آخری سیلوٹ

افسانچہ

تاریخ    10 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


سارہ عشور (لداخ
پرتپال سنگھ ساٹھ کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔عمر بھر اپنی پانچ ایکٹر زمین پر محنت مزدوری کر کے اپنے اکلوتے بیٹے جوگیندر سنگھ کی پرورش اور تربیت کر کے ماں باپ دونوں کی ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔گرداسپور کا یہ کسان عام متوسط طبقے کے کسانوں کی طرح اپنی واحد اولاد کے مستقبل کو لیکر نہایت پُر امید اور آرزومند تھا۔عین جوانی میں جب اس کی بیوی کی وفات ہوئی تب جو گیندر بہت چھوٹا تھا ،دوست یاروں کے اصرار کے باوجود وہ کسی دوسری عورت کو بیاہ کر گھر لانے کو راضی نہیں ہوا۔ اُس کو یہ فکر لاحق تھی کہ سوتیلی ماں اس کے بیٹے کو وہ پیار نہیں دے پائیگی جس کا وہ مستحق ہے ۔اس لیے انھوں نے ساری زندگی بے زن گذاری۔ باپ بیٹے دونوں ایک دوسرے کیلئے کل کائنات تھے۔دوست ،محسن ،ہمسفر ،رہنما سب کچھ ۔جوگیندر  پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیتی میں بھی والد کا ہاتھ بٹاتا تھا ،البتہ پرتپال چاہتا تھاکہ اس کا بیٹا پڑھ لکھ کر کسی اچھے مقام پر پہنچے اور ایک اچھا انسان بنے ۔جوگیندرنے بارہویں جماعت تک کی پڑھائی مکمل کر کے فوج کی ملازمت اختیار کر لی ۔تربیتی کورس مکمل کر کے دیس کی مختلف سرحدوں پر تعینات رہ کرملک و قوم کا محافظ بننے پہ جہاں جوگیندر کو دلی مسرت ہوتی وہیں پرتپال سنگھ کا بھی فخرسے سینہ پھول جاتا ۔جب سے جوگیندرسرحدوں پر رہنے لگا تھا پرتپال سنگھ ہروقت  ریڈیو پر خبریں سنتا رہتا تھا، جس سے اس کو گوناگوں تسّلی ملتی رہتی کہ حالات معمول کے مطابق ہیں۔ایک دن اسکی ریجمنٹ کا تبادلہ لداخ کے سنگلاخ علاقہ میں ہوگیا،جوگیندر سنگھ کا یونٹ بھی اس میں شامل تھا ۔جوگیندر کو اس مشکل فریضے کو انجام دینے کی خوشی تھی مگر رہ رہ کر دل میں صرف بوڑھے باپ کا خیال آتا۔کچھ عرصے بعد ــــ’’کھارو ‘‘ نامی مقام سے اس ریجمنٹ کا تبادلہ گلوان گھاٹی میں ہوا ۔یہ وادی دراصل ہندوستان کا سرحدی علاقہ ہے لیکن چین غیر قانونی طور پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے۔پوسٹ کی طرف روانگی سے قبل جوگیندرنے والد کو ایک مرتبہ اطلاع دی تھی ۔ پرتپال سنگھ حسب معمول ریڈیو پر کان لگائے خبریں سنتا رہتا تھا۔ ویسے بھی جب سے بیٹا سرحدوں پر رہنے لگا تھا تب سے اس کے اس معمول میں کوئی ناغہ نہیں ہواتھا۔آج بھی اس نے ریڈیو آن کیا اور خبریں سننے لگا۔ گلوان گھاٹی میں پیش آنے والے کچھ سنسنی خیز واقعات خبروں کی سرخیوں میں تھے ۔اس حادثے کی خبر سن کر پرتپال سنگھ پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔دل میں عجیب طرح کے وسوسے اُبھرنے لگے۔ ایک نا معلوم خوف اور دہشت سے وہ کانپ اٹھا ۔ بوڑھے جسم میں گویا تاب حرکت نہیں تھی ۔
بوڑھا باپ کیا کرتا،صرف خدا کے آگے دوزانو ہوکر دعاکرتا ،گڑگڑاتا ،التجا کرتا ،منتیں مانگتا ،بس اس امید سے کہ وہی پروردگار ہے اور وہی قاضی الحاجات اور مسبب الاسباب ہے اور وہی اس کے بیٹے اور اس کے ساتھیوں کی حفاظت کرے گا ۔بس ہر دم ہر گھڑی رب کے حضور بیٹے کی سلامتی کے لئے دعائیں مانگتا رہتا۔ ایک دن اچانک جوگیندر سنگھ کا فون آیا جو اس نے کسی STDسے کیا تھا۔ چونکہ اس علاقے میں صرف ایک STD BOOTHتھاجہاں فوجیوںکی  لمبی قطاریں لگی ہوتی تھیں  اپنے اپنے گھروں میں فون کرنے کے لیے۔  ایک تو وقت کم اور اوپر سے باری نہیں ملتی ۔آج کافی عرصہ بعد اسکو  اپنے باپ کو فون کرنے کا موقع ملا تھا۔ باپ سے سلام دعا ـ ـ ،خیر و عافیت پوچھی۔ پرتپال سنگھ نے تو ایک ہی سانس میں پوچھ ڈالا کہ،تم لوگ ٹھیک ہو، وہ حادثہ کیسے ہوا ،کب ہوا ،شہیدوں کے بارے میں اور واپسی سے متعلق ساری باتیں پوچھ ڈالیں۔دوسری جانب سے جوگیندر سنگھ نے جواب دیا کہ ’’میں ٹھیک ہوں،ہم سب اب ٹھیک ہیں ،چین کے سپاہی جبراً ہماری سرحد عبور کر کے آگئے اور ہمارے جوانوں کو بے خبری میںجالیا،اس تشدد میں ہمارے بیس جوان جام شہادت پی گئے ۔‘‘ جوگیندر سنگھ نے مزید کہا  ’’بابا ہم خود نہایت پریشانی کے عالم میں تھے اس لیے ہم دیکھ نہیں پائے البتہ پورسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق کہ گولی نہیں چلائی گئی تھی بلکہ Matrial Arts  تربیت یافتہ سپاہیوںنے جان لیوا حملہ کیا تھا ۔ لیکن آپ بالکل فکر نہ کریں میں بالکل ٹھیک ہوں ،آپ اپنا خیال رکھیں۔ اب میں رکھتا ہوں ۔باقی ساتھی بھی فون کے باری کے انتظار میں ہیں ‘‘ یہ کہہ کر فون بند کردیا ۔جوگیندرسے بات کر کے پرتپال سنگھ کی جان میں جان آئی مگر اس کی آنکھیں پُرنم تھیں ،دل میں اندیشوں کا ایک طوفان برپا تھا اُس کی پر نم ملتجانہ نگاہیں خودبخود آسمان کی طرف اُٹھ گئیں اور اشکوں کا ایک ریلا اس کی ریشم سی سفید داڑھی کو بھگو گیا۔ 
ایک دن دسمبر کی سردی اور جاڑے کے موسم میں جب ملک بھر میں خاص کر پنجاب کے کسان مرکزی حکومت کے ترمیم کردہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے کی غرض سے سڑکوں پر اتر آئے تو پرتپال سنگھ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ کمر بستہ گرداسپور سے دہلی تک کسان اندھولن میں شرکت کرنے نکلا۔مسلسل بیس دن تک براڑی گراؤنڈمیں ہڑتال پررہنے سے پرتپال سنگھ کی طبیعت متاثر ہونے لگی ۔شدید سردی ،اوس ،جاڑے کا موسم ،غذا کی کمی اور ہجوم و اژدھام میں رہنے کے باعث وہ کروناوائرس جیسی مہلک وبائی بیماری کا شکار ہوگیا ،تین روز سرکای اہسپتال کے ICUمیں زیر اعلاج رہ کر اس دار فانی کوالوداع کہہ کر چل بسا ۔ساتھیوں نے اس کی میّت اس کے آبائی گاؤں پہنچا دی۔اکلوتے بیٹے کی غیر موجودگی میں آخری رسومات کے فرائض دوستوں نے انجام دئے ۔سرحد پر کشیدگی کے باعث جوگیندرسنگھ کافی عرصہ فوجی سرگرمیوں میں الجھا رہا  آج ایک بار پھر اس کو STD   سے فون کرنے کا موقعہ ملا ،باپ کا فون بند پایا توایک نامعلوم خدشہ سے اس پر ایک کپکپی سی طاری ہو گئی۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کا تحت الشعور اس کو آنے والے حادثات کے متعلق اشارے دیتا ہے اوریہ قدرت کا بہترین نظام ہے کہ اسی سے انسان آنے والے صدمہ کو سہہ سکتا ہے۔ ورنہ انسانی اعصاب شاید ہی کسی ناگہانی صدمہ کو سہہ پائیں۔اسی پریشانی کے عالم میں دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے اپنے موبائل فون پر نمبر دیکھ کر پڑوس کے ایک چچا کو فون ملایا، جن سے اس کے باپ کی دوستی تھی ۔ان سے بات ہوئی ،چچا نے ہمت کرکے جوگیندر سنگھ کو اس کے باپ کی وفات کے بارے میں تفصیل سے بتائی اور صبر کرنے کی تلقین کی ۔ جوگیندرسنگھ پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔STD BOOTHسے باہر نکلا تو اس کے جسم میںجان ہی نہیں تھی ،ایسا لگ رہا تھا گویا زمین و آسمان باہم ایک دوسرے سے ٹکرا گئے ہوں۔ایک لمحہ کے لیے اس کا سارا خون جیسے منجمد ہو گیا تھا۔ چنگ تھنگ کے فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں،وادی کی یخ بستہ تند ہوائیں اور پنگانگ جھیل کا صاف و شفاف نیلا پانی لہو کی طرح سرخ نظر آرہے تھے۔ چنگ تھنگ کی خاموش اور کھلی فضا کو دلفریب بنانے والےBLACK NECK CRANE  کی دلفریب پروازاور من موہنی چہچہاہٹ بھی آج اس کو اپنی جانب مبذول نہیں کرا پائی۔اس کی سماعت میں ایک نادیدہ آواز گونج رہی تھی کہ تیرا باپ مرگیا ہے،اب تم یتیم ہوگئے ہو۔’ـ’کیانگ‘‘کی دکھ بھری آواز فضا کو اور مغموم بنا رہی تھی یوں محسوس ہو رہا تھا گویا یہ خوبصورت مقدس صحرائی گھوڑا بھی اس کے غم میں شریک ہو کرگریہ کناں ہو۔
وہ اپنے کیمپ میں پہنچ کر اپنے ہٹ میں بہت دیر تک زار و قطار روتا رہا ۔بریف کیس سے باپ کی ایک تصویر نکال کر اسے بغل میں دبائے رو رہا تھا کہ اتنے میں اس کا  ایک ساتھی انل کمار ہٹ میں داخل ہوا ،اسے اس طرح روتا دیکھ کر خیریت پوچھی ۔تمام واقعات سن کر کچھ لمحے کے لیے انل بھی افسردہ ہوگیا۔پھر خود کو سنبھال کر اپنے دوست کو دلاسا دیا اور باقی سپاہیوں کو اطلاع دی۔چند منٹوں میں سب اکھٹے ہوکر جوگیندر کے ساتھ اظہار ِ تعزیت کرنے لگے ۔انل کہنے لگا ، ’’دیکھو دوستو!  ہم سپاہی ہندوستان کی سرحدوں پر کوہ ہمالیہ سے لیکر بحر ہند ،اروناچل پردیش کی گلیشروں سے راجسھتان کی ریگستانوں تک دیس کی تحفظ کی خاطر دن رات پہرہ دے رہے ہیں اور ہم اس بات سے بے خبر ہیں کہ ہمارے ملک کے اندر غریب عوام ،محنت کش طبقے ،کسان اور مزدور، جن سے ہمارا تعلق ہے، پر کیا گذر رہی ہے ۔وہ لوگ چند سرمایہ داروںکے ہاتھوں فروخت ہورہے ہیں ۔خریدار بھی وہی اور تاجر بھی وہی ۔۔۔۔ہمارے مزدور اور کسان کچل، مسل کے دبائے جا رہے ہیں اور ستم ظریفی دیکھئے ایوان سلطنت کی اعلیٰ مسند پر براجمان صاحب اقتدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ان سرمایہ داروں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔تمہارے باپ تو سچے سپاہی تھے، جو ظلم کے خلاف لڑتے لڑتے جام ِ شہادت پی گئے ‘‘یہ کہہ کر انل اٹھا جوگیندرسنگھ کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہاتھ سے تصویر لے کر چوکی پر رکھی اور نہایت احترام کے ساتھ ایک چست فوجی سیلوٹ داغ دیا۔اس کے پیچھے ہٹ میں موجود تمام سپاہیوں نے سیلوٹ پیش کر کے فوجی طرز میں مرحوم کوخراج عقیدت پیش کیا۔ ۔۔۔
دور کہیں کسی ریڈیو پر کوئی اپنی من کی بات سنا رہا تھا جس میں کسانوں اور مزدوروں کا کوئی ذکر نہیں تھا ۔
���
ریسرچ اسکالر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی۔حیدر آباد
موبائل نمبر؛9490029362، ای میل؛sarahashour33@gmail.com

تازہ ترین