تازہ ترین

علم کو ترستی ہیںسرحد کی بیٹیاں

توجہ طلب

تاریخ    9 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


رخسار کوثر،مینڈھر پونچھ
ملک کے نامور ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے صد سالہ جشن کے موقع پر وزیرا عظم نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنے خطاب میں کہا کہ ایک زمانہ تھا جب مسلم لڑکیوں کا ڈراپ آئو ٹ ریٹ 70 فیصد سے زائد تھا، لیکن آج صرف 30 فیصد ہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوششوں اوراسکولوں میں بیت الخلاء بنانے سمیت مختلف سکیموںکی وجہ سے ڈراپ آؤٹ ریٹ کم ہوئے ہیں۔لیکن سرحدی علاقے کی لڑکیوں کے ڈراپ آئوٹ کی وجہ کچھ اور ہی ہے۔ دراصل یہاں کے سکولوں میں بیٹھی لڑکیوں کو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ نہ جانے کب سرحد کے اس پار سے کوئی گولہ آجائے اور ان کے لئے مصیبت کا باعث بن جائے۔ درحقیقت سرحدی بیٹیوں کو بیت الخلا ء بنانے جیسی سکیموں کی نہیں بلکہ گولہ باری سے بچتے ہوئے کیسے اپنی تعلیم مکمل کی جائے ،ایسے کسی سکیم کی ضرورت ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مرکزاور یوٹی حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہ قابل تعریف ہیں۔ اس کی وجہ سے خواتین کی شرح خواندگی میں کافی حد تک ترقی دیکھی گئی ہے لیکن جب ہم دیہات اور ملک کے سرحدی علاقوںکی بات کرتے ہیں تو کافی چیزوں میں بہتری لانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ان علاقوں کی لڑکیاں بہت کم پڑھی لکھی ملیں گی، لیکن ان کی آنکھوں میں ان کے ادھورے سپنے،ان کی خواہشات دبی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔وہ اس لئے نہیں کہ وہ پڑھ لکھ نہیں سکتی تھیں بلکہ اس لیے کہ وہ چاہ کر بھی تعلیم کو برقرار نہیں رکھ پاتی ہیں۔دراصل دیہی علاقوں کی بیٹیوں کو کسی ایک پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتاہے ،بلکہ ان کے سکول نہ جانے کی بہت ساری وجوہات اور رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ کہیں سکول دستیاب نہیں ہیں، تو کہیں سکول میں استادنہیںہیںاورکہیں سکول اتنادورہے کہ آنے اور جانے کے لئے گاڑی کاکرایہ میسر نہیں ہوتا۔تعلیم کی چاہت رکھنے والی کئی بچیاں پیدل سکول آجایاکرتی ہیں ۔جس کی وجہ سے انہیںگھر پہنچنے میں بہت دیر ہوجاتی ہے۔ایسے میں آج کل کے حالات کودیکھتے ہوئے والدین انہیں سکول جانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔
جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کا سرحدی علاقہ بالاکوٹ، جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے نہیںبلکہ آئے دن ہونے والی گولہ باری کی آواز سے مشہور ہے، جس سے تقریباہر روز کسی ایک باشندے یا کسی جانور کو اپنی جان کی قربانی دینی پڑتی ہے۔وہاں کے حالات اس قدر نازک ہیں کہ بچیاں ہائی سکول نزدیک ہونے کے باوجود اس خوف سے نہیں جاپاتی ہیں کہ کب سرحد پار سے آیا کوئی گولہ ان کے سکول پر گرے گااور انکی روح قبض کر لے گا ۔وہ کہتی ہیں کہ ہم صرف یہ باتیں سوچتی نہیں ہیں بلکہ ہم نے خود ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ بالاکوٹ سنجوٹ کی رہنے والی شاہدہ نسیم، جس کی عمر لگ بھگ بیس سال ہے، ہائر سیکنڈری سکول دار گلوں میں بارہویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں ''میں دسویں تک بہت ڈر ڈر کے سکول جاتی تھی چونکہ ہائی سکول ہمارے گھر کے نزدیک ہی ہے اور یہاں پر ہر وقت گولہ باری ہوتی رہتی ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ساتھیوں کو زخمی ہوتے دیکھا ہے۔ ہم بہت غریب ہیں، میرے والدین کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ہمارا شہر میں ایڈمیشن کر ائیں۔ ہائیر سکینڈری سکول یہاں سے چھہ کلومیٹر دور ہے۔ میں وہاں بھی ہر روز پیدل ہی جاتی ہوں کیونکہ گاڑی کے کرائے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہوتے ہیں''۔ بارہویں کے بعد کیا کرو گی؟ یہ پوچھنے پر وہ کہتی ہے ''شاید آگے نہیں پڑھ پاؤں گی۔ شوق تو بہت ہے کہ میں آگے کوئی ٹرایننگ کر لوں ،لیکن کیسے کر پاؤں گی ۔ہمار ے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ کالج بھی یہاں سے دور ہے ۔وہاں پرہوسٹل بھی دستیاب نہیں ہے اور ہر روز آناجانابھی مشکل ہے! جب چھ کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے لیے میرے پاس کرایہ نہیں ہے تو میں 20 یا 25 کلومیٹر سفر کیلئے کرایہ کہاں سے لاؤں گی؟۔
اسی گاؤں کی دسویں جماعت کی طالب علم سمیرا کوثر کے مطابق ''ہم جو سرحد پر رہنے والے طالبات ہیں، ہماری کبھی یہ ڈیمانڈ نہیں ہوتی کہ ہمارے سکول کی بلڈنگ بہت اچھی ہو، ڈبل سٹوری ہو، ڈیسک ہو یا باہر کے ٹیچر ہوں بلکہ یہ ہوتی ہے کہ جب گولہ باری ہو تو اس کے بچاؤ کیلئے کچھ سہولیات میسر ہوں جیسے سکول کے ساتھ کوئی انڈر گراؤنڈ بنکر بنایا جائے تاکہ جب بھی کوئی گولہ باری ہو تو ہم جلدی سے وہاں بھاگ کر اپنی جان بچا سکیں۔ یہاں کے حالات دیکھ کر میرا دن بہ دن پڑھائی سے من مرتا جا رہا ہے''۔ 
واقعی یہ دل دہلانے والی باتیں تھیں۔لیکن صرف اتنا ہی نہیں ہے۔ وہاں اس سے بھی بدترین حادثے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔طاہرہ نسیم، جن کی عمر لگ بھگ 19 سال کے قریب ہے، 2016 کی بات ہے جب وہ دسویں جماعت کی طالب علم تھی ۔وہ سکول میں اپنی جماعت میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک سے گولہ باری شروع ہو گئی۔بچے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اسی درمیا ن ایک گولی طاہرہ کے پیر میں لگی۔جس سے وہ زخمی ہو گئی۔ چونکہ اس وقت وہاں ڈسپنسری دستیاب نہیں تھی، تواسے سب ضلع ہسپتال مینڈھر لایا گیا۔ تب تک اس کا خون کافی بہہ چکا تھا۔سب ضلع ہسپتال میںاس کی کچھ ڈریسنگ کرکے جموںکے جی ایم سی ریفرکر دیا گیا۔حالانکہ وہ غریب طبقہ سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے باوجود اسے حکومت کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملی۔تین سال تک اس کی ٹانگ کا آپریشن چلتا رہا ۔اس درمیان وہ بالکل چل نہیں سکتی تھی۔جس سے وہ تین سال تک سکول سے ڈراپ آؤٹ رہی۔ اس کے بعد بھی وہ چلنے کے قابل نہیں بن پائی۔ اس وجہ سے اس کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔طاہرہ نسیم جیسی اورکئی لڑکیاںہیںجو سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری میں معزور ہو چکی ہیں۔ تو کئی اس خوف سے اپنی تعلیم چھوڑ چکی ہیں۔
بالاکوٹ کے نمبردار اعجاز خان کے مطابق ''بالاکوٹ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک جو فینس کے اندر ہے اور دوسرا جو فینس کے باہر ہے۔ فینس سے مراد فوج کی طرف سے سرحد کے قریب تاروں کا بنایا ایک بارڈر ہے اور اس بارڈر کے اندر جو علاقہ آتا ہے وہ فینس کہلاتا ہے ۔جب اس گاؤں کے بچے یا کوئی طالب علم باہر آتا ہے تو اسے گیٹ پر آرمی کو اپنا آئی کارڈ د کھا نا پڑتا ہے۔ واپس جاتے ہوئے بھی آئی کارڈ دکھا کر اندر جانا پڑتا ہے۔ ہر روز وہاں رجسٹر پر ان کی انٹری ہوتی ہے۔ شام کوفوج کی جانب سے وہاں کے باشندوںکی گنتی کی جاتی ہے کہ جتنے باہر گے تھے کیا اتنے واپس آئے ہیں یا نہیں؟ایسے میں وہاں کی بچیوں کو بہت پریشانی ہوتی ہے ۔کچھ بچیاں اس وجہ سے سکول آنا ہی چھوڑ دیتی ہیں اور جو گنی چنی پڑھتی بھی تھیں،اس لاک ڈاؤن کے دوران کی وہ بھی چھوٹ گئی، کیوں کہ آن لائن کلاسز ہونے لگیں۔ جبکہ وہاں پر نیٹ ورک دستیاب نہیں ہے۔یہاں تک کہ ایک جگہ جہاں نیٹ ورک آتا ہے لوگوں نے وہاں ایک پتھر پر ریڈ مارک لگادیا ہے اور جب بھی کسی کو ایمرجنسی میں کوئی کال کرنی ہوتی ہے تو وہ دوڑ کے اس جگہ پر جاتا ہے جہاں نیٹ ورک آتا ہے‘‘۔
جب وہاں ایسے حالات ہیں تو آن لائن کلاسز کا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔دوسری جانب فینس کے باہر کا جو علاقہ ہے یہاں کی لڑکیاں کافی پڑھی لکھی ہیں۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ان کے ماں باپ شروع سے ہی ان کو شہر میں بھیج دیتے تھے۔ جہاں وہ کرائے پر کمرہ لے کر اپنی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔لیکن جن کے ماں باپ کے پاس سرمایہ نہیں ہے وہ بچیاں دسویں سے ہی گھر بیٹھ جاتی ہیں۔کچھ ماں باپ اس لیے بھی بچیوں کو اتنی دور نہیں بھیجتے ہیںکیونکہ کالج دورہونے کی وجہ سے وہ گاڑیوں کا کرایہ پورا نہیں کر سکتے۔ اگر کالج میں ہوسٹل فیسلٹی ہوتی تو کافی بیٹیوں کا مستقبل بن سکتا تھا کیوں کہ انہیں ہر روز آنے جانے والی پریشانی نہیں اٹھانی پڑتی۔ ہوسٹل میں رہ کر وہ اپنی پڑھائی برقرار رکھ سکتیں تھیں۔
خیر یہ تو بس سپنا ہی رہ جائے گا کہ ایسے علاقوں میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی۔ خاص کر اس سرحدی علاقہ میں جہاں گولہ باری کے خوف سے ایک عام شہری بھی آنے سے ڈرتا ہے۔لیکن یہاں کی عوام ہر روز ڈٹ کر گولہ باری کا مقابلہ کرتی ہے ۔ ایسے میں بیٹیوں کی تعلیم کی کسے فکر ہو گی؟ کہا جاتا ہے کہ ایک لڑکے کو تعلیم دینا مطلب صرف ایک لڑکے کو تعلیم یافتہ بناناہے، لیکن جب ایک لڑکی کو تعلیم دی جاتی ہے تو پورے کنبے کو، پورے معاشرے کو تعلیم یافتہ بنایا جاتا ہے ۔ہمارے ملک کا مستقبل بھی بیٹیوں کی تعلیم سے جڑا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت ہی اپنے معاشرے کو سدھارنا جانتی ہے۔کیونکہ علم ہمیں عزت کرنا سکھاتا ہے! صحیح اور غلط میں فرق کرناسکھاتا ہے!علم روشنی سے اجالے کی طرف لاتا ہے۔ایسے میں یہ سوال لازمی ہے کہ جب علم کی اتنی اہمیت ہے تو آخر سرحد کی بیٹیوں کو علم حاصل کرنے کے لئے ترسنا کیوں پڑ رہا ہے؟ ۔
(یہ مضمون سنجوئے گھوش میڈیا ایواڈ 2020 کے تحت لکھا گیا ہے)