تازہ ترین

عورت نور ہے تو گھروں میں نار کیوں ہے؟

بنت ِ حوا اپنا مقام پہچانے،عظمت پر پستی غالب نہ آنے پائے

تاریخ    31 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
صدیوں سے غلامی اور جبر کی تاریکیوں میں پھنسی عورت کو پیغمبر اسلام ؐ نے گویا اْس کے صحیح مقام سے آشنا کردیا۔ قر آنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے باقاعدہ سورۃ النساء کو شامل کرکے عورت کو بلند مقام عطا کیا۔ سورۃ النور بھی خواتین کے ہی معاملات سے متعلق ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ کلام اللہ نے عورت کو نور یعنی روشنی سے تعبیر کیا ہے۔ یہ ہے عورت کا مقام۔ اس کا مطلب ہے کہ جہالت اور غفلت کے اندھیروں میں غرق معاشروں کو بیداری اور شعور کی شمع جلانے کا اعلیٰ ترین منصب عورت کو ہی عطا کیا گیا ہے۔ حضرت مریم کا واقعہ بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے گویا دنیا کی سبھی خواتین سے مخاطب ہوکر یہ کہہ دیا کہ عورت پر خود ذاتِ باری نے تاریخی اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے انسان کی بنیادی تربیت بھی عورت کے ہی ذمے ہے۔ 
علاوہ ازیں نسل ِ انسانی کی نشوونما، نسلِ آدم کی بقا ء اور تمدنِ انسانی کی بنیاد مرد اور عورت کی باہمی رفاقت اور شفیقانہ ملاپ پر مبنی خاندان جیسے بنیادی ادارے پر منحصر ہے۔ عورت کے اسی بنیادی منصبی مقام کو دیکھتے ہوئے پیغمبر اسلامؐ نے دنیائے انسانیت کے لئے ایک نمونہ پیش کیا جس میں عورت سماج میں محترم ہوگی، خاوند کی طرف سے اْس کے تئیں شفقت اور صلح رحمی فرائض میں شمار ہے اور اولاد سے کہا کہ ماں کے پیروں کے نیچے جنّت ہے۔اسلام کی بدولت ہزاروں سال بعد عورت کی عِفّت اور عصمت کے بارے میں پوری انسانیت حساس ہوگئی۔ 
اس بات سے انکار نہیں کہ علمی روشنی سے منور آج کے دور میں بھی خواتین پر غیرت کے نام پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں، جہیز کے نام پر اُن کا قتل کیا جاتا ہے، جبر کے ماحول میں وہ کبھی خود کشی بھی کرتی ہیں اور بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کو ترجیح دینے کی روایت ابھی بھی سماج کے اجتماعی شعور میں گہرائی تک موجود ہیں۔ 
لیکن صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سماج میں رسم و رواج کے نام پر جو بدعات رائج ہورہی ہیں اُن میں خواتین کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ جہیز کی لعنت سے عورت متاثر ہورہی ہے لیکن اس کی ترویج اور اسے پرموٹ کرنے میں عورت خود پیش پیش ہے۔ خاندان کی بڑی آپا ہی سماج میں ناک اونچی رکھنے کے نام پر طرح طرح کے حیلے بہانے تراشتی ہے تاکہ بہو کے پیچھے پیچھے لاکھوں روپے مالیت کا سازوسامان بھی ہو۔ نکاح اور رخصتی کے دوران ایسی درجنوں رسوم خود عورتوں نے گھڑ لی ہیں جن پر ہزاروں روپے خرچ ہوجاتے ہیں، چہارم اور چہلم پر مہنگے زیوارت کی نمود، لڑکی یا لڑکے کے سْسرال والوں کو لاکھوں روپے خرچ کرکے ’تعزیتی گْل میْوٹھ‘ ، دْلہے کے لئے دست بوسی کا ’ورتاو‘ ، حج یا عمرہ سے قبل وازوان اور واپسی پر بھی بڑی دعوتیں وغیرہ۔ یہ سب ہمارے سماج میں اب گویا ایک اجتماعی فریضہ بن چکے ہیں اور مرد حضرات بے بس ہوکر خواتین کی ان اختراعی خواہشات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ 
ناخواندہ تو ناخواندہ، مگر اب اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی اِ ن ہی بدعات اور رسوماتِ بد کو جدید طرز پر آگے بڑھارہی ہیں۔ ہر طرف شور ہے کہ عورت کو غلام بنایا گیا۔ درست ہے کہ صدیوں سے عورت کے گلے میں غلامی کا طوق تھا، لیکن قرانِ پاک نے جب مساوات کا نظریہ سامنے لایا تو انسانیت شعور سے ہمکنار ہوگئی اور عورت کو سماج میں مناسب مقام مل گیا۔ لیکن جدید دور میں اب عورت ملازمت کرکے خود اپنے گلے میں غلامی کا طوق بخوشی ڈال چکی ہے۔ دن بھر دفتر، کارخانہ، کال سینٹر یا دکان پر کام کرنے کے بعد گھریلوں ذمہ داریاں اور بچوں کی پرورش اور نگہداشت۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ عورت کے کاندھوں پر مردوں سے زیادہ بوجھ ہے۔ لیکن ذرا غور کریں کہ اچھی خاصی کمائی والے مرد سے شادی کرنے کے باوجود عورت بھی کمائی پر آمادہ ہوتی ہے، کیونکہ سماج میں جاہ و حشمت کی دوڑ اور معاشی مسابقت کا وائرس ہے، خواتین مردوں سے کہتی ہیں کہ کروڑوں روپے کا قرض لے کر بنگلہ بنالیا جائے، مرد کی کمائی سے گھر چلے گا اور عورت کی کمائی سے بینک کی قسط ادا ہوگی۔ 
خواتین آج کل تعلیم اور تربیت کے مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں، لیکن اجتماعی لاشعور میں مسابقت اور مادہ پرستی کے جو جرثومے ہیں وہ ایک پڑھی لکھی اور بااختیار عورت کے دماغ میں پوری طاقت کے ساتھ پھوٹنے لگتے ہیں۔ پھر وہ گھریلوں ذمہ داریوں کے بارے میں کم اور رشتہ داروں میں ناک اونچی رکھنے پر زیادہ توجہ صرف کرتی ہے۔ 
بعض اہلِ علم نے یہاں تک کہا ہے کہ عورت کو مرد کا مشیر بنایا گیا ہے۔ غور کیجئے کہ ہمارے یہاں یہ مشیر مرد کو کیا مشورے دے رہا ہے: اگر حج اور عمرہ سے قبل پورے خاندان کو وازوان نہ کھلایا تو ناک کٹ جائے، بچوں کی تعلیمی کامیابی پر اگر ہزاروں روپے نہ اُڑائے گئے تو ناک کٹ جائے گی، بیٹی کو رخصت کرتے وقت اگر لاکھوں روپے مالیت کا سامان نہ بھیجا گیا تو ناک کٹ جائے گی، تعزیت کے موقعہ پر سمدیوں کے یہاں ہزاروں روپے مالیت کے تانبے کے برتن، زیورات اور دوسرے تحائف نہ لئے تو ناک کٹ جائے گی، بیٹی کے یہاں اولاد ہونے پر ’پیاو‘ کے نام پر لاکھوں نہ لٹائے تو ناک کٹ جائے گی، بیٹے کی نوکری میں ترقی پر سب کو بلا کر جشن نہ منایا تو ناک کٹ جائے گی۔
آغاز میں عورت کے جس جدید مقام کا ذکر کیا اُس کی روشنی میں خواتین کا یہ رویہ دیکھ کر لگتا ہے کہ عورت خود اپنی دشمن بنی ہوئی ہے۔ سماج میں جب غریب کش رسوماتِ بد پھیل جائیں تو دن رات بھی وعظ و پندار ہوتا رہے، کچھ نہیں ہوگا۔ ہاں البتہ اگر خواتین چاہیں تو سماج کو اعلیٰ اخلاق اور شفاف اجتماعی رویوں سے ہمکنار کرواسکتی ہیں۔ 
ہر طرف شور ہے کہ میریج ہال بنائیں، اب تو متعدد مقامات بھی عالیشان میریج ہال ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کہ خواتین کی تربیت کے لئے بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسی اعلیٰ ظرف، پڑھی لکھی اور باشعور خواتین کو آگے آنا چاہیے جو معاشی مسابقت، دیکھادیکھی، ڈھینگیں مارنے اور غیرضروری نمود ونمائش کے امراض سے پاک ہوں، اُنہیں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی اجتماعی تربیت کا انتظام کرنا چاہئے۔ رسومات بد اور خوامخواہ کے رواجوں پر خواتین کے اصرار سے ایک مرد بے بس ہوکر اُن پر عمل تو کرتا ہے، لیکن دوسری طرف دنیا کی ہر خرابی کے لئے خواتین کو ذمہ دار سمجھنے لگتا ہے۔ 
کشمیر میں ہر سال ہزاروں ازدواجی نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ شادی کے چھہ ماہ بعد ہی بیوی مائیکے میں ہوتی ہے اور درمیانہ دار اُن کے درمیان مفاہمت کی کوششیں کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں؟ ضروری نہیں کہ سبھی جھگڑے اسی وجہ سے ہوتے ہوں، لیکن یہ مبالغہ نہیں کہ بیشتر جھگڑے عورتوں کی ایسی فرمائشوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جن کی جڑیں بدعات، خرافات اور رسوماتِ بد میں ہوتی ہیں۔ 
ہمارے یہاں ہزاروں سلائی سینٹر ہیں، تربیت گاہیں ہیں، درسگاہیں ہیں، سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہیں۔ باشعور خواتین کو چاہئے کہ وہ ان مقامات پر بہنوں اوربیٹیوں کو وقت کی اہم ترین ضرورت سے متعلق بیدار کریں۔ خواتین پر ہونے والے گھریلوں تشدد Domestic Violenceکی وارداتیں تھمنے کا نام نہیں لیتیں۔ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اس کا سدباب یوں کیا کہ ریاست میں شراب نوشی پر پابندی عائد کردی۔ اس سے بلاشبہ خواتین پر ہونے والے گھریلو تشدد پر کسی حد تک روک تو لگا دی گئی، لیکن عورتوں کی اجتماعی سوچ میں جو احساس کمتری ہے وہ اُنہیں ہر موقعہ پر نمود و نمائش اور فضولیات پر آمادہ کرتا ہے۔ مرد خواتین کی ان فرمائشوں کو مسترد تو نہیں کرتا ہے لیکن دل میں کدورت ضرور پالتا ہے۔ نفسیات کے ماہرین کا اب اس بات پر اجماع ہے کہ انسان اگر کسی شخص کے حکم یا فرمائش کو بادلِ ناخواستہ پورا کرے تو اُس کے تحت الشعور میں ایک طرح کی بغاوت جنم لیتی ہے، جو اْسے چِڑا چِڑا بنا دیتی ہے اور یہ بغاوت کسی اور صورت میں باہر آجاتی ہے۔ 
ان گزارشات کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ عورت کی تحقیر کی جائے، لیکن جیسا کہ عرض کرچکا ہوں کہ عورت صدیوں سے بے اختیار رہی ہے اور اسی بے اختیاری کی وجہ سے اْس میں احساس کمتری کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ اس خلا کو پورا کرنے کے لئے رسم و رواج کا سہارا لیتی ہے، لیکن یہ ایسا موزی مرض ہے جو سماج کے اجتماعی اخلاق کو اندر ہی اندر گھْن کی طرح کھا جاتا ہے۔ 
موجودہ دور میں خواتین کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ بااختیار کیسے بنیں۔ ماشاء اللہ اب خواتین تعلیم کے تمام شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔ اُنہیں یہ کہنے کی ضرورت بھی نہیں کہ وہ مردوں کے مقابلے میں کمزور ہیں، کیونکہ عورت نے کھیل کود، فنونِ لطیفہ، ازداجی زندگی، حکمرانی یہاں تک خلائی سفر تک اپنی داک بٹھادی ہے۔ لیکن جدید دور کی جدید عورت کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ خود کو دیرینہ احساس کمتری سے باہر نکالے۔ مردوں کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی۔ خواتین کو جو عزت و تکریم ملتی ہے وہ خالص ہو، اُس کے پیچھے یہ غرض نہ ہو کر آپا جی نے فلاں فلاں رسم پر خوب پیسہ خرچ کروایا اس لئے وہ اچھی ہیں۔ 
میں جائز اور ناجائز کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، لیکن بدعات اور خیروشر کے مواقع پر فضول رسومات کے پیچھے خواتین کا کلیدی ہاتھ ہوتا ہے۔خواتین کو یہی بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وقتی طور پر اُن کی من مرضی بدعات اور رسوماتِ بد کو فروغ تو ملتا ہے لیکن لانگ ٹرم میں اس کا خمیازہ خود عورت کو ہی بھْگتنا پڑتا ہے۔ عورت کو قرآن میں بلند ترین مقام عطا کیا گیا ، یہاں تک کہ پیغمبر کریم ؐپر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو اُن پر کپکپی طاری ہوئی اور اُنہیں اُم المومنین حضرت خدیجہؓ نے ہی سنبھالا دیا تھا۔ حضرت فاطمہؓ نے احادیث رسول ؐکی تدوین میں نمایاں کام کیا۔ مسلمان خواتین اپنے مقام سے آگاہ ہوجائیں تو وہ بدعات، خرافات، رسوماتِ بد، دیکھا دیکھی اور مادی بالادستی کی اندھی دوڑ میں مرد کو دنے پر مجبور نہیں کریں گی۔ لیکن عورت کو اُس کے بلند مقام کے بارے میں احساس دلانے کے لئے منظم کوشش کی ضرورت ہے۔
 اگر میریج ہال میں سال میں دو بار شادی بیاہ کی تقریب ہے تو باقی ایام میں وہاں خواتین کے لئے تربیتی ورکشاپ منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ میں یہاں مولوی صاحبان کو مدعو کرکے خواتین کے آگے وعظ و تبلیغ کی محفل سجانے کی بات نہیں کررہا ہوں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین ماہرین ِ عمرانیات، ماہرین نفسیات اور دیگر متعلقہ ماہرین کے تعاون سے یہ تجزیہ کرسکتی ہیں کہ آیا سب کچھ میسر ہونے کے باوجود گھروں میں سکون کیوں نہیں؟ 
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں)
 رابطہ۔ 9469679449، abdulqayoomshah57@gmail.com