تازہ ترین

تنقید اور ادبی تنقید

تحریر

تاریخ    17 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
تنقید کا لفظ یا نام سنتے ہی کئی لوگ  عام تنقید اور ادبی تنقید کے مابین امتیاز کرنے میں مغالطے کا شکار ہوجاتے ہیں کہ اس کامطلب خوبی خامی یاکیڑے نکالنے جیسا عمل ہے۔عام تنقید کے تعلق سے کچھ حد تک یہ بات مناسب بھی ہے کیونکہ نجی یا سماجی سطح پر تنقید کا عمومی مفہوم و مطلب یہی ہے اور اس خیال کے تحت یہی رویہ برتا بھی جاتا ہے۔ مثلاکسی شخص میں یہ عیب ہے۔وہ بندہ بڑا گھمنڈی ہے۔۔۔ وہ کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتا ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ 
لیکن اس کے برعکس ادبی تنقید کا مقصد و مدعا اور برتنے کا مباحثہ کچھ اور ہے۔ ادبی تنقید اور عام سطح کی تنقید کے مابین قطبین کا فرق ہے۔
ادبی تنقید۔۔۔معنوی اور اطلاقی لحاظ سے اتنی آسان نہیں ہے جتنا بیشتر لوگ سمجھنے میں دھوکہ کھاجاتے ہیں اور اس زعم میں رہتے ہیں کہ کسی شعر،'غزل و'نظم کے'متن،افسانے،مضمون یا کتاب وغیرہ پر سطحی قسم کی گفتگو کرتے ہوئے بس کا کی کے 'پروف کی اغلاط کی نشاندہی یا چند سطور میں اپنی پسند یا ناپسند کا اظہار کرناتنقید ہے‘ یا تھوڑا بہت خوبی خامی سے متعلق چند جملے لکھ کر خود کو ناقدین کی صف میں شمار کرنا وغیرہ۔۔۔ یہ ایک قسم کا تبصراتی یا تاثراتی خیال ہوتا ہے۔ سماجی سطح پر بے شک تنقید کا معنی خامیوں کی نشاندہی کرنا ہی مروج ہے تاہم ادبی سطح پر یعنی ادبی تنقید کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ ہر کوئی اناپ شناپ لکھ کر خود کو ناقد سمجھنے کی غلط فہمی کی زد پر رہے۔ کسی کی تحریر پر سطحی قسم کی چند باتیں کرنا ادبی تنقید نہیں کہلاتی بلکہ۔۔۔۔
ادبی تنقید(Literary crticism) ادب کا ایک ایسا مضمون (subject) ہے جس کے دائرے میں کسی بھی معیاری متن' مضمون'تخلیق یا فن پارے کا علمی وادبی'لسانی واسلوبیاتی'نفسیاتی وسماجی اور فکری و تکنیکی وغیرہ علمی وتنقیدی اسالیب کے پیش نظر محاکمہ کرنا'مکالمہ بنانا'چھان پھٹک کرنا'معیاربندی کرنا'توضیح وتشریح کرنا'حسب مناسب خصائص اور خامیوں کو اجاگر کرنا'(تاہم اگر کسی متن میں خامیاں موجود نہ ہوں تو ضروری نہیں کہ فضول قسم کی کوشش کی جائے)  معنوی'ادبی 'تکنیکی  اور فنی و موضوعاتی جائزہ لینا یا تجزیہ کرناوغیرہ آتا ہے۔ مختصرا کسی بھی متن کوادبی وفنی،فکری ولسانی اور موضوعاتی و تخلیقی بنیاد پر ادبی و تنقیدی شعریات کے دائرے میں منظم انداز سے ڈسکورس بنانا تنقید کہلاتا ہے۔ مزید توضیح کریں تو ادبی تنقید کا بنیادی مقصد اور کام کسی بھی فن پارے/ تخلیق/ تحریر/ شعر/ فکشن وغیرہ کو علمی وادبی' فنی وفکری 'تجرباتی ومشاہداتی  وغیرہ لوازمات کے پیش نظر تنقیدی عمل کے تجزیاتی ڈسکورس سے گزارنا ہوتا ہے۔ اس میں تحریر /تخلیق کے اسلوب'موضوع'تکنیک'زبان وبیان'پیام'ہئیت وغیرہ چیزوں کا کبھی کبھی ایک ساتھ اور کبھی کبھی صرف ایک پہلو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس میں تحریر کی خوبی اور خامی کو اُجاگر کرنا بھی شامل ہے لیکن مذکورہ باتوں کو چھوڑ کر صرف خوبی وخامی کے اجاگر کرنے کا نام ادبی تنقید نہیں ہے۔ یہ ادبی تنقید سے ناواقف ہونے کی غمازی کرتا ہے اور ہاں یہ ضروری نہیں کہ کسی شعر یا افسانے میں کوئی خاص قابل بیان خامی نظرنہ آئے اور تجزیہ نگار کسی معیاری متن کے فنی اور موضوعاتی پہلوؤں کے خصائص کا ہی احاطہ کرے تو بھی یہ اس تخلیق کا تنقیدی جائزہ کہلائے گا‘یعنی اگر کوئی شعر وافسانہ فنی اور موضوعاتی طور پر معیاری ہو تو دلیل کے ساتھ اس کی خوبیاں بیان کرنا بھی ادبی تنقید کے زمرے میں آتا ہے ۔ادب میں کئی تنقیدی نظریات مثلا عملی تنقید، 'ہیئتی تنقید،'قاری اساس تنقید، 'نفسیاتی تنقید،مارکسی تنقید،'تخلیقی تنقید،'ساختیاتی تنقید،'نفسیاتی تنقید،'اکتشافی تنقید'مابعد جدید تنقید وغیرہ کے علاوہ ادبی تھیوریز بھی ہیں، جن کے تحت کسی بھی متن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔۔۔اس لئے کسی معیاری تخلیق یا فن پارے سے متعلق یہ کہنا کہ اس کو تنقید کی ضرورت نہیں 'ادبی اور علمی بنیاد پر ادبی تنقید کی علمیت'اہمیت اور ضرورت سے بے خبری  ہی کہلا ئے گا  اور معمولی تعریفی تبصرہ نگاری کا چلن عام ہوگا۔ کئی لوگ تو ابھی تبصرہ'تاثر'رائے اور تنقید کے مابین فرق کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ باقی تنقید کے اقسام اور اطلاقی مثالوں کی بحث چھیڑنے سے موضوع طویل ہوجائے گااور بقول نیر رانی شفق:
کروں جو تنقید ظلمتوں پر
تو آئے گا حرف حکمتوں پر
(مسکراہٹ)
���وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر،موبائل نمبر؛   7006544358