یادوں کی بارات

افسانہ

تاریخ    17 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


سرفراز احمد ٹھکر
ساون کی اندھیری  رات کو  وہ اپنے دالان میں بیٹھا کسی گہری سوچ میں گُم تھا۔رات کی تاریکی ،آندھی ،موسلادھار بارش اور بجلی کی گرج چمک تھمنے کا نام نہيں لے رہی تھی۔ جو اس کو اور زیادہ بے چین کر رہی تھی ۔
بچپن میں لاڑ و پیار سے پلا ساغر اب کتاب زندگی کے تیس سنہرے باب مکمل کر چکا تھا۔زندگی کے اس تیس سالہ سفر میں اُسے ہر موڑ پر کئ طرح کے تجربات حاصل ہوئے ،کئی طرح کے لوگوں سے پالا پڑا۔ لائق ،ہوشیار اور بلا کا ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اچھے اخلاق و کردار کا مالک بھی تھا۔اس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد غربا ،مساکین اور سماج کے گرے پڑے لوگوں کی خدمتِ کر سکے۔
اس مقصد کے حصول کے لئے ساغر نے دن رات مشقتیں اٹھائیں ،کئ طرح کے مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ،یہاں تک کہ اپنی آشنا 'نوری ' کی شادی کی پیشکش کو بھی یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ جب وہ کوئی اچھی نوکری حاصل کرے گا تب اس سے شادی کرے گا ،مگر سب اس کہ برعکس ہوا۔
دراصل وہ ایک ایسے سماج کا حصہ تھا جہاں رشوت خوری ،اقرباء پروری اور بد عنوانی اپنے نوکیلے دانتوں سے سماج کو نوچ رہی تھی ،جہاں کسی غریب کے لئے کوئی جگہ نہ تھی ۔بس اسی لئے اس کی ایک اچھا انسان بننے کی خواہش دم توڑتی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔
یہ سب اپنی جگہ اس پہ طرہ یہ کہ بارگاہ ایزدی سے کچھ اور امتحانات اس کا مقدر بن گئے یا یوں کہیں کہ کچھ گھریلو آزمائشوں سے اسے دوچار ہونا پڑا۔ رات کی سیاہ آندھی ،بارش اور بجلی کی کوند جہاں دل کو  دہلاتی وہیں ساغر کے دل میں ارمانوں کا ایک بہر بیکراں ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی اور سکرین پر اس کے دوست زاہدِ کا نام نمودار ہوا ، کانپتے ہوئے ہاتھوں سے فون اٹھایا ، زاہد فوراً بھانپ گیا کہ ہو نہ ہو آج میرا دوست کسی گہری سوچ میں گُم ہے ، ہاں ساغر میاں! کن یادوں میں کھوئے ہو ؟ ساغر نے ایک سرد آہ بھری اور اس کی زبان سے بے ساختہ یہ شعر نکلا
یادوں کے دریچے مت کھولو جو بیت گیا سو بیت گیا
یہ کھیل ہے بس تقدیروں کا کوئی ہار گیا کوئی جیت گیا
یہ شعر سن کر زاہد کی آنکھوں  میں  آنسو آگئے اور بولا "دوست میں نے ایک دردناک خبر سنی جو تمہارے ساتھ ساجھی کرنا چاہتا تھا مگر تم پہلے ہی دکھی ہو اس لئے نہیں سنائوں گا ۔ نہیں نہیں زاہد تمہیں اپنے دوست کی قسم ، بتا دو۔ ساغر نے منت کی تو زاہد ذرا نرم لہجے میں بولا۔ تمہاری نوری کی شادی  پڑوس کے احمد کے ساتھ تہہ ہو گئی ہے "
ساغر پہ جیسے بجلی سی گر گئی،جہاں ایک اچھی نوکری کی خواہش ادھوری رہ گئی اوربچپن و جوانی کے بیتے لمحوں کی یادوں نے اسے بے چین کر کہ رکھا تھا وہیں نوری کے گھر بارات لے کر جانے کا اس کا آخری سپنا بھی چور چور ہو کہ رہ گیا تھا۔ اب اس کا سب کچھ لٹ چکا تھا ۔ ہاں! اگر کچھ بچا تھا تو وہ تھیں  یادیں ،نوری کے گھر بارات لے کر تو وہ نہ جا سکا مگر اپنے ساتھ یادوں کی ایک بارات لے کر چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
ادھر ساغر کا یہ حال تو تھا ہی وہیں نوری بھی ساغر کی جدائی میں پل پل بے چین رہنے لگی تھی ۔احمد کے ساتھ شادی کا فیصلہ اس کا ذاتی فیصلہ قطعی نہ تھا مگر والدین کے سامنے رضامندی کی خاطر اسے یہ زہر کا جام پینا ہی پڑا۔ سسرال میں رہنے کے باوجود بھی اسے ہر وقت ساغر کی کمی محسوس ہوتی اور ہوتی بھی کیوں نہیں، اس کے ساتھ رہنے ، اس کے ساتھ جینے مرنے کی تو نوری  نے قسمیں کھائی تھیں۔اب جبکہ وہ اس کی زندگی سے دور چلا گیا تو نوری کا بے چین ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ ، گھر کے کام کاج میں اس کا ذرا بھر بھی جی نہ لگتا تھا ، گھاٹ پہ پانی بھرنے جاتی یا کوئی اور کام کرتی ،ہر وقت ساغر کو یاد کرتی اور درد بھرے گیت گایا کرتی۔۔۔۔۔ ایک دن تالاب پہ بکریوں کو پانی پلانے گئ تو اس کی ملاقات اس کی سہیلی  ثریا سے ہوئی ، ثریا اس کے درد  سے واقف تو تھی ہی مگر کیا کرتی ، ہزار ہا اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ ساغر کی یادوں کو اپنے دل سے نکال دے مگر سب بے سود! کیونکہ ساغر کو کھونے کے بعد اب محض اس کی یادیں ہی تھیں جن کے سہارے وہ اپنی زندگی کے کارواں کو آگے بڑھا رہی تھی ۔"دیکھو ثریا ، یادیں چیز ہی ایسی ہیں کہ جنہیں بھلایا نہیں جا سکتا ، ہاں ! ان سے ماضی کا اُجالا لے کر زندگی کے باقی ماندہ ایام کو روشن کیا جا سکتا ہے۔ جہاں یادیں انسان کو اندر ہی اندر توڑ کر چکنا چور کر دیتی ہیں  وہیں یہ انسان کو ہر حال میں جینے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہیں ۔ اگر یادیں نہ ہوتیں تو یہ شام غزل نہ ہوا کرتی ، اگر یادیں نہ ہوتیں تو یہ حسین تاج محل نہ ہوتا اور سچ پوچھو تو  اگر یادیں نہ ہوتیں تو اشرف المخلوقات میں اور دوسری مخلوقات میں کوئی فرق  نہ ہوتا ۔"۔۔۔۔۔ نے بڑے اطمینان سے نوری کا جواب سُن کر اسکی ہمت بڑھاتے ہوئے کہا ’’تم ٹھیک کہتی ہو نوری ! انسان اس مختصر سی زندگی میں بہت سی خواہشات لے کر آتا ہے ، بہت سے  سپنے سجاتا ہے، ۔۔۔۔۔ بہت سے لوگ اس کی زندگی میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ، کچھ بھی باقی نہیں رہتا ، ہاں اگر کچھ باقی رہتا ہے تو صرف اور صرف یادیں ہی رہتیں ہیں ۔۔۔۔۔‘‘
بیتے ہوئے لمحوں کو دل سے نہ بھلا دینا
یادیں ہی امانت ہیں ۔۔۔۔گزرے ہوئے لوگوں کی !!!!!!
���
پونچھ،موبائل نمبر؛7298466856
 

تازہ ترین