’’سورج اور چاند کی حرکت پر غور کرو ‘‘

کائنات کے سارے راز افشاء ہوں گے

تاریخ    16 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


منظور انجم
قرآن مجید پڑھنا ہر مسلمان کے لئے نجات کا ضامن ہے اور بیشتر مسلمان روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ اکثر مسلمان صرف ثواب حاصل کرنے کے لئے قرآ ن کی تلاوت کرتے ہیں ۔بہت سارے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے ان کی ساری مشکلیں اور مصیبتیں دور ہوجائیں گی ۔ روزی میں برکت ہوگی ۔ بچوں کو روزگار حاصل ہوگا ۔ بیماریاں دور ہوجائیں گی اور دشمنوں کے شر سے نجات حاصل ہوگا ۔علماء ، مفتی اور مبلغین نے یہی تصور عام کیا ہے ۔ ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ قرآ ن حکیم کی تلاوت سے خوش ہوتا ہے اور وہ بندوں پر اپنی رحمت کا سایہ کرتا ہے ۔ بے شک یہ درست ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن کو صرف اس لئے نہیں اتارا گیا ہے کہ اس کی تلاوت سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرکے اپنے دنیاوی مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا جائے ۔ یہ صرف ایک پہلو ہے دوسرا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے ۔ قرآ ن کے ہر حرف اور ہر آیت میں انسان کے لئے رہنمائی اور رہبری کے سمندر موجود ہیں ۔ اسی لئے خود قرآن کے اندر قرآن کو سمجھنے کی بار بار تلقین کی گئی ہے ۔ ذہن سے کام لینے اور غور کرنے کیلئے کہا گیا ہے لیکن اس پہلو کو تقریباً فراموش کردیا گیا ہے اور یہی مسلمانوں کے زوال کا باعث بھی بنا ہے ۔ آج  بہت کم مسلمان ایسے ہیں جو قرآن کی آیات میں وہ علم تلاش کرتے ہیں جس کا انہیں کامل یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں پوشیدہ ہے ۔ایسا ہی ایک مسلمان گزرا ہے جسے دنیا گیارہ سو سالوں سے البرونی کے نام سے جانتی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ آج کے دور میں بہت کم مسلمان ہوں گے جو اس نام سے واقف ہیں لیکن علم اور سائنس کی دنیا میں یہ وہ نام ہے جو تب تک جاوداں اورتاباں ہے جب تک دنیا میں علم اور سائنس موجود ہے ۔یورپ میں علم اور سائنس کا عروج  اسی مسلمان اور اس کے کئی ہم عصر مسلم سائنس دانوںکی سائنسی تحقیق کا مرہون منت ہے ۔اسلامی خلافت کا ایک مختصر دور تھا جب اس کا دارالخلافہ بغدادعلمی اور سائنسی سرگرمیوں کا واحد عالمی مرکز تھا ۔ایک سے بڑھ کر ایک سائنس داں ، فلسفی اور عالم کائنات کے ان پوشیدہ رازوں کو دریافت کرنے میں مصروف تھا جس کاعلم اور جس کی رہنمائی اسے قرآ ن سے حاصل ہوئی تھی ۔خود ان سائنس دانوں نے اپنی کتابوں میں یہ اعتراف اور اعلان کیا کہ انہیں قرآن کے علم نے تحقیق کی طرف راغب کیا ۔ ان مسلمان سائنس دانوں نے رومی فلسفے کی ہر اہم کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا ۔ جبکہ مغرب اس دور میں اس علم کو فراموش کرچکا تھا ۔اور بدترین علمی پسماندگی کا شکار تھا ۔ اپنی زندگی میں ایک سو چالیس کتابیں تحریر کرنے والے عظیم سائنس داں البرونی نے دسویں صدی عیسوی میں دنیا کو وقت کی صحیح پیمائش کا جامع تصور دیا ۔وہ علم فلکیات اور کرونو میٹری (یعنی وقت کی درست پیمائش کا سائنسی علم )کے ذریعے وقت کی پیمائش کے اصول وضع کرنے کے لئے پوری عمر دیوانگی کی حد تک مگن رہا ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ جنون اس کے اندر قرآ ن میں اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے پیدا ہوا تھا کہ ’’سورج اور چاند کی حرکت پر غور کرو ‘‘۔ اس کا کہنا ہے کہ اس ایک آیت نے اس کے دل میں گھر کرلیا ۔ اور وہ غور کرنے لگا ۔ یہاں تک کہ اس نے زمین اورستاروں کی پیمائش سے متعلق قواعد وضع کردئیے۔اس کے جنون کا یہ عالم تھا کہ اس نے دنیا کے تقریباً تمام مذاہب کے کلینڈروں ، تہواروں اور تہذیبوں پر تحقیق کی ۔وہ مختلف مذاہب کے کلینڈروں سے وقت پر تحقیق کرتا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے اسے ہندوستان میں یہ مشکل درپیش آئی کہ یہاں صرف سنسکرت زبان میں سارا مذہبی فلسفہ تھا جو عام لوگوںکی زبان نہیں تھی اور اس شخص نے سنسکرت جیسی مشکل زبان بھی سیکھ لی اور پھر کتاب الہندجیسی مشہور زماں کتاب لکھی جس کی بناء پر اسے مطالعہ ہند کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔
بی بی سی ریڈیو تھری نے ’’ اسلام کا سنہری دور ‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی سیریز پیش کی ہے جس میں پروفیسر جیمز موٹگومری نے البرونی کے علمی اورسائنسی کارناموں پر ایک نظر ڈالی ہے ۔انہیں حیرت اس بات پر ہے کہ البرونی کیسے علم اور سائنس کے الگ الگ شعبوں میں تحقیق کرکے درست نتائج پیش کرتے تھے ۔وقت کی پیمائش ان کا پسندیدہ موضوع تھا لیکن اپنی عمر کے آخری دنوں میں انہوں نے اس وقت دواسازی پر ایک کتاب لکھی جب انہیں نہ کچھ دکھائی دے رہا تھا اورنہ سنائی ۔اس کتاب میں انہوں نے ایک ہزار سے زاید دواوں کے نسخے لکھے ۔البرونی نے آنے والے وقت کی درست پیمائش ، جغرافیہ کو ریاضی کے ذریعے سمجھنے کی کوششں ،جیومیٹری ،علم پیمائش ارض ،علوم فلکیات اور اطلاقی ریاضی سے متعلق تحقیق کی ۔’القانون المسعودی‘ نامی کتاب میں وہ زمین اور ستاروں کی پیمائش سے متعلق قواعد وضع کرتے ہیں ۔انہوں نے جوآغاز کیا وہ آج انسان کو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے قابل بناچکا ہے ۔ دنیا کے عظیم سائنس داںاور فلاسفر ابن سینا جس نے ارسطو کی کتابوں کا پہلی بار عربی میں ترجمہ کیا اور جو ارسطو کے بڑے مداح تھے جب البرونی سے ملے تو متعدد علمی معاملات پر ان سے بحث کی ۔اس دوران البرونی نے ارسطو پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں بتایاکہ ارسطو نے اپنے مشاہد ے کے بجائے سابقہ فلسفیوں کے کام پر انحصار کیا ۔اس پر ابن سینا حیرت میں پڑگئے ۔اور ان پر یہ راز کھلا کہ البرونی اس سے پہلے ہی اس سے زیادہ ارسطو کو سمجھتا تھا ۔اسلام کے سنہری دور کی سیریز میں ابن سینا سے متعلق کہا گیا کہ اس نے مغرب کو’ خدا کے وجود کا تصور ‘سمجھایا ۔ ایک اور مفکر اور سائنس داں الفارابی کے متعلق کہا گیا کہ اس نے یونانی فلسفے سے اسلام سمجھانے کی کوشش کی ۔روس نے البرونی کے نام پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی اجراء کی ہے ۔اس کی کتابوں کا ترجمہ انگریزی کے علاوہ مغرب کی ہر زبان میں ہوا ہے اور نہ صرف اسے اعلے ٰ علمی اداروںکے نصاب میں شامل کیا گیا ہے بلکہ سائنس دانوں کے درمیان آج بھی اس کا کام موضوع بحث بنا رہتا ہے ۔
دنیائے سائنس کے عظیم مورخ جارج سارٹن متعدد جلدوں پر محیط اپنی کتاب ’’ دی انٹرو ڈکشن ٹو سائنس ‘‘میں سائنس کی تاریخ کو متعدد حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور ہر حصہ آدھی صدی پر محیط ہوتا ہے جس کا عنوان اس عرصے کے سب سے عظیم سائنسداں کے نام پر ہوتا ہے ۔اس میں 800سے 850عیسوی تک کے عرصے کا عنوان ’’ دور الخوارزمی ‘‘رکھاگیا ہے ۔اسلامی دنیا کے اس عظیم سائنسداں اور فلسفی جس کا پورانام محمد ابن موسیٰ الخوارزمی ہے نے’ کتاب الجبر ‘ جیسی معرکتہ آرا ء کتاب تحریرکی اور اس کتاب کا عنوان ہی بعد میں’  الجبرا‘بنا ۔ایسی بہت ساری ہستیوں نے دنیا کو علم کی روشنی سے منور کیا ہے لیکن اس روشنی سے اگر کسی نے کچھ حاصل نہیں کیا تو وہ مسلمان ہی ہے  ۔ مغرب نے اس روشنی کااستعمال کرکے انسان اور اس کی دنیا کی تقدیر ہی بدل دی ۔اور دنیا کو اپنا محتاج بنا کررکھ دیا ۔آج مسلمان کو دل کا دورہ پڑتا ہے تو وہ علاج کرنے کے لئے امریکہ یا برطانیہ چلا جاتا ہے ۔ اس کے جہاز کا پرزہ خراب ہوتا ہے تو امریکی یا برطانوی کمپنی ہی اسے ٹھیک کرتی ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ علم اور سائنس کی اتنی مضبوط بنیاد قائم کرنے اور قاعدانہ کردار ادا کرنے کے بعدمسلمان نے یہ عظیم سرمایہ کھودیا اور جب اس کے سائنس دانوں اور عالموں کی کتابیں عربی سے یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوگئیں تو یورپ کی تقدیر بدل گئی ۔ایسی حیرت انگیز دریافتیں ہوئیں کہ جنہوں نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کردئیے ۔مسلمانوں نے اس سوال پر بھی کبھی غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ا گر غور کیا جاتا ٰتو یقینی طو ر پر معلوم ہوتاکہ جس کتاب الٰہی نے مسلمان کو یہ علمی عظمت عطا کی تھی اس کو سمجھنے کے لئے پڑھنے کے بجائے صرف پڑھنے کے لئے یا ثواب حاصل کرنے کے لئے پڑھنے کا طریقہ عام کردیا گیا ۔اس بات کی صرف کم توجہ دی گئی کہ آخر اس کتاب کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے کس مقصد سے انسانوں کے لئے بھیجاگیا۔ اس کتاب الٰہی میں وہ سب کچھ ہے جو اس کے پڑھنے والے کو دنیا اور آخرت دونوں کی سرخروئی عطا کرسکتا ہے ۔ وہ اُس خدائے بزرگ و برتر کو بھی پہچان سکتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی اس کائنات کے سارے راز اس پر افشاء ہوسکتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو پہچان سکتا ہے اور جو اپنے آپ کو پہچان سکے گا وہ ہر شئے میں اس پروردگار کا دیدار کرسکتا ہے جس نے اس کے وجود کو پیدا کیا ہے ۔کروڑوں اور عربوں لوگوں نے ڈالی سے سیب کو زمین پر گرتے ہوئے دیکھا ۔صرف ایک انسان ایسا تھا جس کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ سیب ڈالی سے ٹوٹ کر زمین پر ہی کیوں گرا ۔ہر چیز جو اوپر سے زمین پر ہی کیوں گرتی ہے ۔کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اوپر سے جو چیز گرتی ہے نیچے نہیں آئے گی تو کہاں جائے گی ۔ کچھ لوگ اگر سوچتے تھے تو اتنا سوچتے تھے کہ اللہ کی مرضی ہے جس چیز کو جہاں گرائے گر جائے گی لیکن اس شخص نے غور کیا اس نے قدرت کااہم راز کشش ثقل دریافت کرلیا جو سائنسی علم کا ایک اہم جز بنا اور انسان کی دریافتوں میں بہت کام آیا۔ قرآ نی آیات میں جگہ جگہ غور کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور غور کرنے کا مطلب یہی ہے جو بھی ہوتا ہے کیوں ہوتا ہے ۔ یہی سائنس کا بنیادی اصول ہے اور اس پر عمل کرنے والے مسلمان نہیں ہیں ۔
���������
 

تازہ ترین