تازہ ترین

نظمیں

تاریخ    3 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


اُلجھن

حوصلوں نے دم توڑا
سانس لینا بھی مشکل ہے
کوئی یہ بتائے کہ لوگ
درد کہاں چْھپاتے ہے
اب زندگی سے کیا شکوہ
سب کچھ تو بکھرا پڑا ہے
ظالم تُو بس رکنا مت
ابھی مجھ میں زندگی باقی ہے
چھین لو وہ سانسیں پھر سے
جو مجھ میں ابھی باقی ہیں
اْف نہ کروں گا میں کبھی
جان میری تو حاضر ہے
جدا کر دے روح میری
جو جسم میں میرے قید ہے
 
سید عامر شریف قادری
کاپرن شوپیان
موبائل نمبر؛9797535210
aamirsharief45@gmail.com
 
 

کوئی مسیحا آئے کیوں

بے بس تو ہے انسان تیرا، شکوہِ زبان پہ لائے کیوں
واقف ہے تُو ہر حال سے، کوئی تجھے بتائے کیوں
ہر آتی جاتی سانس بھی، قبضے میں ہو جِس ذات کے
پھر سامنے اُس ذات کے، بندہ نہ سر جُھکائے کیوں
ہر ایک رُروح مجروح ہے، چھلنی ہے ہر جگر یہاں
گہرے ہمارے گھاؤ ہیں، مرہم کوئی لگائے کیوں
مجرم کے سامنے ہو جب، قانون بھی بے دست و پا
ناکردہ گُناہ کی سزا، معصوم پھر نہ پائے کیوں
بیٹی حواّ کی پھرتی ہے، کچھ اب یہاں اِس حال میں
کہ دیکھ کر فرشتہ بھی، کوئی بہک نہ جائے کیوں
جُھوٹا نہیں دعویٰ ہے یہ، رشوت خوروں کا کہ جب
ملتا ہو مُفت میں حرام، حلال کوئی کھائے کیوں
حالت اپنی بدلنے کی، جرأت نہ ہو جس قوم میں
اُس قوم کیلئے کبھی، کوئی مسیحا آئے کیوں
 
اے مجید وانی
احمد نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛9697334305