غیر شادی شدہ خواتین کی بڑھتی تعداد

کشمیری معاشرہ آخر کہاں جارہا ہے؟

تاریخ    14 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


یاسر عرفات طلبگار
ارض کشمیر جسے ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں میں "جنت"سے موسوم کیا ہے، اہل زمین سے چند توجہات کی متقاضی ہے۔ اس خطے کو تاریخ میں "پیر وار" اور اولیاء اللہ کی آماجگاہ قرار دیا گیا ہے، یہاں پر بڑے بڑے عالم و داناؤں نے تولد پایا اور کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ مثال کے طور پر شیخ العالم حضرت نورالدین نورانی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ایشان شیخ یعقوب صرفیؒ، سید میر علی ہمدانیؒ، سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدومی رحمہ اللہ، حضرت شیخ سید فریدالدین بغدادی ؒاور بابا غلام شاہ بادشاہؒ وغیرہم کے اسمائے گرامی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ان اہل کشف و زہد اولیائے کرام نے اپنے قیل و قال اور عمل و سعی کے ذریعے سے کشمیر کے عوام کی دینی و اخلاقی تربیت و رہنمائی کو اپنا ہمہ وقتی مشرب بنایا اور وادی کے نشیب وفراز، شہر و دیہات تک اسلامی تعلیمات کی اشاعت کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا۔ ان کی تعلیمات و سعی بلیغ ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم بفضل اللہ کلمہ گو ہیں، ورنہ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ یہاں کی اکثریت غیر مسلم تھی اور بعید نہیں کہ ہم بھی خدا ناخواستہ کسی دیر ِ بتاں میں کسی صنمِ سنگین کی پرستش کر رہے ہوتے۔ ہمارا معاشرہ چونکہ صدیوں سے کچھ دینی و اخلاقی روایات کا حامل رہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان روایات کے دوام و بقاء کی طرف توجہ مبذول کی جائے۔ یہاں ان روایات کی تفصیلات سے صرف نظر کرتے ہوئے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ ہمارے اس کشمیر (کشمیر سے مراد کشمیر سے پیر پنچال بشمول قدیم ضلع ڈوڈہ) میں زمانہ قدیم سے بہت سے عناصر نے اپنا اثر و نفوذ قائم کرنے کی کوششیں کیں، چنانچہ یہاں کے عوام نے کسی حد تک مثبت اثرات کو قبول کیا مگر منفی اثرات کو چنداں پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی اور اس کا سہرا یہاں کی غیور عوام کے سر بندھتا ہے۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ علم و ہنر یہاں کا دیرینہ ورثہ رہا ہے البتہ بہت سارے کام ایسے بھی ہیں جو بہر حال ناقابل ستائش ہیں۔ وقت چونکہ ترقی کے راستے پر تیز رفتار کے ساتھ رواں دواں ہے اور اس ترقی نے ایک عجیب انقلاب برپا کیا ہے جس نے انسان کے رہن سہن کو ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ایک عام آدمی کا اٹھنا بیٹھنا ایسے بدل گیا کہ اسے اپنی قدیم روایات کو فرسودہ قرار دینے کی احمقانہ جسارت کرنے میں باک محسوس نہیں ہو رہا ہے اور وہ اپنے گزشتگان تک کی توہین و تضحیک کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔وہ اپنے دور ہی کی ریل پیل اور رونقوں کی تعریفوں میں مگن ہے۔ اسے عظمت رفتہ کا پاس و لحاظ تک نہیں رہا جس میں اخلاقی اقدار کو سب سے اہم حیثیت حاصل تھی۔ اس ترقی کے تیز بہاؤ میں ہمارا کشمیری باشندہ بھی بہہ رہا ہے، وہ اس بہاؤ کے تیز دھارے کے آگے اپنی اقدار اعلیٰ کو بچا پانے میں ناکام سا دکھائی دے رہا ہے، اس بہاؤ سے اس کی معاشرتی زندگی  مکمل طور پر تبدیل ہوگئی، اس کے رشتوں کی حساسیت میں سستی واقع ہوگئی۔ مزاج میں تغیر آ گیا، شرم و حیا کی ردا میں غیر محسوس رخنے پڑ گئے جہاں سے رازداری افشاں ہو گئی۔ بیٹی اور ماں کے رشتے میں کمزوری آ گئی ،ماں کو ذمہ دار کی جگہ نوکرانی کی حیثیت دی جانے لگی ہے ، باپ کو منی بینک بنا دیا گیا ہے، اس کو حکمران کی حیثیت سے جو اختیارات اپنی اولاد پر حاصل تھے ان سے سبکدوش کر دیا جارہا ہے، اب اس باپ کو اپنی بیٹی یہ کہنے میں عار و جھجھک محسوس نہیں کرتی کہ اب میں بڑی ہو گئی ہوں اور مجھے اپنی زندگی کے متعلق کوئی بھی فیصلہ لینے کا پورا حق حاصل ہے اور آپ میرے معاملے میں کوئی دخل اندازی نہ کریں یا یوں کہتی ہے "میرا جسم میری مرضی جو چاہے کروں " ۔اور بعد میں اس مرضی کے مناظر ہسپتالوں کے کوڑادانوں میں آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس مرضی کے چلن کے نتائج ہم میں سے کسی کی نیند نہیں اڑاتے، کسی کو مضطرب نہیں کرتے، کسی کو بے چین نہیں کرتے یہاں تک کسی کے دل میں اگر کبھی یہ سوچ آتی بھی ہے تو اس سوچ کو کئی خدشات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے اور وہ دل و دماغ سے باہر کا راستہ نہیں پاتی تو وہ اندر ہی مر جاتی ہے۔ 
ہماری اس جنت کے واسیوں کے احوال کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو عبرت ناک نتائج سامنے آتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق صرف شہر سرینگر میں ہی غیر شادی شدہ لڑکیوں کی تعداد 35000 کے آس پاس پائی گئی ہے۔ یہ تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے، سرینگر کے علاوہ باقی علاقوں میں بھی غیر شادی شدہ عورتوں کی تعداد سرینگر کے مقابلے میں کم ہے۔ اس مسئلے کے پیچھے بہت سارے عوامل کارفرما ہیں۔ جن کا یہاں ذکر کرنا قدرے مشکل ہے۔البتہ چیدہ عوامل(factors) کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں ذکر ہوا کہ ہمارے ہاں بہت سی روایات مروّج تھیں جو ترقی زمانہ کی نذر ہو گئیں۔ یہاں پر گزشتہ دور میں شادیاں نہایت سادگی اور بے تکلفی سے ہوا کرتی تھیں جن پر بہت کم مال خرچ ہوتا تھا۔ اس کے برعکس  دورحاضر  میں شادی کے اخراجات اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ عام انسان کے لئے شادی گویا جوء شیر لانے کے مترادف ہو گیا ہے۔ ولیمہ پر کھانوں کی باضابطہ ایک طویل فہرست تیار کی جاتی ہے جس کے لئے لمبے عرصے سے تیاریاں کی جاتی ہیں۔ کھانے کے اس نظام کے لئے ایک خاص اصطلاح وازوان استعمال کی جاتی ہے۔ فی کس جو کھانے میں ضیافتیں پیش کی جاتی ہیں وہ ایک چھوٹے موٹے کنبے کے یومیہ خرچ سے زیادہ کی قیمت کی ہوتی ہیں۔ شادی کے موقع پر کھانے کی مختلف اقسام کے علاوہ جو یہاں اسراف ہوتا ہے وہ معاشرے میں ایک ایسی آفت کو دعوت دیتا ہے جس کے فوری شکار ہماری نوجوان نسل میں بالخصوص لڑکیاں بنتی ہیں جن میں سے اکثر کے والدین ان اخراجات کو پورا کرنے کی مالی استطاعت و طاقت نہیں رکھتے نتیجتاً ان کی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے ہونے سے رہ جاتے ہیں۔ بھلے ہی ان ضیافات اور بدعات کا انجام دینا کچھ والدین کے لئے آسان ہوتا ہے مگر اکثریت کے لئے عذاب سے کم نہیں ہے جس کا ادراک ایک عام انسان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہماری خود ساختہ رسومات جیسے مہندی رات، بارات،پھر سال، تھپھ، سئتم، کوکر مجمہ، بادم لفافئہ، زول، گیوان وول، موہر، گہنہ، پلؤ سوٹ، داج، گاڑی، مکان وغیرہم نے ایک عام ماں باپ کے لئے بچوں کی شادی کو انگارا ہاتھ میں لینے کے برابر کر دیا ہے۔ یہ خرافات و بدعات ہمارے معاشرے میں دیکھا دیکھی اور دکھاوے کی بیماری نے عام کر دیئے ہیں جن سے فرار حاصل کرنا اگرچہ ہر کسی کی خواہش ہو سکتی ہے مگر بالفعل ہر کوئی اس کی زنجیروں میں پھنسا ہوا ہے۔ 
بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کلچر کی نقل نے بھی اپنا اثر و نفوذ قائم کیا ہے۔نوجوان نسل اس عمل میں پیش پیش نظر آ رہی ہے۔ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا بلاگوں پر لوگ اپنی آزادی اظہار رائے کے ڈنکے بجاتے ہیں۔ اس کلچر سے بھی بہت سی لڑکیوں کی عصمتیں لٹ رہی ہیں، ان کا جنسی استحصال ہو رہا ہے مگر کسی کو تب تک محسوس نہیں ہوتا جب تک کہ ان کا فرینڈ اپنی خواہشات کی تکمیل کے بعد انہیں چھوڑ نہیں دیتا۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ اس معصوم بچی کی شادی ہونا بھی بہت مشکل فعل بن جاتا ہے۔
 اس طرح سے ماں باپ کی زندگی پریشانیوں کا گھر بن جاتی ہے۔ کچھ بچے اور والدین تنگ آ کر آخری فیصلہ لے لیتے ہیں اور موت کو ترجیح دے کر خودکشی تک کر لیتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ دین سے دور ہونے کی وجہ سے مختلف معاشرتی پریشانیوں سے دو چار ہے۔ قدیم اخلاقی قدروں اور روایات سے کنارہ کشی کے نتیجے میں ہم لوگ  جدیدیت پسند( ماڈرن ) ہو رہے ہیں، جنسی بے راہ روی کا بازار ہر طرف گرم ہے جس کے لاوے کے اثرات سے دنیا کے گوش وکنار متاثر ہیں۔ صنف نازک کے جسم کی نمائش طرح طرح کے بہانوں سے ہو رہی ہے، معمولی تجارتی اشتہارات پر خوبصورت خواتین کی تصویر ساتھ میں چسپاں کر دی جاتی ہے۔ گویا عورت کو منڈی کا سامان تجارت بنا دیا ہے جو سستے داموں بک رہا ہے۔ 
عوامل میں نوجوانوں کی بے روزگاری بھی قابل ذکر ہے۔ معاشرے میں مارکسی فکر نے ذہنوں کو اپنا غلام بنا دیا ہے جس کی وجہ سے انہیں پیسے کے بغیر کوئی بھی چیز نہیں سوجھتی، ان کی نظر میں کوئی کتنا بھی نیک کیوں نہ ہو اس کی کوئی قدر نہیں بلکہ وہ انسان کو مالی اعتبار سے تولتے ہیں اور اس کی قیمت لگاتے ہیں پھر چاہے اس کا معاشرتی کردار جیسا بھی ہو، وہ کیوں نہ بداخلاق، بد چلن اور بد کردار ہی ہو۔وہ اس کو پیسے کمانے والی مشین سمجھ کر اپنا لیا جاتا ہے۔ بے روزگاری کی وجہ سے شریف النفس اور نیک سیرت لڑکیوں کی شادی میں تاخیر ہوجاتی ہے یا پھر ہوتی ہی نہیں ہے ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بے روزگار نوجوان ضرورت سے زیادہ مہر ادا کرنے کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے ایک اہم سنت اور کام کی انجام دہی سے قاصر رہ جاتا ہے، معاشرے میں غیر ضروری رسوم اور مہر کی زیادتی بھی شادی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک بے روزگار صحابی کو تین نکاح کرنے کی ترغیب دی تھی جو اس کی آمدن کا ذریعہ ثابت ہوئی۔ مگر آج لوگوں کے ذہنوں میں ایک ڈر بس گیا ہے کہ اگر نکاح کر لیا تو پھر کیا کھائیں گے اور کیا کھلائیں گے؟۔ جبکہ اللہ تعالیٰ خود ہی رزق رسان ہے، وہ کسی کو بھوکا سونے نہیں دیتا ہے۔ ہم نے اسباب و ماٗدہ کو بناء یقین بنایا ہے اور سبب ساز کو بھلا دیا ہے۔ 
ہم ذرا سوچیں کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس سے کیا فائدہ مند نتائج برآمد ہورہے ہیں؟ ہم جس روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں اس سے ہمارے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟ ہمارے پاس دین کی روشن تعلیمات ہیں جو انسان کی ہر قدم پر رہنمائی کے لئے کافی و شافی ہیں، تو بھلا ہم ان سے بے نیاز ہو کر فضول رسم و رواج میں گم ہو کر خسارہ ہی خسارہ اٹھا کر اپنے آپ کو کیوں زبردستی الجھنوں میں پھنسا رہے ہیں؟ دنیا داری میں گم ہو کر اللہ و رسول صلی علیہ وسلم سے بغاوت پر کیوں اتر آئے ہیں؟ کیا ہمارے پاس اخلاقی و دینی تعلیمات ناکافی ہیں جو ہم آئے دن نئی رسومات و بدعات کا معاشرتی و عائلی زندگی میں اضافہ کرتے ہی چلے جا رہے ہیں؟ ہم کس قسم کا معاشرہ تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں، یہی نہ کہ کل ہماری اپنی بہن بیٹی بن بیاہی رہ جائے گی، اس کو بھی کوئی کل بن بیاہی ہونے کا طعنے دے گا، یا وہ تنگ آکر کوئی ناپسندیدہ راستہ اختیار کر بیٹھے گی جو ہم کو قطعی برداشت نہ ہوگا،  یا وہ بھی موجودہ بے حیائی کے طوفان بدتمیزی میں اپنا دامن بھگو دے، یا وہ بے روزگاری کی مار کھا کر آپ پر عمر بھر بوجھ بنی رہے،  یا وہ بھی مارکسی فکر کے مادہ پرستوں کی صف میں شامل ہو کر کل آپ کو باپ کے بجائے نوکر قرار دے دے۔۔تو بتائیے آپ یہ کس چھاتی سے برداشت کر لیں گے؟ کیا آپ معاشرے میں ہو رہے فساد عام کو دوسروں سے منسوب کر کے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی احمقانہ کوشش کر رہے ہیں۔۔۔؟نہیں نہیں، اس میں آپ کا پورا حصہ موجود ہے، آپ اپنی حیثیت میں مکلف و مسؤل ہیں، آپ سے اس کی پوچھ اول آپ کی ضمیر کرے گی، تو پھر آخرت میں اللہ کے ہاں شدید پکڑ ہوگی، تو کیسے اپنے آپ کا اور پھر اللہ کا سامنا کریں گے؟ آخر یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ جن کے پاس دین ہے، شریعت کے سنہرے اصول ہیں، صحابہ کی روشن زندگی ہے، تابعین کے مثالی کردار ہیں، ایمہ کرام کا اجتہاد ہے، اولیاء اللہ کی سادگی ہے، ہم اتنے خوش نصیب ہیں کہ ہماری شریعت نے بیت الخلا سے بیت اللہ تک کے آداب و مسائل سمجھا دئیے بلکہ عملاً سکھا دئیے، تو ہم کو سوچنا چاہیے کہ یہ سب خزانہ ہدایت چھوڑ کر آخر "ہم کہاں جا رہے ہیں؟ "۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہماری بیٹیوں کی عصمت و عفت کی اپنی رحمت کی ردا سے حفاظت فرمائے۔آمین
 (مضمون نگار چناب ویلی کے ابھرتے شاعر اور ادیب ہیں۔کشمیر یونیورسٹی سے فارسی میں گولڈ میڈلسٹ، NET ، JRF بھی ہیں۔فی الحال پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں )
 رابطہ ۔6006417595
 
 
 

تازہ ترین