بَم و بارُود سے کبھی توبہ تو کیجئے

سرحدی آبادی کو سکون سے جینے تو دیجئے!

تاریخ    5 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


 ایک ایسے وقت جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وباء سے جوجھ رہی ہے اور اس کو قابو کرنے کے جتن کررہی ہے،ہمارے یہاں دشمنیاں ختم ہونے کا نام لے رہی ہیں۔منقسم جموںوکشمیر کی سرحدیں مسلسل آگ اُگل رہی ہیں۔خود وادی کشمیر کے اندر بھی مسلح تصادم آرائیوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔جمعہ کو ہی راجوری کے نوشہرہ سیکٹرمیںگولہ باری کے دوران ایک فوجی ماراگیا جبکہ کل ہی جموںصوبہ کے کئی سیکٹر وں میں آتشیں گولہ باری چل رہی تھی جس کے نتیجہ میںکئی مکانوںکو نقصان پہنچنے کے علاوہ چند ایک لوگ زخمی بھی ہوگئے ہیں۔ کل ملا کر صورتحال یہ ہے کہ جموںوکشمیر کے باسیوں کو شاید ہی ایسا کوئی دن نصیب ہوتا ہے جب وہ پیر پسار کر سو سکیں۔
موجودہ جاں گسل حالات میں یہ دردناک صورتحال مزیدسنگین بن چکی ہے کیونکہ ایک طرف کورونا ہے تو دوسری جانب بھارت اور پاکستان کی دشمنی، جو اب جموںوکشمیر کے عوام کیلئے وبال جان بن چکی ہے ۔سرحدی آبادی کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ کورونا سے بچیں یا گولہ باری سے۔ان کے لئے آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی معاملہ بن چکا ہے ۔آئے روز کی گولہ باری کی وجہ سے وہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں لیکن ہجرت کی اجازت نہیں ہے کیونکہ سماجی دوریوں کا پاس و لحاظ لازمی قرار پایا ہے ۔گھروں میں رہیں تو موت کا خوف ہر دم ستاتا رہتا ہے ۔بے بسی کا یہ عالم ہے کہ سرحدی علاقوںکے لوگ گھروں کے ایک کونے یا زیر زمین بنکر کے میں ایک دوسرے سے چمٹ جاتے ہیں اور بر زبان صرف یہی دعا ہوتی ہے کہ کوئی گولہ ان کی زندگی کا خاتمہ ثابت نہ ہو۔
دیکھا جائے تو یہ کورونا سے بھی سنگین انسانی المیہ ہے لیکن دنیا کو شاید اس میں دلچسپی نہیں ہے،اسی لئے جموںوکشمیر کی سرحدی آبادی کی حالت زار پر کسی کو ترس نہیں آتا۔سرحدی آبادی بجا طور سوال کررہی ہے کہ اگر آج پوری دنیا کورونا کے خلاف متحد ہوچکی ہے تو بھارت اور پاکستان کے درمیان ایسی کون سی دشمنی ہے جو ان دو ملکوں کو کورونا کے خلاف متحد ہونا تو دور کی بات تھی،ان حالات میں بھی ایک دوسرے کا خون بہانے پر آمادہ کررہی ہے۔ پوری عالمی برادری عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ جڑ کر ایک مشترکہ جنگ لڑرہی ہے اور اس جنگ کا مقصد لوگوںکی جانیں لینا نہیں بلکہ جانیں بچانا ہے اور ا ب تو بس ویکسین آنے ہی والا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہاں دو پڑوسی ملک ان حالات میں بھی خون بہانے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔
 مرکزی قائدین کا موقف ہے کہ یہ اشتعال انگیزی پاکستان کی جانب سے کی جارہی ہے اور اس کیلئے دراندازی اور سرحدی علاقوں میں اسلحہ کی برآمدگی کو ثبو ت کے طور پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم پاکستان کا مؤقف بھی بالکل یکساں ہے اور ان کا الزام ہے کہ بھارت بلا اشتعال گولہ باری کرکے شہری آبادی کو نشانہ بنارہا ہے۔ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔آپ کتنی ہی گولیاں کیوںنہ چلائیں اور کتنے ہی بم کیوں نہ گرائیں،آپ کو بالآخر بات کرنا ہی پڑے گی ۔دنیا کی تاریخ میں آج تک کوئی مسئلہ تشدد سے حل نہیں ہوا ہے بلکہ تشدد موت و تباہی ہی لیکر آیا ۔آج بھی تشدد کی اس پالیسی سے کسی کا کچھ بھلا نہیں ہوسکے گا بلکہ یہ دونوں ممالک کی معیشت کو دھیمک کی طرح چاٹتی رہے گی۔
کوروناوباء نے ایشیاء کے طبی نظام کو ایکسپوژ کردیا ۔جتنا پیسہ ہم دفاع کے شعبے پر خرچ کررہے ہیں،اگر ہمارے باہمی مسائل ختم ہوں تو ہم یہی پیسہ عوامی بہبود پر صرف کرسکتے ہیں۔جب دشمنیاں ختم ہوں اور تنازعات قصہ پارینہ بن جائیں تو نہ گولی چلانے کی کوئی وجہ رہے گی اور نہ ہی سرحدوں پر گولوںکی برسات کرنے کا کوئی جواز رہے گا بلکہ پھر دونوںجانب امن و سکون ہوگا اور لوگ سکون کے ساتھ ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوپائیں گے۔وقت نے ثابت کردیا کہ دنیا کا ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو حل نہ کیا جاسکے ۔ہمارے مسائل بھی ایسے سنگین نہیں ہیں کہ وہ حل نہ ہوسکیں ۔اس کیلئے فقط سیاسی چاہ درکار ہے ۔آخر اس دشمنی میں کیا رکھا ہے ۔زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔کورونا کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ ہم دوسروںکیلئے جئیں۔انسان کو مارنے کیلئے بیماریاں کافی ہیں،ایسے میں بم وبارود کی کوئی ضرورت نہیں بچی ہے ۔
خدا کیلئے یہ ناقابل فہم دشمنی کا سلسلہ ترک کریں اور آپس میں ہاتھ ملائیں۔کشت و خون سے آج تک کسی کو کچھ ہاتھ نہیں لگا ہے اور نہ آگے لگے گابلکہ امن اوردوستی ہی ہم سب کو اُس ڈگر پر گامزن کرا پائے گی جس کی منزل خوشحالی کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔اُمید کی جانی چاہئے کہ کورونا کی وبا ء سے کچھ سبق سیکھ کر حکمران ان تلخ حقیقتوں کا بلا تاخیر ادراک کریں گے تاکہ بر صغیر میں انسانیت کا سسک سسک کر مرنا بند ہوسکے۔

تازہ ترین