تازہ ترین

برف باری محکمہ جل شکتی پر بھی بھاری

۔ 483پانی کی سکیمیں متاثر ،ایک ہفتے بعد بحال، 10ہزار سے زائد عارضی ملازمین کی عرق ریزی

تاریخ    20 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //چلہ کلان کی برف باری محکمہ جل شکتی کو بھی بھاری پڑرہی ہے کیونکہ یخ بستہ ہوائوں اور شبانہ سرد موسم سے ابھی تک ہزاروں پانی کی پائپیں پھٹ گئی ہیں۔ حالیہ برف باری سے ساڑھے 4سو سے زیادہ سکیمیں بھی جزوی طور متاثر ہوئیں ۔محکمہ اگرچہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ پانی کی متاثر سکیموں کو بحال کر دیا گیا ہے، البتہ صبح کے وقت 60فیصد آبادی کو پانی کے حوالے سے دقتیں پیش آرہی ہیں ۔حالیہ برف باری کو ہوئے ایک ہفتہ گزر گیا ہے، لیکن کشمیر میں محکمہ جل شکتی کا امتحان ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے کیونکہ یہاں ہر ایک چیز منجمد ہے ۔ سردی کی شدت نے پانی کی ترسیل میں مشکلات پیدا کیں اور رہی سہی کسر بھاری برفباری نے پوری کردی۔جل شکتی محکمہ کشمیر نے اس ضمن میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 24 گھنٹے کے اندر ان سکیموں کو بحال کرنے کیلئے کہا تھا ۔2 اور 3 جنوری کے دوران ہوئی بھاری برف باری کے بعد محکمہ نے وادی کشمیر میں مختلف مقامات پر اپنا فیلڈ عملہ اور مشنری تعینات کی تھی تا کہ ان سکیموں کو فوری طور بحال کیا جا سکے ۔ ضلع سرینگر میں 24 گھنٹے کے اندر بحالی کا کام مکمل کیا گیا جبکہ دیگر اضلاع میں مقررہ مدت کے اندر بحالی کا کام پایہ تکمیل کو پہنچایا گیا ۔محکمہ جل شکتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی میں 60فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی صبح کے وقت دستیاب نہیں ہوتا ہے ،کیونکہ پانی کے نل جم جاتے ہیں اور پھر 12بجے تک لوگوں کو پانی کے بغیر رہنا پڑتا ہے ۔محکمہ پی ایچ ای ملازمین کے انجمن کے صدر سجاد احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ جل شکتی ایک ایسامحکمہ ہے جس کے ملازمین کیلئے پریشانی نہ صرف برف گرنے سے ہوتی ہے بلکہ جب درجہ حرارت گرتا ہے تب بھی ان کی پریشانی میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ برف باری کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان پانی کی ترسیلی لائنوں کوبالائی علاقوں میں ہوا ،جہاں پہلے پہنچنا ان کیلئے کافی دشوار گزار تھا لیکن محکمہ کے ملازمین نے پیدل پہنچ کر ان لائنوں کی بحالی کا کام انجام دیا ۔سجاد نے کہا کہ محکمہ کے ساڑھے دس ہزار ملازمین جو مستقلی کے منتظر ہیں، جنہیں وقت پر تنخواہ نہیں ملتی اور جو بغیر کسی حفاظتی کٹ کے کام کر کے لوگوں کو پانی بحال کرتے ہیں، اُن کی سراہنا بھی کسی نے نہیں کی ۔ محکمہ جل شکتی کے چیف انجینئر افتخاراحمد وانی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کشمیر وادی میں حالیہ برف باری کے نتیجے میں 483 ترسیلی لائنیں متاثر ہو چکی تھیں لیکن بروقت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے محکمہ کے عملہ نے تمام لائنوں سے لوگوں کو پانی بحال کر دیا اور ابھی کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں لوگوں تک پانی نہ پہنچتا ہو۔انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمہ کے پاس 128 پانی کے ٹینکر موجود ہیں جس میں سے 105محکمہ کے ہیں اور باقی محکمہ نے باہر سے کام پر لگائے ہیں ۔