سرمایہ دارا نہ جمہوریت!

چہرہ روشن اندرون تاریک تر

تاریخ    19 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


غازی سہیل خان
نئے سال کے ٹھیک پانچ دن بعد 6؍ جنوری 2021ء کو اُس وقت امریکی کانگریس کی عمارت ’’کیپٹل ہل‘‘ پرسابق صدرِ امرریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں نے دھاوا بول دیا، اس وقت وہاں 2020ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق و تصدیق کے لئے دونوں ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی)اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا تھاجہاں۔ امیریکہ میں انتخابی ووٹوں کی گنتی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر ریاست کے مصدقہ نتائج صدر نشین یعنی نائب صدر کو پیش کئے جاتے ہیں جو ایوان سے پو چھتے ہیں کہ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟ نمائندگان  کے اعتراض نہ کرنے کی صورت میں نتیجے کی توثیق کر دی جاتی ہے۔ یہ ایک رسمی کارروائی ہی ہوتی ہے لیکن قانون کے تحت اگر کم از کم ایک سینٹر اور ایوان نمائندگان کا ایک رکن تحریری اعتراض جمع کر ادے تو پھر مشترکہ کارروائی معطل کر کے دونوں ایوان اس اعتراض پر بحث کر کے رائے شماری کے ذریعے فیصلہ کر دیتے ہیں ۔ان ہی انتخابی وو ٹوں کی تصدیق کے دوران ارکان کانگریس پر دبائو ڈالنے کے لئے سابق صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو واشنگٹن طلب کیا۔ کانگریس کے باہر ایک بڑے جلسے سے اپنی شعلہ بیانی کے ذریعے انہوں نے انتخابی دھاندلیوں کو ملک پر سو شلسٹوں کے قبضے کا نقطہ آغاز قرار دیا۔ اپنی تقریر میں لوگوں کو مزید جوش د لاتے ہوئے انہوںنے یہ اعلان کیا کہ ہم کانگریس کی طرف مارچ کریں گے تاکہ وہ عوامی جذبات سے آگاہ ہو جائے، مذید کہاکہ میں اس میں اپ کے شانہ بشانہ ساتھ ہوں تاہم جلسے کے بعد امریکی سابق صدر وائٹ ہاوس واپس چلے گئے۔
جلسہ ختم ہوتے ہی30 ؍ہزار سے زائد کا مجمع USA،USAکے فلک شگاف نعرے لگاتا ہواکانگریس کی عمارت پر چڑھ دوڑا۔ پولیس کو یہ مجمع اپنے پیچھے دھکیلتے ہوئے ہجوم کی صورت میں عمارت کے اندر داخل ہو گیا۔اس وقت ایوان میں ماحول کشیدہ تھا ،انتخابات کے حوالے سے زور دار بحث چل رہی تھی۔ اسی دوران سیکورٹی اہلکاروں نے سب سے پہلے ارکان کانگریس کو حفاظتی حصار میں لیتے ہوئے انہیں تہہ خانے میں پہنچا دیا ۔ جب کہ مظاہرین نے اندر آتے ہی توڑ پھوڑ شروع کر دی، اس دوران پولیس فائرنگ میں دو خواتین سمیت چار افرراد ماررے گئے ۔حالات کو قابو میں نہ دیکھتے ہوئے نیم فوجی دستے طلب کئے گئے اور شہر میں 24؍گھنٹے کے کرفیو کا نفاذ بھی عمل میں لایا گیا۔ اس سارے واقعہ کے متعلق بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کے علاوہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، ترکی اور برطانیہ کے سربراہان نے بھی کیپٹل ہل پر مظاہرین کے حملے کی مذمت کی ۔ برطانوی وزیر اعظم نے تو ان مناظر کو شرمناک کہہ ڈالا۔ بہر کیف یہ واقعہ امریکی تاریخ کا بدترین واقعہ مانا جا رہا ہے۔ دنیا کو امن اور جمہوریت کا درس دینے والا آج خود اپنی جمہوریت کو بچانے کے لئے کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ اس واقعہ سے امریکہ کے فسطائی چہرے سے جمہوریت کا نقاب ساری دنیانے اُترتا ہوا دیکھ لیا ۔یہ ان کی اصل حقیقت ہے۔ان گوروں نے ہر وقت سرمایا دارانہ نظام کے پنچوں کو مضبوط کیا اور آج خود ان ہی پنجوں کی زد میں حقیقی جمہوریت کی آغوش میں پناہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔آج تک ان گوروں نے اسی جمہوریت اور امن کے نام پر ساری دنیا میں تباہی مچا دی ،جس کی دنیا ئی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اپنی اس فسطائی ذہنیت کو بچانے کے لئے انہوں نے دنیا کی بربادی کے لئے جمہوریت کا ہی سہارا لیا۔ تاہم گزشتہ دنوں کے اس شرمناک واقعہ میں ان کے سرمایہ دارانہ نظام کی ناقص عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی۔ بھلے ہی کسی کویہ واقعہ امریکی تاریخ کا شرمناک واقعہ نہ لگے لیکن دنیا میں حساس ذہن والے لوگ نہ صرف اسے مغرب کی سرمایہ دارانہ جمہوریت کا جنازہ مان رہے ہیں بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ جمہوریت کا پُر فریب سبق پڑھانے والے گورے اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر کے دنیا میں گنڈے بنے بیٹھے ہیں ، اور یہ کہتے تھکتے نہیں کہ دنیا میں اگر کوئی نظریہ و نظام نجات دہندہ ہے تو وہ یہی جمہوریت ہے۔ لیکن اصل حقیقت تو یہ ہے کہ ان گورے بدمعاشوں نے حقیقی جمہوریت کو کبھی دنیامیں پھلنے پھولنے ہی نہیں دیا جس کی درجنوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔جہاں ان کے مفادات کا تحفظ ڈکٹیٹر شپ اور بادشاہت میں ہو وہ وہاں اسی کی پشت پناہی کرتے ہیں اور جہاں فسطائیت اور چنگیزیت ان کے ملک و قوم کے لئے نفع بخش ہو وہاں وہ اُسی کی پیٹھ تھپ تھپاتے نظر آتے ہیں ۔ اس کی واضح مصر کی مثال ہے کہ کیسے جمہوریت کے نام نہاد علم برداروںنے مرحوم محمد مرسی کی قیادت میں حقیقی جمہورت کا 2011ء میں خون کرکے وہاں اپنے ایک ایجنٹ جنرل سیسی کو اقتدار سونپ دیا بلکہ اس ناجائز طریقے سے اقتدار کی منتقلی کے دوران ہزاروںلوگوں کا خون ناحق مصر کی گلیوں اور کوچوں میں بہایا گیا۔اگر یہ جمہوریت کی حقیقی دعوے داری کرتا ہے تو ان کو چاہے تھا کہ محمد مرسی کو حمایت کرتے، وہاں کی عوامی حکومت کو کام کرنے دیتے لیکن افسو س ان جھوٹے جمہوریت کے علم برداروں نے اپنے حقیر مفادات کی خاطر حقیقی جمہوری اور انسانی اقدار کا خو ن کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔یہ جمہوریت کے جھوٹے دعوے دار اگر حقیقی معنوں میں جمہوریت چاہتے تو ان کو چاہے تھا عرب ممالک میں ڈکٹیٹر شپ اور بادشاہی نظام کی حمایت ترک کر دیتے بلکہ وہاں ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کرتے تاکہ وہاں بھی حقیقی جمہوریت پنپتی،لیکن نہیں ،ایسا کہا ںہو سکتا ہے ،عرب ممالک کے بادشاہ ان کے مفادات کے عین مطابق کام جو انجام دے رہے ہیں بھلا ان کو کیا ضرورت ہے وہاں جمہوریت کی حمایت یا اس کی بات کریں۔غرض یہ فسطائی ذہنیت کبھی بھی حقیقی جمہوریت کو دنیا میں پنپنے نہیں دے گی بلکہ اگر کسی جگہ حقیقی جمہوریت اپنا سر اُٹھانے کی کوشش کرے گی بھی تو یہ اُس کو کچلنے میں اپنا ہردائو کھیلنے میں پس و پیش سے کام نہیں لیں گے۔ انہوں نے تو عراق اور افغانستان پر ہزاروں ٹن بارودبرساکر لاکھوں بے گناہوں کا یہ کہتے ہوئے قتل عام کیا کہ وہاں جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں۔افغانستان اور عراق تو اسی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بحالی کے نام پر آج کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ہے۔اور آج یہی گورے ناکامی و نا مرادی کے عالم میں ان ممالک کو برباد کر کے اب دیگر اسلامی ممالک کی بربادی کا پروگرام بنانے میں جُٹ چُکے ہیں ۔لیکن تایخ گواہ ہے ان کی اس جمہوریت نے دنیا میں کسی جگہ امن قائم نہیں کیا بلکہ کشت و خون ہی انجام دیا۔اور آج خود اس واقعہ کے بعد امریکہ میں اسی جمہوریت کو بچانے کے لئے کشمکش سے گزرنا پڑ رہا ہے تاکہ دنیا  ہمارے اس فسطائی چہرے کو پہچان نہ لیں ۔ 
جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی نے 1942میں تقسیم ملک سے پہلے سیالکوٹ میں ان کے اس انسانیت کُش نظام کے متعلق فرمایا تھا کہ:
 ’’ایک وقت آئے گا کہ ،جب ماسکو میں کمیونزم خود اپنے بچائو کے لئے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیو یارک میں اپنے تحفظ کے لئے لرزہ بر اندام ہو گی۔ مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونی ورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہو گا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود لندن اور پیرس کی یونیورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پا سکے گا اور آج کا یہ دور تاریخ میں صرف ایک داستان ِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گاکہ اسلام جیسی جہاں کُشا اور عالمگیر طاقت کے نام لیوا، کبھی اتنے بے وقوف ہو گئے تھے ،کہ عصائے موسیٰ بغل میں تھا اور اپنے سامنے لاٹھیوںاور رسیوں کو دیکھ کر کانپ رہے تھے۔‘‘
ستر سال سے زائد پہلے کی بات آج حرف بہ حرف ثابت ہو رہی ہے اور آج واقعتاً یہ سارے نظریات اور نظام دنیا میں در در کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہو گئے ہیں ۔گزشتہ سال ہی میں اسی جمہوریت کے چمپئین ملک میں ایک سیاہ فام کو ایک پولیس اہلکار نے بڑی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اس لئے اُتارا تھا کہ وہ سیاہ فام تھا۔ جس کے بعد امریکہ میں ہفتوں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے،اور دنیا میں جمہوریت کے علمبرداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔غرض اس سرمایہ دارانہ جمہوریت میں بڑی ہی بے دردی سے انسانیت اور بے گناہوں کا خو ن ضائع ہو رہا ہے ،جس کے سبب آئے روز اس طرح کے واقعات دنیا کو حیرت میں ڈال رہے ہیں ۔ امریکہ میںحالیہ واقعہ کے متعلق جموں کشمیر کے ماہر قانون شیخ شوکت حُسین کا کہنا ہے کہ
 ’’امریکہ میں جمہوریت کی ہمیشہ سے وہی حقیقت ہے جس کی جانب حکیم الامت نے ’’چہرہ روشن اندرون تاریک تر‘‘ الفاظ میں کیا ہے، اسی وجہ سے آج تک وہاں کوئی غیر کتھولک خاتوں یا اوبامہ کے سوا غیر سفید فام کرسی صدارت پر نہ بیٹھ سکا۔رکھ رکھائو کے لیے پھر بھی کچھ اقدار،کا پاس و لحاظ رکھا جاتا تھا سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد دیواستبداد بے لگام ہو گیا۔یکے بعد دیگرے مسلم ممالک میں رقصاں ہوا اوراب خود امریکہ میں رقصاں ہے۔ٹرمپ کا ہنگامہ اسی عمل کی کڑی ہے ۔برطانیہ سے مل کر سفید فام امریکیوں کی کوشش کہ وہ پھر سے ایک ایک سفید فام نو آبادیاتی نظام دنیا پر مسلط کریں۔امریکہ میں اس کے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے لیکن اسرائیل اور ہندوستان کی فسطائی حکومتیں معاون یا شراکت دار بننے کی فراق میں ہیں۔‘‘
غرض دنیا میں سرمایہ دارنہ جمہوریت اپنی پوری طاقت کے ساتھ دنیا پر مسلط ہونے کی سوچ رہی ہے جس کی مثال امریکہ اوربرصغیر میں بھی مل رہی ہے ۔ہمارے ملک بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا تاج پہنا ہوا ہے ،اس کے باوجود یہاں فسطائیت اپنے رنگ مختلف شکلوں میں دکھا رہی ہے ۔کبھی NRCاورCAAکے ذریعے ملک کی اقلیت کو ستانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو کبھی کسانوں کو اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پراپنی جانوں کے نذرانے پیش کر نے پڑ رہے ہیں، کبھی لو جہاد اور بیف کے نام پر مسلمانوں کوسر عام ہجومی تشدد کی نذر ہونا پڑتا ہے تو کبھی اسی جمہوریت کو بچانے کی خاطر آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی جارہی رہیں ۔
اس سارے منظر نامے کو اصل طور دیکھتے ہوئے دنیا کے ذی حس افراد کو چاہیے کہ وہ جمہوریت کی اصل روح کو سمجھنے کی کوشش کرے، عوام الناس کو حقیقی جمہوریت کے فوائد اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کے فاسد اثرات سے آگاہی دیں ۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ عنقریب دنیامیں جمہوریت کے ڈھونگ رچانے والے امن اور سلامتی کا نقاب ہٹا کے دنیا کو جہنم زار بنا دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑیںگے۔
چہرہ بے نقاب ہو جانے کے بعد اسی پالش زدہ چہرے کی نقالی انسان کو خسارے میں ڈال دینے کے لیے کافی ہے تاہم اگر واقعتا اس تازہ صورتحال پر غور وفکر کا پیمانہ ہاتھ میں لے کر کام کیا جائے تو دنیا سے اس بے نقاب چہرے کی گند دور ہو سکتی ہے، وگر نہ سیاہ چہرے پر سفید رنگ کی پالش زدگی قوموں کی تباہی کا سامان بن جانے کا خطرہ ہے۔
 

تازہ ترین