آخری اُمید

افسانہ

تاریخ    10 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز یوسف
میں وہ دن آج بھی نہیں بھولتا ،جب زندگی کو میں نے بہت قریب سے جانا ،سمجھا اور امیدوں کوپلک جھپکنے میں بکھرتے دیکھا تھا۔تقریباََ دو سال ہوگئے اس واقعہ کو ،لیکن آج بھی اُس نوجوان کی شکل مجھے بخوبی یاد  ہے جواس کہانی کا صرف ایک حصہ ہی نہیں بلکہ بجائے خود ایک کہانی تھا ۔
یہ کہانی شروع ہوتی ہے اسلم نامی ایک لڑکے سے جو کچھ سال پہلے ہمارے آفس کے ٹھیک سامنے ایک معمولی سا ہوٹل چلاتا تھا۔نہایت ہی شریف اور نیک ،اس لڑکے نے بڑی ہی قلیل مدت میں سب کے دل پر فتح پالی تھی۔بچپن میں ہی والد کا انتقال ہونے کی وجہ سے ساری ذمہ داریاں اس کے کاندھوں پر آن پڑی تھی۔ایک دن میں اُس کے ٹی سٹال میں چائے پینے گیااور باتوں ہی باتوں میں میںنے اُس سے اُس کی تعلیم کے بارے میں پوچھا ۔اُس نے لمبی آہ کھینچی اور پھر ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا’’بھائی جان میں ایم ۔اے پاس ہوں ‘‘۔اس کا یہ کہنا ہی تھا کہ میرے ہاتھوں میں چائے کی پیالی دھری رہ گئی ۔تم پھر اس معمولی سے چاہئے خانے میں کیا کر رہے ہو ۔میں نے جھٹ پٹ پوچھ لیا۔وہ کچھ دیر مجھے دیکھتا رہا، گویا آنکھوں سے الفاظ بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہو ۔پھر دھیمی آواز میں کہنے لگا’’آپ جانتے تو ہیں ہی کہ والد کی وفات کے بعد ایک میں ہی ہوں جس کے کاندھوپر ساری ذمہ داریوں کا بوجھ ہے ۔ابھی کچھ پیسے بنا لوں بعد میں اچھا روز گار ڈھونڈ لوں گا ،اس نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔ میں نے بھی اس بات پر زیادہ غور نہ کیا اور اپنے گھر کی اور روانہ ہوگیا۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ نہایت رنج و الم کے باوجود بھی اس کے ماتھے پر شکن نظر نہ آتی ۔یوں ہی ہنس مکھ چہرہ لیے وہ سب سے ملتا رہتا ،باتیں کرتا ۔محسوس تک نہیں ہوتا تھا کہ کبھی اسے بھی غم ستاتے ہونگے ۔یہ بھی رنجیدہ ہوگا ۔دراصل انسان دوسروں کی خوشی میں خوشی ڈھونڈتے ڈھونڈتے اتنا مصروف ہو جاتا ہے کہ اُ سے اپنے اندر پنپتے دُکھ کو محسوس کرنے تک کی بھی فرصت نہیں ملتی اور پھر ایک انسان کرے بھی کیا ۔ساری زندگی اسی فرضی مسکراہٹ کے نام یوں ہی کر دیتا ہے۔اسلم کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی تھی۔نہ جانے کون سی طاقت تھی جو اسے ٹوٹنے نہیں دیتی تھی۔ایسا نہیں تھا کہ وہ تکلیفوں کا رُخ  کسی جادو سے موڑ دیا کرتا تھابلکہ وہ نہایت ہی محنتی قسم کا لڑکا تھااور اس کی محنت اور اس کی نیک نیتی ہر ایک تکلیف کو اس سے دور لے جاتی تھی ۔اسی طرح  دیکھتے ہی دیکھتے ُاُس کا چھوٹا سا یہ ٹی سٹال جنرل سٹور میں تبدیل ہوگیا ۔وہ اپنی ترقی پر بہت خوش تھا۔اُس روزبھی وہ مجھ سے ملا اور مجھ سے کہنے لگا بھائی جان آج میں بہت خوش ہوں ۔آج شہر سے دکان کے لیے مال آرہا ہے۔آپ بھی میری نئی دکا ن پر ضرورآیئے گا۔اس کی ان باتوں سے اُس کی اندرونی خوشی اس قدر چھلک رہی تھی کہ سامنے والے کو بھی اُسے محسوس کرتا تھا۔
دو پہر کا کھانا کھا کر مجھے اچانک سے خیال آئے کہ چلو چل کر اسلم کی نئی دکان کا معائینہ کیا جائے ۔یہ سوچ کر میں اُس کی دکان کی اور روانہ ہوگیا۔دیکھتا ہوں کہ لوگ خاصی بھیڑ لگائے اُس دکان کے چاروں اور کھڑے ہیں۔اتنی بھیڑ؟میں نے من ہی من میں اپنے آپ سے سوال کیا۔کسی نہ کسی طرح میں بھیڑ میں سے جگہ بنا کر آگے نکل گیا۔سامنے اسلم تھا۔اُس کے ہاتھوں میں چٹھی تھی۔جس میں یہ درج تھا کہ تمہارا سارا مال لوٹا گیا۔بت بنے کھڑا  وہ میری طرف دیکھنے لگا ۔پھر زور سے میری طرف دوڑ کر آیا ۔گویا اس کے پیچھے ہزار بلائیں پڑی ہوں اور آتے ہی مجھے زور سے گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔میں حیران  وپریشان نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھاکیوں کہ اس سے پہلے میں نے اسے کبھی روتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔میں نے اُ س سے جب رونے کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا بھائی جان میں نے ساری عمر اپنے لیے ایک ہی سپنا دیکھا تھ اکہ میری ایک بڑی سی دکان ہو ۔اس لیے میں اپنی روزانہ کی کمائی میں سے کچھ پیسے بچا لیتا تھاتاکہ ایک دن اپنا یہ خواب شرمندہ تعبیر کرسکوں ۔اُن ہی پیسوں سے میں نے دکان کے لیے کچھ مال و سودا خریدا تھا لیکن شہر سے آتے آتے کچھ لٹیروں نے میرا سارا مال لوٹ لیا۔اس نے اپنے ہاتھ میں پڑی چھٹی مجھے دکھائی اور یہ کہا کہ آخری امید بھی ٹوٹ گئی بھائی جان۔اُس نے میری طرف نم ناک آنکھوں سے دیکھا ۔میں نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس بار اس کا دل ٹوٹا نہیں بلکہ مرجھا گیا ہے۔ آج زندگی کا ایک اور پہلو مجھے نظر آگیا۔
دراصل زندگی غم اور خوشی کا ہی دوسرا نام ہے ۔اگر غم نہ ہوتے تو زندگی کا مزہ ہی کرکرا ہوجاتا۔یہ سوچتے سوچتے میں اپنے آپ کی اور اُس غم زدہ جوان کو ڈھارس بندھاتے آگے بڑا۔
 
محلہ قاضی حمام بارہ مولہ ،موبائل نمبر؛9469447331

تازہ ترین