تازہ ترین

امریکہ… ڈوبنے کو ہے سفینہ اس کا

سرحدِ ادراک

تاریخ    20 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


رشید پروینؔ
حضرت علی ؓ کا ایک قول ہے کہ ’معاشرہ یا ملک کفرکے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے لیکن انصاف کے بغیر نہیں‘ اور اللہ جب کسی قوم کو قوت عطا کرتا ہے تو اس کی کسوٹی ہی انصاف پر مبنی ہوتی ہے ۔دراصل چاند گاڑی میںچاند کا سفر یا اس سے آگے ستاروں کا سفر کسی بھی صورت میں انسانیت کی معراج نہیں کہلا ئی جاسکتی بلکہ اس سے ہم سائنسی ترقی سے ہی موسوم کر سکتے ہیں۔ انسان نے اگرچہ اس دور میں سائنسی لحاظ سے چاند ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی شروعات کی ہے اور اس دوڈ میں سب سے آگے امریکہ ہے لیکن افسوس کہ یہ امریکہ اخلاقی ، انسانی اور بلند اقدار کے لحاظ سے دنیا کا پست ترین ملک ہے جس کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس ملک نے انسانی تباہی کے لئے بے شمار ایٹم بم ، نیپام بم ، کارپٹ بم اور بائیو کیمیکل بم ضرور بنائے ہیں لیکن انسان اور انسانیت کو بچانے کی تو دور کی بات ہے بلکہ اس سے تھوڑا سا اوپر لانے کی کبھی سنجیدگی سے کوشش نہیں کی ہے ۔تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک نے اپنی بے پناہ ترقی کو انسانی اقدار کے لئے نہیں بلکہ انسانی بلند و بالا روشن میناروں کو اندھیروں میں ڈبو نے کے لئے استعمال کیا  ہے۔ یہی ملک ہے جس نے اپنی انا اور گھمنڈ میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر دو ایٹم بم گرا کر انسانی تاریخ میں ایک انتہائی گھناونے باب کا نہ صرف ا ضافہ کیابلکہ اپنے لئے دائمی رسوائی کا سامان بھی کیا جس کی وجہ سے امریکہ کو آج بھی  انسانیت کے کٹہرے میں ایک بے رحم اور وحشی مجرم کی مانند کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
امریکہ کی معاشی ، سائنسی اور ملٹری پاور نے انصاف اور عدل کی میزان کو فی الحال اپنی طرف جھکا کے رکھا ہے لیکن پانچ ہزار برس کی تاریخ میں ہمیں ایسے کتنے ہی فرعون اور کتنے ہی ایسے ممالک نظر آتے ہیں جنہیں وقت نے اپنے حساب سے محاسبہ کیا اور ان کی تہذیب و تمدن بلکہ نام و نشان کو بھی مٹادیا، یا محض عبرت کی خاطر ان کے نشانات زمین پر رہنے دئے ۔ امریکی کھاتے میں مسلسل بے وجہ اور لاحاصل جنگیں بھی شامل ہیں جن میں اس بڑے دیش نے اب تک ایک اندازے کے مطابق کئی کروڈبے گناہوں کا خون بہایا ہے۔ ویتنام ، کمبوڈیا ، افغانستان ، عراق،ایران ،سوڈان اور فلسطین کے بے پناہ مصائب کی وجہ ہی امریکہ ہے جو اپنے ناجائز اور لاڈلے بچے کو سینے سے لگا کرانسانیت کو رسوا کرتا رہا ہے۔ بے شمار ممالک ان کے یکطرفہ میدان جنگ رہے اور ان ممالک کے علاوہ اپنی ایجنسیوں سے ہر اس ملک کا تختہ پلٹ کر رکھ دیا جو ان کے مفادات کی رکھوالی میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا ۔ماضی قریب میں ایران کے قاسم سلیمانی پر میزائل حملہ انسانیت سے بعید صریحاً غنڈہ گردی اور وحشیانہ پن کی ایک تازہ مثال ہے جو یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ امریکہ طاقت اور قوت کے نشے میں اپنے لئے خود اپنے قوانین ، اخلاق ، انسانی اقدار اور اصول ا پنی مرضی اور منشا  پر ڈھال رہا ہے ۔یہ خود سری اور گھمنڈ کی انتہا ہے۔ اتفاقاً اس واقعے کے بعد میں کوئی چینل دیکھ رہا تھا کہ ٹرمپ کو پریس کانفرنس میں ہاتھ لہراتے ہوئے اور غرور و تکبر کے ساتھ یہ کہتے سنا کہ ’’امریکہ بہت بڑی طاقت ہے اور جو چاہئے کر سکتی ہے‘‘۔ میرے ذہن میں ایک چھناکہ سا ہوا کہ ماضی کے فرعون، گھمنڈ میں ٹرمپ سے آگے تھے یا پیچھے ؟ تھوڑے ہی دنوں بعد کرونا اللہ کی ایک ننھی سی مخلوق نے اتنی بڑی سائنسی طاقت کو گھٹنوں کے بل گرا دیا۔
 اپنے آپ کو دنیا کی مثالی اور تہذیب یافتہ قوم کہنے والاامریکہ اور معاشرہ صدیوں سے عدم مساوات کا حامل ہے۔ اس معاشرے کی تعمیر ہی نفرت کی اینٹوں اور تعصب کے گارے سے اٹھائی گئی ہے۔ناانصافی اور ظلم و جبر کے اس معاشرے میں کس قدر تاریکیاں ہیں ،یہ حالیہ اس واقعے سے ظاہر ہیں جب ایک کالے شہری کو سڑک کے بیچوں بیچ گلہ دباکر قتل کیا گیا ۔ستاروں اور سیاروں کو قید کرنے کی جستجو میں انسان جو اس کائنات کی اعلیٰ ترین مخلوق ہے ،کو کیڑے مکوڈوں کی طرح ہر طرح سے مصائب اور موت سے درکنار کرنے کا کوئی موقعہ جانے نہیں دیا ہے ۔اکیسویں صدی میں بھی جس سے ایک تابناک صدی کے طور پر دیکھا جاتا ہے ،امریکی سماج میں یہ عدم مساوات کچھ زیادہ ہی واضح اور ابھر کر سامنے آچکی ہے ۔ ٹرمپ کے دور میں گورے اور کالے کا امتیاز بڑی تیزی سے بڑھا دیا گیا ہے بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ نے اسی کارڈ کو امریکی الیکشن میں ایک اہم پتے کی طرح استعمال کیا اور امریکی جمہوری دلہن کی جس طرح سے عصمت دری ہوئی ہے، اس سے امریکی سفینے کا ڈوبنا نوشتہ دیوار ہو چکا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پال کینڈی امریکی ممتاز مورخ نے اپنی اہم کتاب’’The rise and fall of great powers‘‘، جو1988میں چھپ چکی ہے، میں واضح طور اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ امریکہ اپنی طاقت بڑی تیزی سے کھورہا ہے اور بہت جلد بڑی طاقت کے مقام سے اسفلہ سافلین کی طرف لڑھک جائے گا۔امریکی معیشت کب کی ڈوب چکی ہے اور سر تا پا قرضوں کا بوجھ کچھ یوں ہے کہ جب یہودی بینک چاہیں گے ، امریکی دیو قامت دکھنے والی ساری کنگڈم تاش کے پتوں کی مانند بکھر کر رہ جائے گی۔ یہ امریکی دانشوروں اور ماہرین اقتصادیات کی پیشگوئی ہے ۔امریکہ کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ کالوں کے ساتھ پولیس ریکارڈ میں بہت سارے ناقابل معافی جرائم ہیں جو گورے پولیس والوں کے ہاتھوں سر زد ہوتے رہے۔ ماب لنچنگ اور اس واقعہ میں آپ کیا فرق کرتے ہیں؟ کوئی خاص فرق نہیں۔یہ امریکی قوم ہی ہے جس نے قرآن حکیم کی شعوری طور پر بے حرمتی کی ہے ۔گوانتاموبے اور افغانستان میں اس طرح کے سینکڑوں کارنامے انجام دئے ہیں اور مغرب میں جہاں کہیں بھی مسلم اور اسلام دشمنی کی سازشیں ہورہی ہیں ان کے پیچھے بھی اسی ملک کے خفیہ اداروں کا ہاتھ صاف اور واضح دکھائی دیتا ہے بلکہ دجال کی آماجگاہ ہی یہی ہے۔
 در اصل یہ قوم اپنے طرز عمل میں ابھی تک غاروں اور گھپائوں میں رہنے والی انسانیت اور انسانی اقدارسے عاری قوم ہے ۔سمجھ سے بالاتر بات ہے کہ کیا واقعی ٹرمپ جیسا ذہنی بیمار امریکی صدر اور وؤٹ کے لحاظ سے بھی مقبول ہوسکتا ہے ؟ لیکن وہ صدر رہا۔ اور امریکی عوام نے اپنے زوال کے اسباب خود پیدا کر لئے ہیں۔ اب ہارنے کے باوجود وہ صدارتی محل میں براجمان ہے۔ اگر ٹرمپ اب واشنگٹن ڈی سی سے کسی طرح باہر آبھی گیا تو اس سوچ کو جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے ،کیسے ختم کیا جائے گا؟ یہ خلیج اب وسیع تر ہوتی جائے گی۔کسی بھی قوم و ملک کا تقسیم ہونا اس کے زوال کو مہمیز لگادیتا ہے اور اب امریکہ اس سٹیج پر پہنچ چکا ہے جہاں مشرقی اور مسلم ممالک کو جمہوری طرز نظام نے بہت پہلے پہنچاکر ان کی تعمیر ،ترقی ، اور ذہنی اٹھان کو روک دیا تھا۔ امریکی تہذیب و تمدن بقول ڈاکٹر اقبال اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی اور ٹرمپ نے اس جانب امریکہ کو بڑی تیز رفتاری کے ساتھ گامزن کیا ہے ۔ اب ان حالات میں امریکی دانشوروں اور پڑھے لکھے عوام کو اپنے ایک صدر مارٹن لوتھر کی یاد آرہی ہے جس نے1955سے 1966تک اس چھوت چھات اور اونچ نیچ کے خلاف با ضابطہ مہم چلائی تھی اور کہا تھا کہ ’ مجھے اقتداری طاقت سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت میں دلچسپی ہے جو اخلاقی طور صحیح اور اچھی ہو ‘اور ان کا یہ جملہ حضرت علی ؓکے قول سے ہی ماخوزلگتا ہے جو اوپر کوٹ کیا گیا ہے۔
 دنیا میں کئی نسلیں اپنے آپ کو اخلاق ، انسانیت، سوچ اور بہتر اقدار کے لحاظ سے بر تر سمجھتی ہیںلیکن اصل میںیہ اقوام رضالت ، کمینگی ، سنگدلی اور بے رحمانہ خصائل کے لحاظ سے بر تر اورصف اول میں موجود ہیں ۔اس کی سب سے بڑی اور بہتر مثال صیہونیوں کی ہے اور یہی لابی اس وقت اس دور میں امریکہ پر حاوی ہے۔ یہی لوگ امریکہ میں بھی کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر اپنے مخصوص ایجنڈا کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ہم اس بات پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ ا للہ کے دئے ہوئے نظام زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہی رب کائنات تمام عالمین کاخالق ہے اور بہتر جاننے والا ہے ۔انسانیت بلکتی رہے گی، انصاف کا خون ہوتا رہے گا ، بے یارو مددگار دنیا کی کسی عدالت میں انصاف نہیں پائے گا ، انسانیت عدل اور مساوات کو ترستی رہے گی، جب تک ساری دنیا ، رسولِ پاک ﷺ کے آخری خطبے کو اپنا مشعل راہ نہیں بناتی ، جب تک اس آخری خطبے کو سمجھ کر اس سے اپنا اور ساری دنیا کا لائحہ عمل قرار نہیں دیتی جس میں واضح الفاظ کے ساتھ یہ پیغام دیاگیا تھا کہ ’’ اب کسی گورے کو کالے پر ، کسی عربی کو عجمی پر ، کسی قبیلے کو کسی دوسرے قبیلے یا شخص پر اور کسی شخص کو کسی بھی لحاظ سے دوسرے پرکوئی فوقیت نہیں سوائے پر ہیز گاری اور تقویٰ کے ۔ اور پرہیز گاری ، تقویٰ کی خمیرعدل و انصاف ،مساوات ، برابری، اور انسانی بلند اقدار  سے بنتی اور پیدا ہوتی ہے ۔یہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ صرف چودہ سو برس پہلے ساری دنیا نے ایسے معاشرے ، ایسے سماج ایسی مملکت کو دیکھا ہے جس کی مثال ساری دنیا کی تاریخ میں اب تک کہیں نہیں جو ان بنیادوں پر استوار تھی ۔عدم مساوات پر مبنی بڑی تہذیبیں اور قوتیں مٹتی رہی ہیں اور تاریخ کے اوراق تک محدود ہوچکی ہیں ۔ امریکی تہذیب و قوت اس سے مستثنیٰ نہیں ۔
پتہ۔سوپور کشمیر
رابطہ۔9419514537
rashid.parveen48@gmail.com