محکمہ بجلی … نجکاری کی جانب سفر جاری؟

تاریخ    9 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 محکمہ بجلی کو غیر متمرکز کرنے کے سرکاری فیصلہ کے خلاف بجلی ملازمین اور عوامی حلقوں میں مسلسل اضطراب پایا جارہا ہے اور اس عمل کو محکمہ بجلی کی نجکاری کے منصوبے سے تعبیر کیاجارہا ہے ۔گوکہ محکمہ بجلی کے نزدیک یہ ایک قانونی ضرورت ہے اور اس کے نتیجہ میں صارفین سے آمدن کی وصولی میں آسانی پیدا ہوگی تاہم جانکار حلقوں کے نزدیک یہ محکمہ کو نجی ہاتھوں میں دینے کی کوشش ہے اور اس کا واحد مقصدشدید ترین خسارے سے دوچار محکمہ بجلی کو خسارے سے نکال کر منافع کی راہ پر ڈالنا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں وکشمیر الیکٹرسٹی ایکٹ 2010کے تحت محکمہ کی غیر متمرکزیت لازمی بن چکی تھی کیونکہ اس قانون کی روسے محکمہ کو تین الگ الگ حصوں تقسیم کرنا تھا جن میں پیداواری ،ترسیلی اور تقسیمی شعبہ جات شامل ہیں ۔اس ضمن میں پیداواری شعبہ کو پہلے ہی محکمہ سے الگ کرکے ایک کارپوریشن کی شکل دی گئی ہے اور اس کے بعد ترسیلی و تقسیم کاری شعبہ کی باری تھی جنہیں کارپوریشن بھی نہیں بلکہ کمپنیوں کا درجہ دینا تھا۔
محکمہ بجلی کے متعلقین کچھ بھی کہیں ،تاہم عملی طور محکمہ بجلی کی نجکاری کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔سابق حکومت کے فیصلے کی روشنی میں چار کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے، جن میں کشمیر اور جموں صوبوں کیلئے دو الگ الگ تقسیم کار کمپنیاں ،پورے جموںوکشمیر کیلئے ایک ترسیلی کمپنی اور ایک ہولڈنگ کمپنی شامل ہے ۔جموں اور کشمیر کیلئے علیحدہ تقسیم کاری کمپنیوں کے ذمہ 66کلو واٹ وولٹیج سطح سے کم کے تقسیم کاری نظام کی نگرانی کے علاوہ صارفین سے فیس وصول کرنا شامل ہے جبکہ پورے جموںوکشمیر کیلئے ایک ترسیلی کمپنی کا کام 220اور132کلو واٹ سطح پر پوری یونین ٹریٹری کے ترسیلی نظام کی نگرانی کرنا ہے ۔اس کمپنی کے ذمہ گلادنی جموں میں ریاستی لوڈ ڈسپیچ مرکز اور بمنہ سرینگر میں ذیلی لوڈ ڈسپیچ مرکز کی نگرانی کرنا بھی شامل ہے ۔جہاں تک ایک ہولڈنگ کمپنی کا تعلق ہے تو اس کا کام دو تقسیم کاری کمپنیوں کے لئے بجلی خریدنا ہوگااور اس کے ان دو کمپنیوں میں حصص ہونگے جبکہ مجموعی طور چاروں کمپنیوںکی سربراہی منیجنگ ڈائریکٹر کریں گے۔ان چاروں کمپنیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور منیجنگ ڈائریکٹروں کی تعیناتی عمل میں لاکر چاروں کمپنیوں کو فعال بنادیا گیا ہے۔
ان حقائق کے باوجود بھی اگر محکمہ کے اعلیٰ حکام یہ کہیں کہ نجکاری کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے تو یہ عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔محکمہ کو واضح الفاظ میں بتادینا چاہئے کہ وہ بجلی خسارے سے عاجز آچکے ہیں اور وہ مزید خسارہ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔اس منصوبہ سے جڑی دستاویزات کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ ناقابل تردید حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ حکومت کی منشا محکمہ بجلی کو نیم خود مختار نہیں بلکہ مکمل طور خودمختار ادارہ بنانے کی ہے تاکہ محکمہ حکومتی امداد پر اکتفا کرنے کی بجائے اپنے وسائل پر چل سکے۔
ظاہر ہے کہ محکمہ کی ان چار کمپنیوں کے پاس صارفین سے وصول ہونے والے فیس کے سوا اپنے کوئی وسائل نہیں ہیں۔ دستاویزات کے مطابق تقسیم کاری نظام سے جڑی دو کمپنیوں کے ملازمین کو صارفین سے فیس وصول کرکے آمدنی پیدا کرنی ہے اور اسی آمدنی سے ان کی تنخواہیں واگزا ر ہونگی بلکہ یہی آمدنی ہولڈنگ کمپنی کو فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بجلی خرید سکے ۔
صارفین کو بھی اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ جموںوکشمیرمیں فی الوقت بجلی شعبہ کا ڈھانچہ اس قدر مستحکم نہیں کہ کمپنی نظام کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔حکومت کیلئے اس ضمن میں درکار ڈھانچہ دستیاب کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن وہ بھی یک وقتی سرمایہ کاری کرکے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس درد سر سے آزاد ہونا چاہتے ہیں ۔ایسے میں آج نہیں تو کل اس منصوبہ کو عملی شکل دی ہی جائے گی اور عام صارفین کو ان کمپنیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گاجن کیلئے پہلی ترجیح عوامی مشکلات کا ازالہ نہیں بلکہ آمدنی کا حصول ہوگا اور اُسی صورت میں صارفین کو بجلی ملے گی جب وہ باضابطہ حسب لوڈ ایگریمنٹ فیس ادا کریں ۔
غور طلب ہے کہ اس نظام میں ایسی مشینری کی تنصیب کا منصوبہ بھی شامل ہے کہ اگر کوئی صارف ایگریمنٹ شدہ لوڈ سے زیادہ بجلی خرچ کرنے کی کوشش کرے تو کھمبے پر نصب آلہ خودبخود ٹرپ ڈائون ہوجائے گا اور بجلی کی سپلائی منقطع ہوجائے گی اور پھر اس وقت تک بحال نہ ہوگی جب تک بجلی کے اضافی استعمال کو لوڈ میں شامل نہ کیا جائے۔مختصر طور یہی کہا جاسکتا ہے کہ بجلی کی سپلائی کے حوالے سے آنے والے دن بجلی ملازمین اور عوام دونوں کیلئے کوئی اچھے نہیں ہونگے کیونکہ جہاں ملازمین کو تنخواہوں کی واگزا ری کیلئے حسب ِلوڈ فیس کی وصولی یقینی بنانا پڑے گی وہیں صارفین کو بھی استعمال شدہ بجلی کے ایک ایک وولٹ کی فیس ادا کرنا پڑے گی ۔ 
 

تازہ ترین