تازہ ترین

’’ گھائو ‘‘

افسانہ

تاریخ    3 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ایف آزاد ؔ دلنوی
رضیہؔ کی سہیلی ایک اجنبی کواپنی طرف آتے ہوئے دیکھ کر چونک پڑی۔ وہ کبھی اجنبی کو تو کبھی رضیہؔ کو دیکھتی۔دونوں کے چہروں میں بڑی مماثلت تھی لگتا تھاکہ جیسے ایک ہی سانچے میں ڈھالے گئے ہوں۔اُس نے رضیہ سے کہا۔
’’مردوں کے چہرے بھی عورتوں جیسے ہوتے ہیںوہ اجنبی تم سے کتنا ملتا جلتا ہے۔‘‘
رضیہؔ ، جو کالج کے لان میں اپنی دوسری سہیلیوں کے ساتھ گپیں اُڑانے میں مصروف تھی ، نے مڑ کرہنستے ہوئے اپنی سہیلی سے کہا۔
’’ارے پاگل مردوں کے چہرے پر داڑھی مونچھ ہوتی ہے۔‘‘
دوسری سہیلیوں نے رضیہ ؔکی ہاں میں ہاں ملائی۔اُس نے پھر رضیہؔکو ہلا کر کہا۔
’’اُدھر دیکھ۔وہ تمہارا بھوت ہماری طرف آرہا ہے کیا۔۔۔۔؟‘‘
رضیہؔنے نظریں آگے کی جانب دوڑائیںتو وہ بھونچکا رہ گئی۔ایک ادھیڑ عمر کاآدمی‘جس کا چہرہ ہوبہورضیہؔ کے چہرے سے ملتا جلتا تھااُن کی جانب ہی پریشان حالت میں آرہا تھا۔ ان کے بالکل قریب آکر دم ٹھہراتے ہوئے بولا۔
’’رضیہؔ ۔۔۔۔میری بیٹی۔۔۔۔میرے ساتھ چلو۔۔۔۔!!!‘‘
 وہ رضیہؔکا ہاتھ پکڑنے لگا۔رضیہ ؔ سہم کر اُٹھ کھڑی ہوئی اوردوڑتے ہوئے پرنسپل صاحب کے آفس میں پہنچ گئی۔وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔
’’سر۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔وہاں۔۔۔۔ایک آدمی کالج کے اندر داخل ہوا ہے وہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں لگ رہا ہے اُس کو باہر نکلوا دیجئے۔‘‘
پرنسپل صاحب نے بیل بجا دی اور چپراسی دوڑتا ہوا آیا۔اُسے کہا۔
’’ذرا دیکھ آئو کون کالج کے احاطہ میں گھس آیا ہے اُسے نکال باہر کر دو۔‘‘
’’سر وہ آدمی تو چلا گیا ہے ۔‘‘
’’آئندہ خیال رہے ایسے ایرے غیرے لوگوں کو اندر آنے نہیں دینا چاہیے۔‘‘
’’جی سر  ‘‘
پھر رضیہؔ سے بولے۔
’’بیٹی اب تم جائو۔وہ چلا گیا ہے ۔‘‘
رضیہؔ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے اپنی سہیلیوں کے پاس چلی گئی، جواُسی جگہ پر بیٹھی ہنس رہی تھیں۔ ایک سہیلی اُس کو چڑاتے ہوئے بولی۔
رضیہ۔۔۔ؔ ارے یار۔۔۔۔وہ سچ میں تمہارا باپ لگ رہا تھاکچھ دیر کے لئے اُ س سے بات کی ہوتی۔‘‘
یہ سنتے ہی رضیہ ؔ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ اپنے مقدر کو کوستے ہوئے بولی
’’میں وہ بد نصیب لڑکی ہوں جس نے اپنے باپ کی تصویر تک نہیں دیکھی ہے اور ماں نے بھی اس بارے میں چپی سادھی ہے ۔‘‘
’’ارے یار تم تو سنجیدہ ہوئی۔ میرا مقصد تمہاری دل آزاری کرنا نہیں تھا۔چھوڑو اس بات کو۔۔۔‘‘
پھر کچھ دیر کے لئے وہ ادھر اُدھر کی باتیں کر تی رہیں۔دوسرے دن وہ شخص پھر کالج کے مین گیٹ پر نمودار ہوا اور گیٹ کیپر سے اندر جانے کی ضد کرنے لگا ’’دیکھو بھائی مجھے اپنی بیٹی سے ملنا ہے۔ مجھے اندرجانے دو۔‘‘
’’تم اندر نہیں جا سکتے ۔‘‘
پھر وہ شخص گیٹ سے اندر جھانکتے ہوئے چلانے لگا۔’’رضیہ۔۔۔۔رضیہ ۔۔ میری بیٹی۔۔۔۔‘‘گیٹ کیپر نے جلد ہی اُس کو وہاں سے ہٹا دیا۔رضیہ اُس کو سن اور دیکھ بھی رہی تھی، پھر دیر تک وہ اُسی شخص کے بارے میں سوچتی رہی، اُس کے دماغ میں طرح طرح کے خدشات آتے رہے۔
 کالج سے چھٹی ہوتے ہی وہ سیدھا گھر چلی گئی اور اپنے کمرے میں اکیلی منہ لٹکائے بیٹھی رہی، کچھ دیر کے بعد ماں کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔
’’رضیہ آکر چائے پی لو۔‘‘
وہ خاموش رہی۔ماں بیٹی کی پریشانی بھانپ گئی۔
’’بیٹی کیا بات ہے کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔۔۔؟
رضیہ ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔’’ ماں میرے بابا کہاں ہیں۔‘‘
’’ارے بیٹی تجھے کیا ہوا ہے یہ کیا بکھیڑا  لے کر بیٹھی ہو۔چلو اُٹھو چائے پیو۔‘‘
اُس نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔’’جب تک تم جواب نہیں دیتی میں ایک دانہ بھی منہ میں نہیں ڈالوں گی۔‘‘
فرزانہؔ بیگم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور روہانسی آواز میں بولی۔
بیٹی ۔۔۔ہماری زندگی ٹھیک ٹھاک گزر رہی تھی ۔نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔تم چھوٹی تھی جب وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے  پھر اُس نے مڑ کر کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
’’مگر ماں کوئی تو وجہ رہی ہوگی۔‘‘
’’وجہ آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘
 رضیہ نے پھر اصرار کرتے ہوئے کہا۔’’ماں مجھے بابا کی تصویر چاہیے۔‘‘
’’اُوپر میرے ٹرنک میں پڑی ہے۔‘‘
رضیہ بے تاب دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھی اور ٹرنک سے اپنے بابا کی تصویر نکالی۔تو وہ حیران رہ گئی جب اُس نے دیکھاکہ اُس کے بابا کی تصویرہو بہو اُس شخص سے ملتی ہے جو اُس سے ملنے آیا تھا۔ وہ نیچے ماں کے پاس آکر بولی۔
’’ماں۔۔۔۔چائے انڈیلو۔‘‘ 
اور چپ چاپ چائے پی کراپنے کمرے میں چلی گئی۔ اُس نے کسی فوری رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔رات ختم ہوگئی صبح سویرے اُٹھ کر کام سے فارغ ہونے کے بعدوہ کالج جانے کے لئے تیاری کرنے لگی۔وہ اُس اجنبی سے ملنے کے لئے اُتاولی ہورہی تھی۔ ماں سے رخصت لیتے ہوئے وہ کالج چلی گئی اور گم سم سی کالج کے لان میں انتظار کرتی رہی۔ وہ باربار مین گیٹ کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اچانک وہ اجنبی آتے دکھائی دیا۔رضیہ تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے گیٹ کیپر کو جا کر بولی۔
’’اس آدمی کو اندر آنے دو۔‘‘
’’رضیہ ۔۔۔۔ میں ظہیر قریشی ہوںتمہارا بابا۔‘‘
یہ سن کر رضیہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور وہ ہچکیاں لے لے کر ظہیر قریشی سے لپٹ کر بولی ۔’’بابا تم آج تک کہاں تھے۔‘‘
ظہیر قریشی نے اُس کے شانے تھپتھپاتے ہوئے کہا۔’’بیٹی بتاتا ہوں ۔‘‘
اور دونوں کالج کے لان میں بنے ایک بینچ پر بیٹھ گئے ظہیر قریشی ہچکچاتے ہوئے بولے ۔’’بیٹی۔۔۔ دراصل۔۔۔۔ بات یہ ہے۔‘‘وہ کہتے کہتے رک گئے۔
’’آپ رک کیوں گئے بابا۔‘‘
’’بیٹی تم کو فرزانہ نے بتا دیا ہوگا۔دراصل میں نے دوسرا نکاح کر لیا تھا پھر اُس گھر میں رہنا محال ہوگیا۔‘‘۔
یہ سن کر رضیہ غصہ ہوکر جانے لگی تو ظہیر قریشی نے اُس کا ہاتھ پکڑ کرنیچے بٹھا دیا۔’’بیٹی مجھ سے غلطی ہوئی ہے، ہوسکے تو مجھے معاف کردو۔اب میر ی دوسری بیوی نہیں رہی۔میں ٹوٹ چکا ہوں مجھے گھر لے چلو۔‘‘
لاکھ منانے کے بعد رضیہ باپ کو گھر لے جانے کے لئے آمادہ ہوگئی۔
’’چلو۔۔۔۔۔ بابا ۔۔۔اسی وقت گھر چلو۔‘‘
مین گیٹ سے باہر نکلتے ہی ظہیر قریشی نے کہا۔’’بیٹی ایسا کرتے ہیں میں کل سامان لے کر آتا ہو ں تم میرا انتظار کرنا۔‘‘اور دونوںاپنے اپنے راستے پر چلے گئے۔
اُس لمحے رضیہ ہشاش بشاش لگ رہی تھی اُس نے برسوں کے بعد اپنے بابا کو روبرو دیکھا تھا۔ گھر پہنچتے ہی ماں نے کہا ۔
’’آج تمہارا چہرہ کھلا کھلا سا لگ رہا ہے، کیا بات ہے ؟‘‘ 
’’ماں آج میں بہت خوش ہوں ۔بالآخر وہ مل ہی گیاْ وہ کل گھر آرہاہے۔‘‘
’’بیٹی۔۔۔۔  کیوںپہیلیاںبوجھاتی ہو۔صاف صاف کہہ دو کون آرہا ہے۔‘‘
رضیہ نے اُس کی ان سنی کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا۔وہ گھر کی صفائی ستھرائی کرنے لگی، میز کرسیاں قرینے سے رکھنے لگی، گلدستے سجانے لگی اور دیر تک اسی کام میں جٹی رہی۔
فرزانہ بیگم سمجھ بیٹھی کہ شاید رضیہ کسی لڑکے کو مجھ سے ملانے لا رہی ہے۔ رات بیت گئی رضیہ نے پھر ایک بار سارے گھر کا جائزے لے کر خود کی تسلی کر لی اور ہر کمی کو دور کرتی رہی۔ وہ بے تابی سے انتظار کرتی رہی ۔انتظار کے بعد بالآخرظہیر قریشی بیل بجا کر اُلٹے پائوں لوٹ گئے ۔رضیہ دروازے کی طرف لپک کر بولی۔’ ’ماں وہ آگیا ۔۔۔۔!!!اُس نے دروازہ کھولا تو حیران رہ گئی۔ایک ننھا سا بچہ ‘ جس کی جیب میں ایک چٹھی تھی، پھولوں کے گلدستے سے کھیل رہاتھا ۔رضیہ نے بچے کی جیب سے چٹھی نکال کر پڑھی۔۔۔۔لکھا تھا 
’’فرزانہ بہت برسوںکے  بعداللہ میاں نے ایک ننھے سے بچے سے نواز۱ ہے مگر بچے کو جنم دیتے وقت ہی اس کی ماں چل بسی۔ اس ننھے سے بچے سے ڈھیر سارا پیار کرنا ۔ یہ سن کر شاید تمہیں خوشی ہوگی کہ میرا تیسرا نکاح طے ہوا ہے۔
٭٭٭
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847