تحفہ جنم دن کا

کہانی

تاریخ    10 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


عاشق آکاشؔ
آج اِس کے والد کو فوت ہوئے پورے بیس برس ہوئے ہیں مرتضٰی تب صرف نو سال کا تھا جب نامعلوم افراد نے جلیل کاقتل دن کی کھلی روشنی میں شہر خاص میں کیا تھا ۔ 
جلیل پیشے سے ایک وکیل تھے معصوم مظلوموں کی رہبری کرکے ان کو جبر و استقلال سے بچانا اُن کا پیشہ بن چکا تھا ۔انہیں اپنے بچوں سے زیادہ دوسرے مظلوم بچوں کی فکر رہتی تھی ۔اُن کے انتقال سے نہ صرف ان کے اپنے بچے یتیم ہوگئے بلکہ سینکڑوں افراد بے یار و مددگار ہوکر رہ گئے۔ ۔۔
مرتضٰی بھی اب باقی مظلوم بچوں کی طرح خوف و دہشت میں جی رہا ہے ۔ والد کے انتقال نے سارے گھر کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ایک دو سال تک تو مرتضیٰ کی پڑھائی بھی انہی حالات کی نذر ہوگئی۔اُس کی ماں شمیمہ جہاں جاتی مرتضیٰ کو اپنے ساتھ لے جاتی ۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں مرتضیٰ بھی اُس سے دور نہ ہو جائے ۔۔۔
وقت گزرتا گیا ۔ حالات نے مرتضٰی کے دل کوسوالوں کے ایک سمندر میں تبدیل کرلیا ۔ اچانک سے اُس کے طرزِ زندگی میں بدلائو نے مرتضٰی کی شخصیت میں کہرام مچا دیا۔ وہ اپنے من کا بوجھ ہلکا کرے تو کیسے؟؟؟ وہ شمیمہ کو ان سوالوں سے دکھی نہیں کرنا چاہتا ۔ پھر یہ سوال کرے تو کس سے !!!!  انہی خیالوں میں اس کے دن اور رات گذرتے رہے۔۔۔
اب مرتضٰی نے شہر کے  ایک نامور اسکول سے دسویں جماعت کا امتحان بھی اول درجے میں پاس کرلیا ۔مبارکبادی کی خاطر گھر میں پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بھیڑ جمع ہوگئی ۔ہر سمت مرتضیٰ کی واہ واہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے یتیم ہونے کا احساس لوگوں کے ذہنوں میں گردش کررہا ہے۔  اس ماحول نے مرتضٰی کو مزید دکھی کردیا۔ زمانے کی یہ دیمک اُس کے زخموں کو چاٹتے اُسے کشمکش کے ایک ویرانے کی اور دھکیلتی ہوئی اُس کی عزتِ نفس کو تار تار کر رہی ہے۔
پڑوس کی رکمنی دیوی نے شمیمہ سے دکھ بھرے انداز میں کہا۔۔۔
 شمیمہ اگر آج جلیل صاحب ہوتے تو نہ جانے کتنے خوش ہوجاتے۔ 
ساتھ میں بیٹھے رحیم چاچا نے اپنا گلہ صاف کرتے ہوئے لقمہ دیا۔۔۔۔
 ہاںہاں شمیمہ ۔۔!جلیل مرتضیٰ کو بھی وکالت کی پڑھائی کرانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
اس کی خواہش تھی کہ اس کی طرح مرتضٰی بھی لوگوں کو ظلم و استحصال سے بچانے کا کام کرے ۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ قسمت کے آگے کس کی چلتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔! اُس کا یہ خواب ادھورا ہی رہ گیا ۔۔۔ ہائے جلیل صاحب کے ارمان!!!!!
  شمیمہ سہمی ہوئی : 
نہیںنہیں چاچا !!!!!!
میں اپنے شوہر کی طرح اپنے بیٹے کو کھونا نہیں چاہتی۔ اِس کے سوا اب کون ہے میرا اور ریحانہ کا ۔ ۔۔
مرتضیٰ یہ ساری گفتگو ایسی خاموشی سے سُن رہا ہے جیسے کہ بیتے حالات کے تمام راز اِسی میں مضمر تھے۔اُس کے سینے میں چھپے بہت سے سوالات خود بخود حل ہوتے گئے مگر جسم و روح میں بے سکونی سی طاری ہوگئی۔ اُسے اب اس بھیڑسے بھی نفرت ہونے لگی۔۔۔۔
ریحانہ آج بچوں کے ساتھ کھیلنے نانہال گئی ہوئی ہے لہٰذا مرتضیٰ نے یہ عہد کرلیا کہ وہ آج ماں سے سارا ماجرا سن کے ہی رہے گا۔۔ 
  شام کا کھانا کھانے کے بعد مرتضیٰ بے چین ہوکر اپنی ماں سے  پوچھنے لگا۔
امی !!!
 ہمارے ابا کو کس نے مارا ؟؟؟؟
شمیمہ پانی سے باہر زمین پر پڑی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپتے ہوئے کہا۔
بیٹا کسی نے نہیں ۔۔۔ کسی نے نہیں ۔۔۔ وہ تو ۔۔۔آپ کے ابو تو۔۔۔
یہ کہتے ہوئے شمیمہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ایسے دیوانوں کی طرح اپنے بیٹے کو گلے لگالیا  جیسے کہ اُسے کھونے کا ڈر ہو۔۔۔
مرتضٰی سے بھی اپنی امی کی یہ حالت برداشت نہ ہوئی اور وہ بھاگا بھاگا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
رات بھر وہ اپنے کمرے کی دیواروں  سے اپنے من کے سوالات پوچھتا رہا ۔  دن میں پیش آئے سارے واقعات اُس کے ذہن میں گردش کرتے رہے۔اس میں اپنے ابا کے چھوڑے ہوئے راستے پر چلنے کی خواہش اور بڑھنے لگی۔ وکالت کو اپنا پیشہ بنانے کی مرتضٰی میں ایک خلش سی پیدا ہوگئی۔وکالت کے بارے میں سوچتے سوچتے یوں ہی  بارہویںجماعت پاس کر لی۔
ادھر شمیمہ کو دن بہ دن بیٹے کی فکر ستانے لگی۔اسے اب پتا لگ چکا ہے کہ وکالت  مرتضٰی کے دل و دماغ میں پوری طرح سے بس چکی ہے۔آخر اب وہ بھی بیٹے کی ضد کے آگے جُھک ہی گئی۔۔۔
اب مرتضیٰ وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد ہائی کورٹ میں جانے لگا ہے۔ 
 لوگ انہیں اب جلیل کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں ۔ وہ معصوم بچوں کی رہبری میں ہر پل لگا رہتا ہے اور مظلوموں کو انصاف دلانا اپنے باپ کی طرح اس کا پیشہ بن چکا ہے ۔ کام کرتے کرتے مرتضیٰ نے خاصا نام کمایا۔ اب اسکی شادی اور بچے بھی ہوگئے۔ لیکن ذہن پر پریشانی کا جو جالا تن گیا تھا، وہ برقرار رہا۔ 
ادھر شمیمہ کو مرتضیٰ اور اس کے بیوی بچوں کی فکر ہر وقت لگی رہتی۔جو اس پہ بیتی ہے وہ نہیں چاہتی کہ کوئی اور اس کا شکار بن جائے ۔ ۔۔۔
موسم خزاں کی آمد ہے۔ آج آرزو اور عالیہ ہلکی ہلکی ٹھند کے باوجود صبح سویرے نیند سے جاگی ہیں ۔ دونوں بیٹیاں اپنے بابا سے کچھ کہنا چاہتی ہیں ۔ مرتضیٰ نے ابھی چائے کی پیالی اٹھائی ہی تھی کہ عالیہ نے اپنی اونچی مگر طوطلی آواز میں کہا۔۔۔ 
بابا۔۔۔۔ بابا۔۔۔ آج ہمارے لیے تحفہ لانا۔ آج آرزو آپی کا جنم دن ہے ۔۔۔۔۔۔
کیا لائوگے؟؟؟؟بابا۔۔۔بولونا کیا لائوگے ہمارے لئے؟؟؟؟؟
ارے میرے جگر ۔۔۔۔۔ میں تو بھُول ہی گیا تھا ۔۔۔۔ آج آپ کی پیاری سی آپی کا جنم دن ہے۔۔۔۔مرتضیٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
آپ جو بولو گے میں لائوں گا ۔۔۔۔ آج ہم آپکی آپی کا جنم دن بڑی دھوم دھام سے منائینگے۔
جی بابا !ہم خوب کھیلیں گے ۔آپ بھی رہو گے نا گھر پر ؟؟؟؟ آج میں آپ کو کہیں جانے نہیں دوں گی۔۔۔۔عالیہ یہ کہتے ہوئے باہ سے لپٹ گئی۔
مرتضیٰ نے اُسے سہلاتے ہوئے کہا ’’جی بیٹا میں آفس سے جلدی آجائوں گا اور وہیں سے آپ دونوں کے لیے تحفہ لائوں گااور آپی کے لیے جنم دن والا کیک بھی ۔‘‘
ٹھیک ہے بابا تب تک میں اپنے دوستوں کو بھی بلائوں گی۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ جلدی آجانا۔۔۔۔ آرزو نے مطمئن ہوتے ہوئے کہا۔
حسب وعدہ مرتضٰی آج کورٹ سے جلدی اپنے گھر واپس روانہ ہوااور ساتھ میں اپنی بڑی بیٹی آرزو کے جنم دن کی خاطر تحفے اور کیک بھی لے لئے۔ 
گھر میں تیاریاں زوروں پر چل رہی ہیں ۔آرزو نے اپنے تمام دوستوں کو جنم دن پر بلایا ہے۔ 
اپنے بابا کو وقت سے پہلے گھر میں دیکھ کر بچے پھولے نہ سمائے۔ آرزو اور عالیہ دونوں مرتضٰی کی ٹانگوں سے چمٹ گئیں بابا ۔۔۔ بابا ۔۔۔ ہمارے لیے کیا تحفہ لایا۔۔۔۔ 
مرتضیٰ؛ بیٹا یہ سر پرائز ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ میں آپ کو اُسی وقت دکھائوں گا جب تم کیک کاٹو گے۔ اب بچوں نے کیک لگانے کی تیاریاں شروع کر لیں۔
ا ب گھر کے سبھی لوگ بچوں کے اس شور و غل میں مست ہیں کہ اتنے میں دروازے پہ گھنٹی بجی۔۔۔۔۔ ٹرنگ ۔۔۔۔۔ ٹرنگ ۔۔۔۔ ٹرنگ ۔۔۔۔۔۔ 
مرتضیٰ اپنی چھوٹی بیٹی عالیہ کو گودی سے اتار کے گیٹ کھولنے کی خاطر باہر نکلے۔کچھ عرصہ بعد باہر سے دو تین گولیوں کی آواز سنائی دی۔لوگ چیخ و پکار سن کر جمع ہوئے تو دیکھا کہ کسی نامعلوم نے آرزو اور عالیہ کے لیے جنم دن پر سرپرائز تحفہ دے دیاتھا اور وہ دونوں بہنیں اس کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی ۔ اور اچانک سے ایک ایسا سناٹا چھایا جیسے کہ زندگی تھم گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔
 
���
برنٹی اننت ناگ کشمیر،موبائل نمبر؛9906705778
 

تازہ ترین