تازہ ترین

بغلیہارپروجیکٹ کے عارضی ملازمین 10ماہ سے تنخواہوں سے محروم

ویری فکیشن اور آڈٹ کی وجہ سے تاخیر ہوئی، اب اجرتیں واگزار ہونگیں:چیف انجینئربغلیہار

تاریخ    20 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن میں چندرکوٹ کے مقام واقع دریائے چناب پر قائم نو سو میگاواٹ کی صلاحیت والے بغلیہار پارو پروجیکٹ میں پچھلے پندرہ سے بیس برسوں سے کام کرنے والے ایک سو سے زائد ملازمین کئی مہینے کی تنخواہوں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ان کی زندگی مشکلات کا باعث بنی ہے۔بغلیہار پارو پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے بعد جموں وکشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے حوالے کیا گیا اور پہلے سے ہی تربیت یافتہ عارضی ملازمین بھی کے پرکاش سے JKPDC کے حوالے کیا گیا۔ یہاں تعینات عارضی ملازمین نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ اپنی زندگی کے بیش قیمتی پندرہ سال اس پروجیکٹ کو اس توقع پر دیئے تھے کہ آگے چل کر آرام ملے گا لیکن یہاں پچھلے قریب دس مہینے سے ایک سو سے زائد عارضی ملازمین جن میں ٹیکنیشن اور آئی ٹی آئی تربیت یافتہ ملازمین شامل ہیں،تنخواہوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغلیہار میں تعینات عارضی ملازمین تن دہی سے اپنا کام انجام دے رہے ہیں اور کووڈ انیس کے دوران بھی یہاں تعینات عارضی ملازمین نے اپنا فرض ادا کیا لیکن مارچ 2020 سے اب تک بغیر تنخواہوں کے ہم کار سرکار انجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے الزام لگایا کہ بغلیہار پاور پروجیکٹ پر محکمہ بجلی کے ملازمین کو ڈیپوٹیشن پر بھیجا جاتا ہے اور وہ یہاں بہتری کے بجائے مبینہ طور پر اپنے جیب بھرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں اور زمینی مسائل جوں کے توں رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی یے کہ وہ بغلیہار پاور پروجیکٹ میں جاری بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانیوں کی روک کیلئے اس کی تحقیقات شروع کریں۔ اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر چیف انجینئر پاؤر ڈیولپمنٹ کارپوریشن بغلیہار نصیب سنگھ نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ یہاں تعینات عارضی ملازمین کی ویری فکیشن اور محکمہ جاتی آڈٹ چل رہا ہے اور اسی وجہ سے ملازمین کی تنخواہیں تاخیر کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ایک ہفتے تک عارضی ملازمین کی بند پڑی اجرتیں واگذار کی جائیں گی۔  
 

تازہ ترین