تازہ ترین

شاہراہ پر ٹریفک جام کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

فورسز کی 40کمپنیوں کی واپسی پر سبھی مسافر گاڑیاں روک دی گئیں

تاریخ    22 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //ڈی  ڈی سی اور ضمنی پنچایتی انتخابات کی عمل آوری کی سیکورٹی پر مامور سی آر پی ایف کی 42کمپنیوں کی واپسی سے جمعرات کو جموں سرینگر شاہراہ پر اب تک کا سب سے بد ترین ٹریفک جام رہا۔شاہراہ پر اونتی پورہ سے لیکر بانہال ٹنل تک صبح 7بجے سے 2بجے تک گاڑیوں کو روک دیا گیا۔شاہراہ  پر دو دن تک دونوں جانب سے گاڑیوں کے چلنے پھرنے پر روک لگائی گئی تھی اور اس دوران صرف درماندہ گاڑیوں کو نکال دیا گیا۔ٹریفک پولیس بانہال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بدھ دن بھر اور رات کے دوران بھی در ماندہ گاڑیوں کو نکال دیا گیا اور جمعرات کی صبح سرینگر سے جموں کیلئے یکطرفہ طور پر گاڑیوں کے چلنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔لیکن صبح 7بجے سے جونہی شاہراہ پر سرنگر سے جموں کی طرف گاڑیاں روانہ ہونے لگیں تو گاڑیاں روک دی گئیں اور جموں جانے والی کسی بھی مسافر گاڑی کو آگے جانے نہیں دیا گیا۔سبھی گاڑیوں کو فورسز کی کانوائیوں کو نکالنے کیلئے روک دیا گیا اور اس طرح جموں جانے والی مسافر گاڑیوں کی قطار بڑھتی گئی جو ٹنل سے اونتی پورہ تک لمبی ہوتی گئی۔مسافروں کا کہنا ہے کہ ایسا بدترین ٹریفک جام پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہے ۔مسافروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو سرینگر سے جموں کیلئے ٹریفک تھا تاہم اونتی پورہ سے لورمنڈا تک مال بردار اور مسافر گاڑیاں کا شدید جام اُس وقت لگ گیا ،جب سیکورٹی فورسز کے اہلکار اپنی گاڑیوں کو نکلنے کیلئے جگہ جگہ ٹریفک کو روکتے رہے۔وسیم حسن نامی ایک مسافر نے کہا کہ وہ 7بجے بجبہاڑہ پہنچ گیا اور دن کے ڈیڑھ بجے وہ قاضی گنڈ مارکیٹ میں داخل ہوا۔انہوں نے کہا کہ شام کے 8بجے وہ رام بن پہنچنے میں کامیاب ہوئے کیونکہ ٹنل کے پار بھی سیکورٹی فورسز نے مسافر گاڑیوں کو روک دیا تھا اور اپنی گاڑیوں کو پہلے آگے کردیا۔انہوں نے کہا کہ راستے میں انہوں نے فورسز کی قریب 200گاڑیوں کو دیکھا، جو دس دس بیس بیس کر کے شاہراہ پر آگے چل رہی تھیں۔مسافروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگر شاہراہ کو حکام نے سیکورٹی فورسز کے چلنے کیلئے رکھا ہے، تو پھر عام لوگوں کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔کئی ایک مسافروں نے کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ صبح سویرے وہ گھروں سے نکلے اور بھوکے پیاسے ابھی راستے میں ہی ہیں اور حکام خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔کشمیر عظمیٰ نے اس تعلق سے جب ایس ایس پی ٹریفک رولر کشمیر منظور احمد میر سے بات کی تو انہوں نے  اس بات کا اعتراف کیا کہ شاہراہ پر جمعرات کو ٹریفک جام اس لئے لگ گیا کیونکہ سیکورٹی فورسز کی 42کمپنیوں کو واپس نکلنا تھا ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کیلئے شاہراہ پر چلنے کیلئے کوئی بھی وقت مقرر نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی ڈی سی اور ضمنی انتخابات کے دوران جن سی آر پی ایف کی 42کمپنیوں کو یہاں لایا گیا تھا انہیں واپس نکلنا تھا اس وجہ سے ٹریفک روک کر سیکورٹی فورسز نے پہلے اپنی گاڑیوں کو آگے چلنے کی اجازت دی ۔انہوں نے کہا پچھلے 2برسوں سے سیکورٹی فورسز اپنے ایس او پیز کے تحت گاڑیوں کو شاہراہ پر چلاتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو چلانے کیلئے یہ سیول گاڑیوں کو روک دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بدھ کو شام دیر گئے پی سی آر سے یہ اطلاع ملی تھی کہ صبح سی آر پی ایف کی 42 کمپنیوں کوواپس نکلنا ہے جس کے بعد محکمہ ٹریفک نے اپنے تمام عملہ کو شاہراہ پر تعینات رکھا ۔