تازہ ترین

پیپلز کانفرنس گپکار الائنس سے الگ

ڈی ڈی سی انتخابات باعث نزاع بن گئے، ڈاکٹر فاروق کے نام سجاد غنی لون کا مکتوب،حقوق کی بازیابی کیلئے حمایت دینے کا اعادہ

تاریخ    20 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//گپکار اعلامیہ برائے عوامی اتحاد میں شریک جماعت پیپلز کانفرنس نے منگل کو اتحاد سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حالیہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کے دوران کم سے کم مشترکہ پروگرام کے باوجود درپردہ امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا الزام  عائد کیا ہے۔تاہم مکتوب میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ گپکار اتحاد کے بنائے گئے نقش راہ پر چلنے کی کوشش ہوگی اور جو مطالبات اتحاد نے سامنے رکھ کر اجتماعی طور پر جد و جہد کرنے پر اتفاق کیا، اسکی آبیاری کی جائیگی۔یاد رہے کہ جموں کشمیر کی بیشتر علاقائی سیاسی جماعتوں نے مرکز کی جانب سے5اگست2019کو جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکزی زیر انتظام خطوں میں تبدیل کرنے اور دفعہ370کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد گزشتہ برس اکتوبر میںگپکار اعلامیہ برائے عوامی اتحاد کا قیام عمل میں لایا تھا،جس میں پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون کو اس اتحاد کا ترجمان مقرر کیا گیا ۔لون نے گپکار اتحاد کے صدر اور نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹرفاروق عبداللہ کو 3صفحات پر مشتمل ایک مکتوب روانہ کیا جس میں انہیں فیصلے سے مطلع کیا گیا۔مکتوب میں انہوں نے کہا ’’ حالیہ ضلعی ترقیاتی کونسل کے انتخابات کیلئے کم سے کم مشترکہ پروگرام طے کرنے کے باوجود اتحادی جماعتوں ، جس میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی شامل ہیں نے  ایک دوسرے کے خلاف درپردہ امیدوار کھڑے کئے ۔
انہوں نے خط میں کہا ’’اس اتحاد کو قربانیوں کی ضرورت ہے،ہر فریق کو ساتھی اتحادیوں کو جگہ دینے کے معاملے میں زمین پر قربانیاں دینے کی ضرورت ہے، کوئی جماعت جگہ دینے کیلئے تیار نہیں ، کوئی جماعت قربانی دینے کے لئے تیار نہیں ہے‘‘۔ ہم نے 5 اگست کے فیصلہ کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ صوبہ کشمیر میں ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑا‘‘۔لون نے کہا ’’ اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نے یہ انتخابات غیر اعلانیہ طور پر جیت کر زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی لیکن اتحاد کے خلاف پڑے ووٹوں کی بیشتر تعداد گپکاراتحاد کے ان درپردہ امیدواروں کے حق میں پڑے جو اصل امیدواروں کے مقابلے میں کھڑے ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے گپکار اعلامیہ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اصل نتیجہ بہت ہی ناقص رہا اور کمزور ووٹ حصص کی صورت میں سامنے آیا۔لون کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کے لئے اتحاد میں رہنا  اور ایسا کچھ نہیں ہوا،ظاہر کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ووٹوں کا وہ حصص نہیں تھا جس کا حق جموں کشمیر کے لوگ دفعہ370کی منسوخی کے بعد رکھتے تھے۔" سجاد لون نے تحریر کیا’’شراکت داروں کے مابین اعتماد کی خلاف ورزی ہوچکی ہے جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اس کا علاج مشکل ہے۔  انہوں نے کہاہماری پارٹی میں سب سے بڑا نظریہ یہ ہے کہ ہمیں معاملات کو پُراگندہ ہونے کا منتظر رہنے کی بجائے متحرک انداز میں اتحاد سے دستبردار ہونا چاہئے، اور میں اس بات کی تصدیق کر رہا ہوں کہ اب ہم گپکار اعلامیہ برائے عوامی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاہم ، وہ اتحاد کے مقاصد کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ سجاد لون نے مکتوب میں کہا’’ہم اس مقاصد کی پاسداری کرتے رہیں گے جو ہم نے یہ اتحاد بنائے جانے کے بعد طے کئے تھے۔،اور اتحاد کی قیادت کو یقین دلایا جانا چاہئے کہ ہم ان تمام امور پر تعاون کریں گے جو بیان کردہ مقاصد کے دائرے میں آتے ہیں‘‘۔ان کا کہنا تھا’’ ہم نے پارٹی کے تمام لیڈروں کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ وہ  اتحاد یا اس کے لیڈروںکے خلاف کوئی بیان جاری نہ کریں۔
 

تازہ ترین