تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    1 جنوری 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

مساجد کے لئے زور زبردستی چندہ جمع کرنا غیر شرعی

سوال:-مساجد یا مدارس کے لئے سڑکوں پر چندہ جمع کرنا کیساہے ۔ شہر سرینگر کے قدیم علاقوں میں آج کل کچھ مقامات پر پرانی مساجد کو شہید کرکے از سر نو تعمیر کیا جارہاہے اور سڑکوں پر باقاعدہ طور حصولِ چندہ کے لئے ایک گروپ متعین کیا جاتاہے جو لائوڈ اسپیکر لے کر سڑکوں پر ڈیرہ جماتے ہیں اور ہرآنے جانے والی گاڑی کو روک کر ان سے چندہ کے لئے اپیل کرتے ہیں ۔شریعت اور اخلاقیات کے اعتبار سے ایسی کارروائی/سرگرمی کی کیا حیثیت ہے ، براہ کرم جواب عنایت کریں۔
جاوید احمد……سرینگر
جواب:- مساجدیا مدارس کے لئے سڑکوں پر چندہ جمع کرنے کا یہ طریقہ غیر شرعی بھی ہے اور طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ بھی ہے ۔ مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لینا ایک نفلی عبادت ہے اور نفلی عبادت انجام دینے کے لئے صرف ترغیب دے سکتے ہیں خصوصاً وہ نفلی عبادت جومالی عبادات میں سے ہو ۔ چنانچہ قرآن کریم نے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر میں خود شرکت فرمائی ۔لیکن نہ تو لوگوں کے گھروں میں جاکر چندہ وصول کیا اور نہ شاہرائوں پر کچھ افراد کو بٹھا کر گزرنے والوں سے زبردستی چندہ لینے کا طریقہ جاری کیا ۔ غزوۂ تبوک کے لئے صرف چندہ اپیل کی گئی۔لیکن اصرار وجبر کا یہ طریقہ تو کہیں نہیں اپنایا ۔
اب سڑکوں ،شاہرائوں اور گذرگاہوں پر مائک لگاکر اپیلیں کرنا اور رسید بک لے کر گاڑیوں کے سامنے کھڑا ہونا ،زبردستی چندہ دینے پرضد کرنا ، نہ دینے والوں کو بُرابھلا کہنا، طعنہ زنی کرنا اور جو شخص چندہ نہ دے پائے اس کی توہین کرنا یا تحقیر آمیز نگاہوں سے اسے دیکھنا اور چندہ جمع کرنے کے لئے جو گروپ کھڑا کیا جاتاہے عموماً مسجد میں نماز ہوتی رہتی ہے مگر ان کو اس ترک صلوٰۃ پر کوئی افسوس یا احساسِ گناہ نہ ہونا ، یہ سارا طریقہ سراسر غیر شرعی ہے اور اس میں مزید مجرمانہ طریقہ شامل کیا گیا کہ کچھ لوگ کمیشن مقرر کرکے سڑکوں پر کھڑے کئے جاتے ہیں تاکہ وہ چندہ وصول کریں ، ان کو مسجد کی تعمیر کا جذبہ کم اور اپنے کمیشن کے زیادہ ہونے کی فکر زیادہ ہوتی ہے اس لئے وہ ہرگزرنے والے کے لئے مسجد کے نام پر گریبان تک پکڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں ۔ یہ سب ناجائز ہے یہ کمیشن لینا ودینا دونوں سڑکوں پر مائک لگا کر رسید بک لے کر زبردستی چندہ کرنا کسی طرح بھی شرعاً درست نہیں ہے ۔ 
دراصل محلہ کے لوگ اپنی مسجد اپنے وسائل کے مطابق بنانے کے مکلف ہیں ۔جیسی مالی حالت ہو اور جیسے وسائل ہوں اُسی کے مطابق تعمیر کا منصوبہ بنانا چاہئے ۔جب کسی دوسری جگہوں کے اونچے معیار کو ذہن میں رکھا جائے  اور خود اپنے محلہ یا گائوں والوں کوانفاق کا ویسا جذبہ نہ ہو ،جیسے اپنے مکانات کی تعمیر کے لئے ہوتا ہے ،تو اس کے لئے چندہ کرنے کے یہ غیر شرعی طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ 
بے دلی اور قلبی رضامندی کے بغیر محض پیچھا چھڑانے کے لئے جو بھی چندہ لیا گیا یا دیا گیا وہ شرعاً ہرگز جائز نہیں ہے ۔

مشترکہ کاروبار سے خرچہ اُٹھانے کا معاملہ

سوال:-چند بھائی اکٹھے کاروبار کرتے ہیں اور ہرایک بھائی ماہانہ یکساں رقم خرچے کے لئے اٹھاتاہے ۔ کچھ بھائیوں کا اس رقم سے اچھی طرح گزر بسر ہوتاہے جب کہ کچھ بھائیوں کا گزارہ مشکل ہوجاتاہے حتیٰ کہ بیمار کے لئے دوا ئی وغیرہ خریدنے کے لئے بھی قرضہ لینا پڑتاہے اور کھانے پینے اور پہننے میں نہایت سادگی اپنانے کے بعد بھی علاج کے لئے مقروض ہوناپڑتاہے ۔ کیا شریعت میں اس چیز کا کوئی حل موجود ہے کہ مشترکہ کاروبار کے ہوتے ہوئے عیال دار بھائی کو چھوٹ ملے جس سے وہ بھی زندگی کے دن خوشحالی سے گزار سکے ۔
عنایت اللہ …کشمیر
جواب:-مشترکہ خاندان میں متعدد برادران ایک ساتھ رہائش پذیر ہوں تو جس بھائی کے خرچے زیادہ اور آمدنی ناکافی ہو تو دوسرے بھائیوں پریہ اسلامی فریضہ ہے کہ وہ صلہ رحمی کریں ، حق قرابت اور اخوت نسبتی ودینی کی رعایت کرتے ہوئے اُس پر کم سے کم بار ڈالیں اور جب عیال کثیر کی بناء پر اُس کومقروض ہوناپڑتاہے تو دوسرے بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ اس صورتحال میں تعاون اور اعانت کا روّیہ اپنائیں ۔حتیٰ کہ اگراُس کے قرضہ کی ادائیگی میں اس کو صدقہ دیں تو یہ بھی درست ہے۔گھر کے خرچے کے لئے مساوی رقم لینے پر اگر کسی بھائی کو واقعتاً بارپڑتاہے تو یا تو اس سے خرچہ کم لیں اور یا اس کے انفرادی خرچے مثلاً علاج ،تعلیم،کپڑے وغیرہ کے لئے اپنی مخصوص رقم سے مدد کریں ۔ اس طرح قرآنی حکم کے مطابق ذوی القربیٰ کا حق بھی ادا ہوگا اور صلہ رحمی کا حکم بھی پوراہوگااور یہ بھائی اور اس کے عیال اُن کا احسان مند ہوکر ان کے ساتھ اخلاقی طور پر معاون ومددگاربھی ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رشتہ طے کرنے سے قبل لڑکے اور لڑکی کا ایک دوسرے کو دیکھنا

سوال: ۱-رشتے ناطے جوڑنے کی غرض سے لڑکی لڑکے کو ایک دوسرے کو دکھانا اور وہیں پر رشتہ طے کرکے انگوٹھی وغیرہ پہنانا شرعی طور درست ہے یا نہیں ؟
سوال: ۲-رسوماتِ بد اور روزمرہ زندگی میں اجتماعی سطح پر ہونے والی ایسی رسومات کا ازالہ انفرادی طور پر کیسے کیا جائے ؟
صوفی عبدالرشید
علمداربستی 
جواب:۱- رشتہ قائم کرنے کے لئے لڑکے کو حق ہے کہ وہ جس خاتون سے رشتہ کرنا چاہتاہے اُس خاتون کو دیکھ لے ۔ چنانچہ احادیث میں اس کو مخطوبہ کو دیکھنے کی اجازت کے عنوان سے یہ جواز موجود ہے تو یہ اجازت حدیث سے ثابت ہے ۔ لیکن لڑکے اور لڑکی کو دیکھنے یا رشتہ پختہ کرنے کی غرض اس طرح پارکوں میں جانا اور وہاں بنائو سنگھار کے تمام لوازمات پورا کرکے ایسا طرز عمل اختیار کرناجیسے کوئی دکاندار اپنا مال سجا سنوار کر سامنے رکھے اور گاہک دیکھنے کے لئے پہنچے اور پھر اس کے بعد پسند و ناپسند کا فیصلہ کرے۔ یہ کس درجہ نامناسب اور غیر موزوں ہے ۔ 
دراصل شریعت اسلامیہ نے یہ دیکھنے کی اجازت دے کر مستقبل کی بہت ساری تلخیوں اور کشیدگیوں کا دروازہ بند کیاہے مگر دیکھنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ رشتہ کی بات چلانے سے پہلے لڑکا لڑکی کو اس طرح دیکھے کہ خود لڑکی کو اس کا علم نہ رہے اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو کم ازکم اپنے کسی رشتہ دار کے گھر یا کسی پڑوسی کے گھر میں دونوں کی ملاقات نہایت متانت اور سنجیدگی کے ساتھ کرائی جائے جیسے ہمیشہ مہذب مسلم معاشرہ کا طریقہ رہاہے۔
پارکوں اورباغوں یا ہوٹلوں یا آستانوں پر اس طرح دیکھنے دکھانے کا یہ طرزِ عمل نہ مزاج شریعت کے مطابق ، نہ اسلام کے نظامِ حیاء وعفت سے میل کھاتاہے اور نہ یہ عقل وعزت کی اخلاقیات میں مستحسن ہے ۔
جواب:۲- شادی بیاہ کی تقریبات میں غیر شرعی رسوم اور اسراف وفضول خرچی کو روکنے کے لئے ہر محلے اور ہر گائوں میں ایسی کمیٹیاں بنائی جائیں جو نکا ح و شادی کا ایک مفصل لائحہ عمل مرتب کریں ۔ اس لائحہ عمل کو دستاویزی شکل دے ۔پھر یہ کمیٹی اپنے محلے یا گائوں میں ہونے والی ہر شادی والے کو اس کو عملانے کے لئے آمادہ کریں ۔ اس طرح یہ ایک موثر طریقہ کار اپنائیں کہ شادی کے سیزن کے وقت ایسے تمام گھروں کے ذمہ داران کو ایک مجلس میں مدعو کرکے اس کی ترغیب دیں کہ اس مرتب شدہ لائحہ عمل کے مطابق ہی اپنی شادی کا فریضہ ادا کریں۔ جو حضرات اس کو قبول کریں اُن کی حوصلہ افزائی میں اور جو لیت ولعل سے کام لیں ان کو مسلسل سمجھانے ، اور فضول خرچی کے طرح طرح کے نقصانات اور معاشرے پر اس کے مرتب ہونے والے بُرے اثرات ذہنوں میں اُتارنے کی کوشش کریں ۔ اگر کوئی اس کے باوجود فضول خرچی کرنے پراَڑا رہے توا سے معاشرے میں الگ تھلگ کرنے کے لئے ایک عہد وپیمان کیا جائے کہ ایسی بے جا رسوم اور ان غلط وغیر شرعی امور کی مجلس سے دور رہنے کی مہم چلائی جائے ۔ 
اگر اس طرح یہ تلخ صبر آزما اور بظاہر مشکل طرزِ عمل کو اپنایا گیا تو یقینا بہت حد تک اس فساد کو قابو میں رکھنا ممکن ہوگا ۔ 
ورنہ صرف وعظ ، اخبار ی مضامین اور لٹریچر سے یہ فساد ختم ہونا مشکل ہے ۔ اس کے لئے ہمسفر میریج سیل کے طرز کے ادارے قائم کرنا مفید ہے اور اس لئے اس کا بہترین ثمرہ اور حوصلہ بخش تجربہ ہمارے سامنے ہے ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلام کا مسنون طریقہ

سوال:-سلام کرنا مسلمانوں کی ایک ایسی خصوصیت ہے جس میں مسلمان دوسری قوموں سے ممتاز ہیں ۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ سلام کے صحیح الفاظ اور درست تلفظ کیاہے ؟ ہمارے معاشرے میں قسم قسم کے الفاظ اور تلفظ کے ساتھ سلام کیا جاتاہے ۔ براہ کرم سلام کے صحیح الفاظ بھی درج فرمائیں اور جو جو غلط تلفظ ہے اُن کی نشاندہی بھی فرمائیں ؟
سلام الدین شیخ…ڈوڈہ 
جواب:- انسانوں کے ہرطبقے اور ہر قوم میں ملاقات کے وقت اچھے الفاظ سے استقبال کرنا اور مزاج پرسی سے پہلے سلام کے عنوان کچھ نہ کچھ الفاظ بولنا ضرور پائے جاتے ہیں ۔ 
اسلام نے مسلمانوں کے لئے سلام کرنے کے جوکلمات  مقرر فرمائے ہیں ۔ اور وہ یہ ہیں : السلام علیکم۔
یہ لکھنے میں اسلام علیکم غلط ہے اور السلام علیکم صحیح ہے۔یعنی سین سے پہلے لام ضرور لکھا جائے ۔ 
سلام کے تلفظ میں بکثرت غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ اچھے ، معزز ، تعلیم یافتہ اور بعض دیندار حضرات بھی اس سلسلے میں احتیاط نہیں کرتے ۔ چنانچہ چند غلط تلفظ جومعاشرے میں رائج ہیں وہ یہ ہیں :
اِسلام علیکم ، سام علیکم ، اَسّام علیکم ، سَاء کَلَیکم، سانْ وَلیکم، سَلا ؤلیکم ، سَمْ لَیکم، سَامَلَکم۔ سائے مالائے کم ۔ وغیرہ 
اس لئے ضروری ہے اس طرح کے ہر غلط تلفظ سے بچنے اور اچھے اور درست تلفظ کے ساتھ سلام کرنے کا اہتمام اور کوشش کی جائے۔ دُرست تلفظ یہ ہے ۔لکھنے میں اس طرح ہے : السلام علیکم ۔ اس کو پڑھنے کا طریقہ ہے : اَسْ سَ لَ امْ عَ لَ یْ کُ مْ۔
AS-SALAMU. ALAIKUM

اگر اس میں ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ بڑھایا جائے تو بہت بہتر اور مزید باعث اجرہے ۔

سلام کرنا سنت اور جواب دینا واجب ہے ۔بعض لوگ اسلام علیکم کے جواب میں السلام علیکم بول دیتے ہیں، جو صحیح نہیں ۔اگر ایسا کیا جائے تو دونوں کو وعلیکم السلام کہنا واجب ہوتاہے ۔
جواب:- غیر مسلم کو ’’السلام علیکم‘‘ کہنا بھی درست نہیں اور نمستے یا اسی طرح کا دوسرا مذہبی یا اُن کا مخصوص لفظ بولنا بھی صحیح نہیں ہے ۔ ہاں آداب یا آج کے انگریزی کے الفاظ بولنے میں کوئی حرج نہیں ، مثلاً :
Good Morning, Good After Noon ۔