تازہ ترین

مڈل اسکول بٹارا : 50سے زائد طالب علم اور کمرے 2

تعلیمی نظام درہم برہم،سکول عمارت 5برسوں سے تشنہ تکمیل،حکام خاموش تماشائی

تاریخ    20 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے بیشتر تعلیمی زونوں میں جہاں سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہونے کی وجہ سے ناقابل استعمال بن گئی ہیں وہیں متعدد عمارتوں پر کام عرصہ دراز سے تعطل کا شکارہے جبکہ متعلقہ محکمہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ادھر تعلیمی زون ٹھاٹھری میں سال 2015 میں 18 لاکھ کی لاگت سے گورنمنٹ مڈل اسکول بٹارا کی عمارت کا کام شروع ہوا تاہم پانچ برس کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی تعمیر مکمل نہ ہو سکی اور متعلقہ محکمہ و انجینئرنگ ونگ نے 8.20لاکھ روپے کی بلیں مذکورہ ٹھیکیدار کو واگذار کی ہیں۔نائب سرپنچ جنگلواڑ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ عمارت کا کام نامکمل ہونے کی وجہ سے اسکول میں زیر تعلیم بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو متعدد بار متعلقہ محکمہ کے آفیسران کی نوٹس میں لایا گیا لیکن غیر سنجیدگی کا مظاہرہ دکھایا۔مقامی شہری نیاز احمد تانترے نے کہا کہ پچاس سے زائد بچے صرف دو کمروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی دیواریں خستہ ہوئی ہیں جبکہ کھڑکیاں و دروازے بھی زنگ آلود ہو چکے ہیں۔عنایت اللہ نامی ایک اور باشندہ نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی عدم توجہی سے غریب بچوں کے ساتھ ہر سطح پر ناانصافی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ مڈل اسکول بٹارا میں عمارت کی کمی کے ساتھ ساتھ کھیل کود کے میدان کا بھی فقدان ہے۔مقامی لوگوں نے ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جب کشمیر عظمیٰ نے زونل ایجوکیشن آفیسر ٹھاٹھری چوہدری میر علی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حال ہی میں چارج سنبھالا ہے اور اس کی بلیں بھی مجھ سے پہلے والے زیڈ ای اوز نے نکالی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس کی تحقیقات کرکے مزید پیش رفت شروع کریں گے۔

تازہ ترین