گم شدہ ماضی کا حال

افسانچہ

تاریخ    17 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


سہیل سالمؔ
آس پاس کی کہانیوں کو جمع کر کے اس نے ان تمام کہانیوں کونذر آتش کردیا۔اب جو کہانیاں دم توڑ چکی تھیں،انھیں آہستہ آہستہ دفن کیا جا رہا تھا۔کچھ زخمی کہانیاں بکھری پڑی تھیں۔ان زخمی کہانیوں کو نمائش گاہ میں رکھنے کی جب تجویز پیش کی گئی توکچھ عرصہ کے بعد ہی وقت  کے دیوتائوں نے ایک نمائش گاہ کی بنیاد ڈالی جس میں صرف زخمی کہانیوں کی نمائش ہوتی تھی۔میں نے ارادہ کر لیا کہ ضرور نمائش گاہ کی سیر کے لئے جائوں تاکہ مجھے بھی یہ پتہ چلے کہ میں کس زخمی کہانی کا کردار ہوں؟
موسم زمستان کی سردی نے ذرے ذرے کا وجود چیر کے رکھا تھا۔ہلکی ہلکی سی بارش نے سڑک کے آلودہ چہرے کو صاف شفاف کیا تھا۔تقریبا میں گیارہ بجے گھر سے نکلا۔جوں ہی میں نمائش گاہ کے دروازے پر پہنچ گیا تو دروازہ بند تھا۔میں نے دستک دی تو وہاں سے چوکی دار کی آواز آئی۔۔۔
’’کون ہے؟میں نے کہاں۔۔ مہ، مہ، مہ۔۔ ایک رخمی کہانی کا کر دار؟‘‘
’’تمہاری کہانی کا نام کیا ہے؟‘‘
’’میں،میں، میں،۔۔۔‘‘
میری کہانی کھوگئی ہے۔اسی لئے یہاں دھونڈنے آیا ہوں۔چوکی دار نے دروازہ کھولا  اور میں نے نماش گاہ میں قدم رکھا۔سامنے بے شمار کہانیاں بے گور وکفن پڑی تھیں،جو کتابوں میں اُترنے کے لئے پھڑ پھڑارہی تھیں۔کئی کہانیوں کے کردار اس المناک ماحول میں ایک  دوسرے سے لڑرہے تھے کہ کوئی ہمارا رول ہم سے چھین نہ لے۔آتے جاتے کردار اپنی اپنی کہانیوں کی تلاش میں تھے۔میں نے وحشت کی کہانی،ظلم کی کہانی،غربت کی کہانی،امن کی کہانی،موسم کی کہانی،رنگ کی کہانی ،درد کی کہانی،خوشی کی کہانی،نمبر کی کہانی، قلم کی کہانی ،انتخاب کی کہانی،سیلاب کی کہانی،ہل کی کہانی ،گلاب کی کہانی،وبا کی کہانی،کنول کی کہانی ،کسان کی کہانی،آن لائن اور آف لائن کی کہانی ۔۔۔۔نہ جانے کس کس کہانی  میں خود کو دھونڈنے کی کوشش کی لیکن ہر سطح پر شکست کے بت کو پوچھنا پڑا۔شکست کے بت کو اس لئے پوچھنا پڑا یا میں ہر کسی کہانی کا کردار  ہوں یا  مجھے ہر کسی کہانی میں استعمال کیا جارہا ہے۔وقت کافی ہوچکا تھا اب میں نے نمائش گاہ سے نکلنے کی کوشش کی تو نمائش گاہ کے کنواں سے کسی نے خوفناک آواز میں کہا۔۔۔۔؟
تم کس کہانی کے کردار ہو؟میرا جود تھر تھراہٹ کے دریا میں ڈوبنے لگا۔یہ کس کی خوفناک آواز ہے۔ابھی میں اس آواز کو کانوں میں اتارنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اچانک پھر سے ہوا میں آواز گونجنے لگی! 
میں وقت کا دیوتا ہوں۔کس کہانی میں کام کرنا چاہتے ہو۔ اب ہم نے بہت ساری نئی کہانیوں کو جنم دیا  ہیں۔اس لئے یہاں  رخصت ہونے سے پہلے تم کو اپنی نئی کہانی کا انتخاب کر نے پڑے گا۔میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا شاید یہ دیوتا میرا بھی گلا گھونٹ دے گا۔آس پاس کی نئی کہانیوں کا جائزہ لینے کے بعد میری نظریں چنار کے پتوں کی چادر اوڑھے ہوئے ایک بوڑھے کردار پر پڑیں جو لڑکھراتے ہوئے  بڑابڑا رہا  تھا  اور اس کی گود میں ایک گٹھٹری تھی جسے وہ پوری طاقت سے تھامنے کی کوشش کر رہا تھا۔میںنے پوچھا بابا  اس میں کیا ہے؟اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
’’میں ان کے قریب گیا  اور پھر سے اشارہ کیا کہ اس  میں کیا ہے؟ہا ہا ہا ہاہاہا۔۔۔یہ ۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔ اس میں میری اور تمہاری کہانی  ہے۔۔میری اور تمہاری کہانی ہے ۔۔میری اور تمہاری کہانی  ہے۔۔۔ہاہاہاہاہا۔۔گم شدہ ماضی کا حال ۔۔۔اور پھر میں نے اسی کہانی کا انتخاب کیا‘‘
 ���                                                                                                                          رعناواری سرینگر۔9103654553
 

تازہ ترین