تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    8 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
 سوال: موت برحق ہے ،اس لئے کسی کی موت پر تعزیت کا سلسلہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم عمل ہے ۔اس بارے میں بہت افراط و تفریط ہوتی ہے۔براہ کرم تعزیت کے سلسلے میں اسلامی احکام بھی بیان کریں اور اصلاح طلب امور کی بھی وضاحت کریں۔  
مشتاق احمد جانبازامیرا کدل سرینگر

تعزیت کو عبادت کا درجہ حاصل

 پُرسا دینے کا شرعی طریقہ

جواب: کسی کے گھر میں موت کا حادثہ پیش آئے تو اُس کی غمخواری کرنا ،اُسے تسلی دینا،صبر و برداشت کرنے کی تلقین کرنا اور فوت شدہ شخص کی اچھائیاں بیان کرکے اس کے لئے دعا ئےمغفرت کرنا تعزیت کہلاتا ہے ۔شریعت اسلامیہ میں اس کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔چنانچہ اسلام میں عیادت اور تعزیت دونوں باعثِ اجر و ثواب عمل ہیں۔حدیث میں ہے جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی اللہ اُس کو نور کی چادر اُوڑھائینگے۔دوسری حدیث میں تعزیت کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔لہٰذا تعزیت کرنا عبادت ہے اور باعث اجر ہے ۔تعزیت کے سلسلے میں ہمارے معاشرے میں یقیناً بہت سارے امور اصلاح طلب ،بہت سارے قابلِ ترک اور بہت سارے بدعات کے زمرے میں آتے ہیں ۔اختصار کے ساتھ چند امور ملاخطہ ہوںمگر پہلے تعزیت کا مسنون طریقہ ملاخطہ ہو۔
جب کسی کے فوت ہونے کا علم ہوجائے تو تین دن کے اندر اندر اُن کے پاس جاکر مسنون تعزیت کی جائے۔تعزیت کرنے جائیں تو فوت شدہ شخص کے لئے کلمات خیر کہیں،اُس کی کسی نہ کسی خوبی کا تذکرہ کریں ۔حدیث میں ہے کہ اپنے مُردوں کے محاسن بیان کرو۔پھر اُس کے حق میں دعائے مغفرت کریں اور پسماندگان کو اس غم کے برداشت کرنے پر اجر ملنے کا یقین دلائیں ۔موت کے برحق ہونے ،اپنے وقت پر موت آنے اور موت کا پیالہ ہر ایک کوچکھنے کی حقیقت سمجھانے کے ساتھ صبر کرنے کی تلقین کریںاور اس کے بعد رخصت ہوجائیں ،بس تعزیت یہی ہے ۔
تعزیت کا یہ عمل تین دن کے اندر اندر انجام دیا جائے اگر کسی شخص نے وفات کی خبر تین دن کے بعد سُنی ہو تو وہ تین دن کے بعد بھی اظہار تعزیت کرسکتا ہے ۔یا اگر کوئی دور ہو اور تین دن کے اندر نہ پہنچ پائے تو وہ تین دن کے بعد جب واپس آئے تو تعزیت کے لئے جاسکتا ہے ۔
تعزیت کے لئے جانے والا شخص پوری طرح کوشش کرے کہ وہ میت کے پسماندگان کے لئے کسی طرح کا کوئی بوجھ نہ بنے، مثلاً کھانے پینے کا انتظام کرنے کا بار اُن پر نہ ڈالے ۔اگر دور سے تعزیت کے لئے آنا پڑے تو کھانے پینے کا انتظام کسی اور جگہ پہلے ہی کرے۔اُن کو مطلع کردے کہ ہم تعزیت کریں گے مگر ہمارے کھانے پینے کے ہرگز کوئی تکلف یا تکلیف نہ کریں کیونکہ اُس کا انتظام دوسری جگہ ہے اور میت کے پسماندگان بھی اس کو نہ بُرا مانیں اور نہ اس پر ناراض ہوںبلکہ یہ سمجھیں کہ اصل طریقہ ٔتعزیت یہی ہے کہ غم زدہ گھر والوں کے لئے تعزیت کو بوجھ نہ بننے دیں اور تعزیت کے لئے آنے والےکےلئے کوئی کھانے پینے کا انتظام کرنے کا بار ہم پر نہ پڑے۔اسلام کا نظام تعزیت یہی ہے ۔اگر کسی شخص کا بہت قریبی تعلق ہو تو تین دن میں متعدد مرتبہ بھی تعزیت کے لئے جاسکتے ہیں بشرطیکہ اس کے بار بار جانے سے اُن کو دلی راحت اور واقعی تسلی ہو۔اب چند اصلاح طلب امور ملاخطہ ہوں۔
(۱)ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس کے گھر میں کسی کی وفات ہوگئی ہو اُن کو تین دن تک اپنے گھر میں کچھ بھی پکانا بلکہ چولہا جلانا بھی درست نہیں ہے حالانکہ شرعی طور پر وہ پہلے دن سے ہی اپنا چولہا جلا سکتے ہیں اور اپنا کھانا بھی خود پکاسکتے ہیں۔مگر ہمارے معاشرے میں یا تو ایسے گھر والوں کو مطعون کیا جاتا ہے یا بُرا سمجھا جاتا ہے اور یا وہ خود بھی پسند نہیں کرتے ۔دراصل موت پر غم کی نوعیت مختلف ہوتی ہے ۔لہٰذا اس کے لئے شرعی مزاج کو سمجھنا ،جاننا اور برتنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ اگر حادثہ غیر متوقع اور سنگین ہے تو خاندان غم زدہ و نڈھال ہوگا اور اگر حادثہ ٔموت متوقع تھا، مثلاً مریض بوڑھا ہے، لمبے عرصہ سے بیمار اور معالجین کی نظر میں کچھ عرصہ کا مہمان تھا تو پھر غم نسبتاً کم ہوگا ۔لہٰذا اگر موت کے بعد گھر والے اپنے کھانے کا انتظام خود کریں تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہے اور اگر غم کی شدت کی بناء پر اُن کے تحمل سے باہر ہوتو اُن کے پڑوسی اُن کو معمول کا کھانا کھلائیں۔ پُر تکلف دعوت سے بہتر ہے کہ سادہ طور پر کھلانے پر اکتفا کریں۔
(۲)تعزیت کے لئے کچھ لوگ کئی کئی دن ،کچھ ہفتوں اور بعض لوگ مہینوں ڈیرہ جماکر رکھتے ہیں اور میت کے پسمندگان اپنے قلبی احساس کا اظہار بھی نہیں کرتے یعنی وہ اُن کے ڈیرہ جمائے رکھنے پر دل سے رضا مند ہیں یا بادل ناخواستہ منہ بند اور دکھلاوے کے لئے رضامند ہیں ۔ اس لئے یہ اُن پر بوجھ بننے کا ایک رواج یہاں کشمیر کے معاشر ے میںہے جس کو سہنا ، جھیلنا اور د ل پر پتھر رکھ کر برداشت کرتے رہنا لازم ہوگیا۔ اسلام کی تعلیم کےمطابق تعزیت کرکے رخصت ہونے کا حکم ہے اس لئے صرف تین دن تک تعزیت کا وقت ہے تاکہ پسماندگان اپنی زندگی آگے چلانے کےلئے اٹھ کھڑے ہوں اور یہ اُن کو بہر حال کرنا ہی ہے ۔ اس لئے اُن کو جلد سے جلد اس کےلئے آمادہ ہو جانے کا ماحول مہیا کرنا ضروری ہے۔
(۳) میت کے پسماندگان کے یہاں تعزیت کےلئے آنے والوں کی چائے پانی اور دور سے آنے والوں کے کھانے وغیرہ کا انتظام بھی لازم سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ اب اس کےلئے فورم اور کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں اور اِدھر سے جنازہ نکل رہا ہوتا ہے دوسری طرف کھانے پکانے کے انتظامات کی ایسی سرگرمی ہوتی ہے کہ کبھی شادیوں کی تقریبات کا جیسا منظر بن جاتا ہے۔ یہ سب غیر شرعی ہے اور صرف کشمیر کے معاشرے میں ہے۔
(۴) میت کے پسماندگان کا ایک سنگین جرم بعض مقامات اور بعض گھرانوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے روزے کھلم کھلا یہ کہہ کر ترک کر دیتے ہیں کہ ہم تعزیت زدہ ہیں اور اسی لئے تعزیت کی مجلس میں اقارب ، احباب ، ہمسایہ آتے جاتے ہیںمگر کھلم کھلا نمازیں ،روز ے ترک کی جاتی ہیں اور ساتھ ہی دعائے فاتحہ بھی پڑھتے رہتے ہیں ۔ حیرت و حسرت کی بات یہ ہے کہ اللہ کا فریضہ صوم وصلوٰۃ پوری بے غیرتی سے پامال ہوتے ہیں اور اس پر کوئی احساس ِندامت نہیں تو ایسے لوگوں کا یہ دکھلاوے کا فاتحہ کیا فائدہ دیتا ہوگا۔
(۵) تعزیت کی مجلس میں خواتین بکثرت صرف دِکھلاوے کےلئے روتی ہیں اور جوں ہی کوئی خاتون تعزیت کےلئے آئےتوبہ تکلفرونے کےلئے بین شروع ہو جاتا ہے ۔ شریعت میں اس کو نوحہ خوانی کہتے ہیں ۔ اگر واقعتاً غم واندوہ کا ناقابل برداشت حال ہو رہا ہو ،مثلاً جواں بیٹا مر گیایا کم عمر بچوں کا باپ فوت ہوگیایا نویلی بیوی کا شوہر گذر گیا اور بے اختیار رونا آرہا ہو تو اس میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن صرف دکھلاوےکےلئے رونا پیٹنا سخت منع ہے۔
(۶) تعزیت میں دو امور سب سے اہم ہیں مگر وہ پوری طرح نظر انداز کر دیئے گئے ہیں۔ ایک میت کی وراثت کی تعین اور شرعی تقسیم، اس پر کوئی توجہ اور فکر نہیں حالانکہ یہ قرآنی حکم ہے اور حدود اللہ میں سے ہے اور دوسرے غیر متوقع موت پر زبان کو قابو میں رکھنا۔ چنانچہ بعض لوگ اللہ کو ظالم بے انصاف اور نہ جانےکیا کیاکہہ جاتے ہیں اور بال نوچنا، کپڑے پھاڑنا، بین کرنا اور اس طرح کی دوسری حرکتیں کرنا۔ جب کہ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ ہم میں سے نہیں جو چہرے پیٹے، کپڑے پھاڑے اور جاہلانہ چیخ و پکار کرے ( بخاری و مسلم)

 
 

سیلان الرحم (لیکوریا) اور وضو کے مسائل

سوال : بہت ساری خواتین ،جو ہماری دینی بہنیں ہیں،اُن کو ایک پریشان کُن بیماری ہوتی ہے ،جس کو ’لیکویریا‘ کہتے ہیں۔یہ ایک سفید قسم کا پانی ہے جو پرائیویٹ پارٹ سے نکلتا رہتا ہے۔آپ اس بیماری کی تفصیلات کسی لیڈی ڈاکٹر سے معلوم کرسکتے ہیں۔اس سفید پانی کے نکلنے کی صورت میں اُس خاتون پر کیا غسل واجب ہوجاتا ہے یا صرف وضو کافی ہے؟کبھی یہ بہت زیادہ مقدار میںنکلتا رہتا ہے اور کبھی تھوڑا تھوڑا ۔اگر یہ ہر وقت نکلتا رہے تو کتنی مرتبہ وضو کیا جائے؟ کبھی یہ کپڑوں کو بھی لگ جاتا ہے ،کیا اس سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں؟آج کل سردیوں میں شلوار کے نیچے گرم دراز بھی ہوتا ہے اُس کو بار بار دھونا اور خشک کرنا ایک مشکل کام ہے۔
سُمیہ۔صورہ، سرینگر
 
جواب :خواتین کو’ لیکویریا ‘،جس کو سیلان الرحم کہتے ہیں،سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں اُن کو اختصار کے ساتھ درج کیا جاتا ہے۔
پہلا مسئلہ۔سیلان الرحم سے غُسل لازم نہیں ہوتا ۔اس لئے کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو غُسل لازم ہونے کا سبب بنے،یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی مرد کو مذی یا ودی خارج ہو۔اس کے نکلنے سے صرف وضو لازم ہوگا ،جیسے پیشاب کے نکلنے سے صرف وضو لازم ہوتا ہے۔
دوسرا مسئلہ۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کپڑوںکو لگ جائے تو وہ کپڑا ناپاک ہوجائے گا مگر صرف اتنا ہی حصہ ناپاک ہوگا جس حصہ کو اس کے قطرے لگ جائیں اور صرف اتنے ہی حصہ کو پاک کرنا کافی ہوگا ۔جیسے کسی پاک کپڑے کو پیشاب کی چھینٹیں لگ جائیں تو وہ ناپاک ہوگا مگر اتنا ہی حصہ ناپاک ہو ،نہ کہ سارا کپڑا۔
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اگر مسلسل نکلتا رہتا ہے تو پھر تسلسل کی حد کیا ہے۔اگر وضو کرکے نماز ختم کرنے تک موقعہ مل جاتا ہے تو پھر ایسی خاتون کو وضو کرکے نماز شروع کردینی چاہیئے ،اگر درمیان میں لیکویریا اتنے تسلسل سے آرہا ہے کہ وضو کرکے نماز ختم کرنے تک موقعہ نہیں مل رہا ہے تو یہ عورت شریعت کی نظر میں معذور قرار پائے گی ۔اب اس کو نماز کا وقت ہوجانے کے بعد وضو کرنا ہے،پھر نماز شروع کرنی ہے۔اب نماز کے دوران اگر لیکویریا کے قطرے آگئے تو یہ معاف ہیں۔اُس خاتون کا یہ وضو دوسری نماز کے وقت تک قائم رہے گا اور اس دوران جتنی بھی مرتبہ لیکویریا خارج ہو ،وہ معاف ہے۔
چوتھا مسئلہ۔چوتھا مسئلہ کپڑوں کا ہے ۔وہ خواتین جن کو کثرت سے لیکویریا نکلتا رہتا ہے ،اُن کے لئے صرف ایک حل ہے، جس سے وہ اپنے کپڑوں کو ناپاک ہونے سے بچا سکیں گی اور وہ یہ کہ ڈائیپر Diperاستعمال کریں۔جب نماز کا وقت آئے تو وہ ڈائیپر نکال دیں پھر اچھی طرح استنجا ء طہارت اور وضو کرکے نماز پڑھیں ،پھرڈائیپر لگا دیا کریں۔
آخری مسئلہ یہ ہے کہ اس بیماری کا علاج بھی کریں اور اس میں جن جن چیزوں کا پرہیز کرنا ہوتا ہے وہ پرہیز بھی کریں۔