تازہ ترین

محرم اور غیر محرم کا بیان اور ہمارے لئے سوچنے کا مقام

دین کی باتیں

تاریخ    14 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


آفتاب اظہرؔ صدیقی
اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں آدمی کی زندگی کیلئے مکمل رہنمائی ہے، پیدا ہونے سے مرنے تک اور نکاح سے طلاق تک سبھی احکامات سے اسلام نے ہمیں روشناس کرایا ہے۔ لہٰذا ، اسلام نے جہاں نکاح کی شرائط اور اس کا طریقہ بتایا ہے، وہیں کس کا نکاح کس سے ہوسکتا ہے اس کو بھی صاف طور پر سمجھادیا ہے۔ آج ہماری ناواقفیت کہیے یا جان بوجھ کر اسلامی احکامات سے چشم پوشی کہ ہمارے آس پاس اور خود ہماری رشتہ داریوں میں نکاح کے لیے لڑکے اور لڑکیاں موجود ہوتے ہوئے بھی ہم رشتوں کی تلاش میں پاگلوں کی طرح خاک چھانتے پھرتے ہیں۔ آج کی اس تحریر میں آپ حضرات کے سامنے اسی بات کی وضاحت مقصود ہے کہ اسلام نے کہاں کہاں نکاح کو ناجائز قرار دیا ہے اور شریعت کے مطابق کن رشتوں کے درمیان نکاح کیاجاسکتا ہے۔ تو آئیے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ پردہ کس کس سے کیا جانا چاہیے، یعنی محرم کون ہے اور غیر محرم کون؟ محارم یعنی وہ افراد جن سے عورت کو پردہ نہیں ہے وہ یہ ہیں :
(1) شوہر  (2) باپ  (3) چچا  (4) ماموں  (5) سسر  (6) بیٹا  (7) پوتا  (8)نواسہ  (9) شوہر کا بیٹا   (10) داماد   (11)بھائی   (12) بھتیجا   (13) بھانجا   (14) مسلمان عورتیں  (15)کافر باندی  (16) ایسے مدہوش جن کو عورتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔
نامحرم رشتہ دار یعنی وہ رشتہ دار جن سے پردہ فرض ہے، وہ درج ذیل ہیں:
 (1) خالہ زاد   (2) ماموں زاد   (3) چچا زاد   (4) پھوپھی زاد   (5) دیور    (6) جیٹھ   (7) بہنوئی   (8)نندوئی   (9) خالو    (10) پھوپھا   (11) شوہر کا چچا   (12)  شوہر کا ماموں   (13)شوہر کا خالو   (14) شوہر کا پھوپھا   (15) شوہر کا بھتیجا    (16) شوہر کا بھانجا۔
اب یہاں ایک اور بات سمجھ لینی چاہیے کہ محارم سے کبھی بھی نکاح نہیں ہوسکتا، رہ گئے غیر محرم تو ان کی دو قسمیں ہیں : پہلی وہ جن سے نکاح مطلقاً جائز ہے، وہ یہ ہیں(۱) خالہ کی بیٹی یا بیٹا (۲) ماما کی بیٹی یا بیٹا (۳) چچا کی بیٹی یا بیٹا (۴)پھوپھی کی بیٹی یا بیٹا (۵) اسی طرح ان کی اولاد سے بھی نکاح جائز ہے ، یعنی خالہ کی بیٹی کی بیٹی، چچا کی بیٹی کی بیٹی، پھوپھی کی بیٹی کی بیٹی اور ماما کی بیٹی کی بیٹی سے بھی نکاح جائز ہے۔ غیر محرم کی دوسری قسم میں وہ شادی شدہ افراد آتے ہیں جن سے نکاح کی حرمت کی وجہ ان کا موجودہ نکاح ہے، اگر ان کے شریک حیات کا انتقال ہوجائے یا ان کے درمیان طلاق واقع ہو جائے تو ان سے نکاح کرنا بھی جائز ہے۔ جیسے (۱) بہنوئی (اگر بہن کا انتقال ہوجائے یا طلاق ہوجائے تو بہنوئی سے نکاح جائز ہے) (۲) نندوئی (شوہر کا بہنوئی: شوہر کے انتقال یا طلاق کے بعد عورت اپنے نندوئی سے نکاح کر سکتی ہے۔ ) (۳) خالو (ماں کی بہن کا شوہر: اگر خالہ کا انتقال ہوجائے یا طلاق ہوجائے تو لڑکی اپنی خالہ کے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔ (۴) پھوپھا (باب کا بہنوئی: اگر پھوپھی مر جائے یا طلاق ہوجائے تو لڑکی پھوپھی کے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے) اسی طرح ہر شادی شدہ عورت کے لیے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد شوہر کے چچا، شوہر کے پھوپھا، شوہر کے ماموں، شوہر کے خالو، شوہر کے بھتیجے اور شوہر کے بھانجے سے بھی نکاح جائز ہے۔لیکن آج المیہ یہ ہے کہ مسلمان بھی غیر مسلموں کی طرح رشتہ داریوں میں نکاح کو درست نہیں سمجھتے؛ حتی کہ بہت سے گھرانوں میں چچا زاد، خالہ زاد اور پھوپھی زاد سے بھی نکاح کو معیوب سمجھا جاتا ہے؛ حالانکہ کفو کے اعتبار سے اور معاشرتی لحاظ سے بھی نکاح کے لیے یہ بہترین رشتے ہیں۔ اور پھرچچا زاد بہن یا بھائی کی بیٹی یعنی چچیری بھتیجی یا دور کی بھانجی سے تو گویا نکاح کے بارے میں بولنا ہی جرم عظیم ہوگیا ہے، بہت سے خاندانوں میں بڑے بھائیوں کی اولاد بھی صاحب اولاد ہوجاتی ہیں اور چھوٹے بھائیوں کی اولاد بڑے بھائیوں کی اولاد کی اولاد کے ہم عمر ہوتی ہیں؛ لیکن رشتے کا یہ تصور کسی کے ذہن میں آتا بھی نہیں، رشتوں کی تلاش میں دنیا جہان ایک کر دیتے ہیں، لیکن گھر اور خاندان میں ہی جو رشتے موجود ہیں انہیں معیوب سمجھا جاتا ہے، یہ علم و دانش اور دین و اسلام سے دوری کی علامت نہیں تو اور کیا ہے۔ اب آپ اپنے محلے، اپنی بستی یا اپنے قریب اور دور کے رشتہ داروں میں غور کیجیے، کتنی ہی ایسی جوان بچیاں ہوں گی جن کے نکاح کی عمر ہوچکی ہے یا عمر گزرتی جارہی ہے، لیکن اپنوں میں رشتہ نہیں کیا جارہا ہے، حالانکہ خود اس کے آنگن کے قریب اس کے لیے لائق لڑکا موجود ہے۔ غور کیجیے کسی صاحب کے چند بیٹے ہیں، دو شادی شدہ ہیں اور تین کنوارے، بڑے بیٹے کا جوانی کے عالم میں انتقال ہوگیا، اس کی اہلیہ بے یار و مددگار ہوکر رہ گئی، اب اس کی زندگی کیسے کٹے گی، چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں، ان کی کفالت کا ذمہ کون لے گا؟ اب اس جوان بیوہ کے پاس دو آپشن ہیں یا تو وہ پوری زندگی خود محنت مزدوری کرکے اپنا گزارہ کرے اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرے یا کسی سے شادی کرکے بقیہ زندگی اس کے زیر کفالت گزارے، لیکن شادی کے بغیر زندگی آسان نہیں ہے، جوان عورت محنت مزدوری کرکے اپنا گزارہ تو کرلے گی؛ لیکن جنسی تسکین کہاں سے حاصل کرے گی؟ دوسروں کی بدنگاہی کو کیسے برداشت کرے گی؟ کوئی موقع کا فائدہ اٹھانا چاہے گا تو کب تک اپنے دامن عفت کو بچائے رکھے گی، زندگی کا ہر قدم پُرخار ہے، ہر آنے والا دن مظلومیت، محرومیت، بدنصیبی اور تنہائی کا سورج لیے ہوئے نکل رہا ہے، ایسے میں اس کے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ وہ دوسری شادی کرلے اور اپنی بقیہ زندگی عافیت کے ساتھ گزارے؛ لیکن اس سے شادی کون کرے گا۔ کنوارا دیور اسے اس لیے نہیں اپناتا کہ اس سے شادی کرکے اسے ملے گا کیا؟ جہیز کون دے گا؟ اور پھر اپنے جذبات بھی تو ہیں۔ چلئے دیور اپنی شادی کے لیے خود مختار ہے، کنوارا ہے، اس کی خواہش ہے کہ کسی کنواری لڑکی سے ہی نکاح ہو؛ لیکن کیا اس بیوہ کے لیے یہی ایک رشتہ ہے؟ جی نہیں! وہ اپنے شوہر کے شادی شدہ بھائی سے بھی نکاح کر سکتی ہے، اپنے شوہر کے چچا سے بھی نکاح کر سکتی ہے، اپنے شوہر کے پھوپھا ، شوہر کے خالو، شوہر کے ماموں سے بھی نکاح کر سکتی ہے، شوہر کے چچازاد بھائیوں سے تو کر ہی سکتی ہے؛ لیکن اتنے مواقع ہونے کے باوجود معاشرے کی ایک جوان خاتون تاعمر بیوگی کے حال میں گزاردیتی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم نے کبھی اس موضوع پر سوچنے کی کوشش کی؟ اگر سوچا بھی تو کیا عملی میدان میں اترکر اس نامعقول سوچ کے سماج کو اور اس کے ہر نقصان دہ رواج کو بدلنے کی کوشش کی؟
راقم الحروف بطور خاص علمائے کرام سے درخواست گزار ہے کہ اصلاح معاشرے کے کاموں میں اس کام کا بھی اضا فہ کریں کہ لوگوں کو محرم اور غیر محرم اور نکاح کے جواز کی جوڑیاں بتائیں؛ نیز ایک سے زائد شادیوں کی ترغیب دیں، کم از کم بیوہ خواتین کے لیے مردوں کو دوسری شادی کی تاکید ضرور کریں۔