھا لیکن بچہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، لہٰذا اس کے والدین کی اتنی استطاعت نہیں تھی کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرتے۔انہوں نے کہا ’’ مالی حالت مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے بچے کے والدین نے جراحی کشمیر میں ہی کرانے کو ترجیح دی‘‘۔ ڈاکٹر جاوید نے بتایا ’’ بچے کے رشتہ داروں سے بون میرو کو ملایا گیا لیکن صرف اسکی بہن کا خون اس سے مل گیا ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسکی بہن سے بون میئرو حاصل کرکے خلئے تبدیل کردیئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ جراحی کافی مشکل اور نازک ہوتی ہے اور اگر بیمار کا جسم خلیوں کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کیلئے یہ جان لیواثابت ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی حالت مستحکم رہنے کی صورت میں آئندہ چند دنوں کے دوران اس کو گھر منتقل کیا جائے گا۔ Beta thalassemia major نامی بیماری کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے ڈاکٹر جاوید نے کہا ’’ یہ بیماری اکثر بیرون ریاست کے لوگوں میں پائی جاتی ہے لیکن کشمیر میں ان مریضوں کی تعداد کافی کم ہے‘‘۔ڈاکٹر جاوید رسول نے کہا کہ کشمیر میں اس بیماری کے صرف 6مریض ہی آج تک سامنے آئے ہیں جن میں 3اوڑی جبکہ دیگر 3وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ شعبہ ہیموٹالوجی کی کامیاب جراحی پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر سکمز نے ڈاکٹر جاوید اور انکی ٹیم کے کام کو سراہا اور انہیں مبارک باد دی ہے‘‘۔