تازہ ترین

حکومت نے پولٹری پر عائد پابندی ختم کردی

لور منڈا میں نمونے لئے جائیں گے، ڈیلروں کیلئے طریقہ کار وضع

تاریخ    22 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


مکیت اکملی
سرینگر//جموں وکشمیر انتظامیہ نے دیگر ریاستوں سے پولٹری کی درآمد پر عائد پابندی ختم کردی کیونکہ مرکزی زیر انتظام خطے میں برڈ فلو کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔اس سلسلے میںپرنسپل سکریٹری افزائش جانور(انیمل ہسبنڈری) نوین کمار چوہدری نے جموں و کشمیر میں مرغ کی درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس سے قبل ہمسایہ ریاستوں ہماچل پردیش اور ہریانہ میں برڈ فلو کے واقعات کی اطلاع ملنے کے بعد حکومت نے پولٹری مصنوعات کی درآمد پر پابندی کا حکم دیا تھا۔اس سلسلے میں یہ حکم جاری کیا گیا ہے ’’ملک میں برڈ فلو کی روک تھام اور اس کے پھیلاؤ کی سخت نگرانی کے طریقہ کار کے پیش نظر اور مرکزی حکومت کے محکمہ فشریز وافزائش جانور اور ڈیری کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق پولٹری بشمول زندہ مرغ کی درآمدپر مرکزی زیر انتظام جموں کشمیر میں19جنوری سے غیر متاثرہ علاقوں سے اور برڈ فلو سے متاثرہ زون کے 10 کلو میٹر کے دائرے سے باہر علاقوں سے کوئی بھی پابندی عائد نہیں ہوگی۔‘‘حکام میں مزید کہا گیا ہے کہ اہم ، درآمد کنندگان وسپلائی کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ اس نے متعلقہ ضلع کے ضلعی ویٹرنری آفیسریا چیف انیمل ہسبنڈری سے متعلق افسر سے سرٹیفکیٹ حاصل کی ہو کہ پولٹری کو کسی بھی متاثرہ علاقے و مشتبہ علاقے سے نہیں لایا گیا ہے اور نشاندہی کئے گئے برڈ فلو سے متاثرہ  علاقوں کے 10 کلومیٹر کے دائرے میں نہیں ہے۔انتظامیہ نے مزید ہدایت کی ہے کہ ڈائریکٹر انیمل ہسبنڈری کشمیر میں لور منڈا میں ایک مضبوط نگرانی مرکز قائم کرے گی تاکہ جانچ کے لئے پولٹری لے جانے والی ہر گاڑی سے نمونے اٹھائے جائیں اور ڈائریکٹر  جموں لکھن پور میں ہر کھیپ سے نمونے کی جانچ سمیت نگرانی کے نظام کو مزید تقویت پہنچائیں گے۔ مزید یہ کہ تمام انیمل ہسبنڈری  افسران نگرانی کے مقصد کے لئے روزانہ کی بنیاد پر پولٹری کے درآمد کنندگان ، پولٹری فارموں اور فروخت کے مقامات پر جانے کا قاعدہ بنائیں گے۔تاہم ، پولٹری ڈیلروں کا دعوی ہے کہ برڈ فلو کے خوف سے مرغ کی طلب کم ہوگئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’یہاں ایک غلط فہمی موجود ہے ، جسے ختم کیا جانا چاہئے جس کے نتیجے میں پولٹری ڈیلر اور پرچون فروش نقصانات کا شکار ہیں‘‘۔ اس تجارت سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوام میں یہ آگاہی پھیلانی چاہئے کہ پولٹری کا استعمال محفوظ ہے۔