تازہ ترین

افسانچے

تاریخ    3 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر نذیر مشتاق

آن لائن

اچانک فیس بک پر وہ دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست بن گیے۔۔۔وہ ہر رات ایک دوسرے کے ساتھ پیار کی باتیں کرتے تھے ۔انہوں نے خیالوں میں ‌کشمیر کے تمام صحت افزا مقامات کی سیر کرلی۔۔۔اب وہ ایک رات ایک ساتھ گزارنا چاہتے تھے۔۔ونود کمار نے تجویز پیش کی۔۔سونیا۔۔ اب ہم نے خیالوں میں بہت ماہ و سالِ گزارے۔ اب ہم ہوٹل آدم اینڑ ایو میں ایک یادگار رات منایں کے۔ مانو سہاگ رات منائیں گے۔ تم دلہن بن جانا اور میں  آکے تمہارا گھونگھٹ۔۔۔او کے۔۔تم کل وہاں آجانا میں تمہارا انتظار کروں گا ؛
دوسرے دن شام کے وقت ونود ہوٹل آدم اینڑ ایو کے سامنے ایک دکان کے پاس کھڑا سگریٹ خرید رہا تھا۔
کسی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔ہیلو کیسے ہیں آپ۔۔واہ کیا لگ رہے ہیں، کسی خاص پارٹی میں جانا ہے کیا۔۔۔۔اس کے سامنے راکیش مسکرا رہا تھا۔
ارے جیجا صاحب آپ ۔۔۔ کیسے ہیں آپ اور ہماری بہنا کیسی ہے۔۔۔ ونود کمار نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں بالکل ٹھیک ہوں اور ہاں آپ کی بہنا، وہ آج اپنی کسی سہیلی کی شادی میں گئی ہے۔ رات کو وہاں ہی رہےگی۔ لگتا ہے اس کی کوئی غریب سہیلی ہے اس لئے وہ اپنے ساتھ اپنی شادی کا جوڑا اور میک اپ کٹ لے گئی ہے۔۔۔۔
 

کرسی

صاحب۔ آپ تین مہینے سے ہر روز اس دفتر میں آتے جاتے ہیں کیا آپ کا کام نہیں ہورہاہے ہے۔ اس بہت بڑے محکمہ کے ایک دفتر میں ایک نوجوان نے مجھ سے کہا۔
ہاں بھائی! یہاں میری کوئی سنتا ہی نہیں، حالاں کہ میں نے سبھی قانونی تقاضے پورے کئے ہیں۔ میں نے جواب دیا۔
ارے صاحب۔۔قانون کی یہاں کون پروا کرتا ہے قانون تو صرف کتابوں میں درج ہے یہاں قانون نہیں پیسہ چلتا ہے۔
آپ‌مجھے بتادیجیے کہ آپ کو اس دفتر میں کیا کام ہے میں آپ کا  کام کرواؤں گا بشرطیکہ آپ وہ پوری رقم ادا کریں گے جو خرچ ہوگی۔۔۔۔۔اس نوجوان نے مجھے سمجھایا۔۔۔۔۔۔اگرمیں رشوت نہ دوں تو ۔۔۔۔۔۔میں نے نوجوان سے مسکراتے ہوئے کہا۔
تو آپ کا کام کبھی کوئی نہیں کرے گا۔ یہاں رشوت لئے بغیر کوئی ملازم‌کوئی کام نہیں کرتا ہے۔۔نوجوان نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔
کوئی رستہ نہیں ہے؟ میں نے سوال کیا۔
ہاں صاحب آپ بڑے صاحب سے بات کریں وہ بہت ایماندار اور کام کرنے والے آفیسر ہیں۔۔۔کیا بات ہے ان کی، پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور دو بار حج کر چکے ہیں۔۔پکےمومن ہیں درویش صفت انسان ہیں۔ کبھی رشوت نہیں لیتے ہیں۔ وہ شیر ہیں شیر اور ان کے ماتحت کام کرنے والے سب کتے ہیں۔ کتے ہر وقت ہڈی کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔آپ بڑے صاحب سے ضرور ملئے۔۔۔
بڑے صاحب میرے سامنے کرسی پر بیٹھے ہیں میں نے اپنا دکھڑا سنایا اور کہا۔ آپ اپنے‌ماتحت کام کرنے والے ملازموں کو رشوت لینے سے کیوں نہیں روکتے ہیں۔ یہاں گیٹ کیپر سے لےکر اوپر تک سب ‌رشوت کا تقاضا کرتے ہیں۔
آپ کیوں کچھ نہیں کرتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری بات غور سے سن کر اس نے آہ بھر کر جواب دیا،
میں کیا کروں میں نے خود یہ کرسی دو کروڑ روپے  میں خریدی ہے۔۔۔۔۔۔۔اوپر والوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

نجومی

اب اس کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔۔وہ جو کچھ بھی کہتا بالکل صحیح ثابت ہوتا۔ وہ کسی کو جینے مرنے کی بالکل درست تاریخ بتاتا۔ اس کی ہر پیشین گوئی بالکل درست ہوتی۔ اب‌اس کے‌گھر کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی اور وہ صبحِ سے شام تک لوگوں کے مسائل حل کرتا۔۔۔۔‌اس کی آمدنی میں بھی قابل قدر اضافہ ہوا تھا۔۔
دو دن پہلے اس کا اکلوتا بیٹا بیمار ہوا۔۔۔ اس‌نے کسی وید سے بیٹے کا علاج کروایا اور خود رات کی تنہائی میں اس کی جنم کنڈلی دیکھی۔ رات بھر کی عرق ریزی کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچاکہ اس‌کا‌بیٹا صرف سات دنوں کا مہمان ہے  اپنے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا تھاکہ وہ ابھی گیارہ سال زندہ رہے گا۔۔۔
وہ پریشان ہوا اور اس کا‌دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس کے سر میں درد ہونے لگا۔۔۔۔وہ ہر‌رات پاگلوں کی طرح کاغذات اور قدیمی کتابیں کھنگالتا کہ شائد کوئی ترکیب نکل آئے اور اس‌کا بیٹا موت سے بچ جائے۔۔۔ ٹھیک سات دن بعد آدھی رات کے بعد اچانک اس کا سر چکرایا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا  اور اس کی ناک سے خون جاری ہوا۔
دوسرے دن اس کے بیٹے نے اس کی چتا میں آگ لگائی۔۔۔
 
 

زمین

علی محمد خان، جسے محلے کے باشندے حاجی خان کہتے تھے، آج ہوا میں اُڑ رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی حسینہ کے سامنے اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔۔،,"۔آج میرے دل کی مراد پوری ہوگئی۔ آج میں سو کنال زمین کا مالک بن گیا۔ جانتی ہو کتنے سال لگے مجھے یہاں تک پہنچنے میں اور کس طرح میں اس مقام تک پہنچا،ہاں! بیوی نے جواب دیا۔۔۔۔۔اچھی طرح جانتی ہوں۔ بے ایمانی، جھوٹ، فریب اور دھوکہ بازی کا سہارا لے کر تم سو کنال زمین کے مالک بن گئے ہو۔۔۔ غیر قانونی طور کتنی زمین حاصل کی ہے،جانتی ہوں۔۔۔۔۔کرنا کیا ہے اس زمین کا۔ ایک بیٹا ہے ہمارا وہ بھی سرکاری ملازم ہے۔ اتنی زمین کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔بیوی نے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔حاجی خان نے سگریٹ کا زور دار کش لگاتے ہوئے کہا۔  تم کیا جانو زمین کی قیمت۔ آج کل کے زمانے میں سو کنال زمین کا مالک ہونا سونے کی کان کا مالک ہونے کے برابر ہے۔ اب میں اس شہر کے ارب پتی تاجروں کی صف میں کھڑا ہو گیا ہوں اور یہی میرا سپنا تھا۔۔۔وہ کہہ ہی رہا تھا کہ اس کا فون بج اٹھا۔۔۔فون پر اس کا دوست کہہ رہا تھا کہ ایک گاؤں کے نزدیک سڑک کے کنارے پانچ کنال زمین براے فروخت ہے۔اپ جلدی آیئے ایسا موقع پھر کبھی نہیں ملے گا۔۔۔
حاجی خان کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا سگریٹ نوشی سے لطف اندوز ہورہا تھا اور خیالوں میں شہر کے ارب پتی تاجروں کے ساتھ بیٹھا قہقہے لگا رہا تھا۔ کار ‌پل پر سے گزر رہی تھی کہ پیچھے سے ایک آرمی ٹرک آرہی تھی
اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا۔۔۔چند لمحوں کے بعد وہاں دھویں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔گائوں کے باشندے اور فوجی موقع واردات پر جمع ہوگئے
ایک عمر رسیدہ شخص دوسرے آدمی سے کہہ رہاتھا  اللہ ہر کسی کو مرنے کے بعد دو گز زمین نصیب فرمائے۔۔۔۔
 
ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر
موبائل نمبر; 9 419004094