سال ِ رفتہ مایوسی سے عبارت،سال ِ نو میں بہتری کی اُمید

تاریخ    31 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


 سال2020ہم سے رخصت ہورہا ہے اور2021کا سورج بس طلوع ہونے ہی والا ہے ۔شورش زدہ جموں وکشمیر میں انسانی ہلاکتوںکے تعلق سے اگرچہ گزرنے والا سال گزشتہ برس کے مقابلے میں کسی حد تک بہتر رہا اور تشدد آمیز کارروائیوں میں اُتنے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا اتلاف نہیں ہوا تاہم حسب سابق ہر اعتبار سے یہ سال بھی عوام کیلئے مایوس کن ہی رہا اور مسرت و فراوانی کا شاید ہی کوئی لمحہ جموںوکشمیرکے عوام کو بالعموم اور کشمیری عوام کو بالخصوس ہاتھ لگاہوگا۔
سال رفتہ میں جب کشمیر سیاسی لاک ڈائون سے ابھرنے لگا ہی تھا توکورونا وائرس کی آفت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور طبی لاک ڈائون نے اہلیان ِ جموںوکشمیر کو اپنے گھروں تک محدود کرکے رکھ دیا۔کوروناکی یہ لہر آتے آتے وادی میں بہار آچکی تھی اور موسم گرما نے بھی دستک دی تھی تاہم لوگوں میں گرم جوشی مفقود ہی رہی کیونکہ راحت رسانی کا کوئی سامان میسر نہ ہوا۔سیاسی لاک ڈائون کی وجہ سے بے پناہ مصائب سے دوچار ہونے والے عوام راحت و سکون کے منتظر رہے لیکن راحت کا کوئی پل میسر نہیں آیا اور کووڈ 19-کی وباء نے تباہی مچادی ۔بہار ختم ہوئی اور خزاں نے دستک دی لیکن اہل وادی نے بہار میں بھی خزاں کا سماں پایا اور خزاں آتے آتے ان کی آمیدیں کافور ہوگئی تھیں ۔
اس دوران حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحدپر بھی آگ و آہن کا کھیل جاری رہا اور دونوںجانب درجنوں انسانی جانیں تلف ہوئیں جبکہ ایک وقت ایسا آیا جب لگ رہا تھا کہ ہندوپاک کشیدگی جنگ کی صورت بھی اختیار کرسکتی ہے تاہم خدا خدا کرکے معاملہ رفع دفع کیاگیا ۔اسی کشمکش میں موسم سرما نے دستک دی اور جموںوکشمیر کی تاریخ میں پہلی دفعہ ضلع ترقیاتی کونسل کیلئے انتخابات ہوئے ،جن کے نتائج کم و بیش حسب توقع ہی رہے اور جیت کے دعوے کرنے والوں کی کہانیوں کے برعکس عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنی بات سامنے رکھی ۔دیکھا جائے تو عملاًکسی جماعت کو واضح کامیابی نہ ملی ۔اگر اسمبلی حلقوں کے اعتبار سے دیکھاجائے تو سبھی کا حال خراب ہی رہا اور آزاد امیدواروں کی ایک نئی فوج ابھر کر سامنے آئی جنہوںنے روایتی سیاستدانوں کو پچھاڑ دیا۔کیا یہ کشمیر میں کسی نئے سیاسی بندو بست کی عکاسی کرتا ہے ،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم ایک بات طے ہے کہ ان انتخابات نے کئی ایک کو شاہ اور کئی کو گدا بنا دیا۔
مسلسل آفتوں کا سامنا کرنے والے عوام کو انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں ایک بلا کا سامنا رہا جو ہنوز جاری ہے اور لاک ڈائون کی وجہ سے پیداشدہ محدودیت سے جہاں انٹرنیٹ زریعہ نجات بن سکتا تھا وہیں کشمیر میں انٹرنیٹ کی دم گھٹتی رفتار لوگوں کا جینا دوبھر کرتی رہی اور ابھی بھی کررہی ہے۔ ۔ان سب واقعات کے علاوہ دیگر کئی چھوٹے بڑے واقعات بھی پیش آئے تاہم ترقیاتی اور معیشی فرنٹ پر کوئی ایسی پیش رفت نہ ہوسکی جو قابل ذکر ہو بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ان دونوں محاذوں پر امسال بھی انتہا درجہ کی مایوسی ہی ہاتھ لگی تو بیجا نہ ہوگا۔
حق گوئی سے کام لیا جائے تو مجموعی طور پر پورا سال مایوسیوں سے عبارت رہا اور جہاں حکومتی سطح پر عوامی راحت رسانی کا کوئی بڑا کام نہ ہوسکا وہیں اپنے آپ کو عوام کے بہی خواہ کہلانے والی سیاسی جماعتوں کی جانب سے گو مگو کی سیاست ہی چلتی رہی اور عوامی نمائندگی کا کوئی واضح اور ٹھوس پروگرام سامنے نہیں آیا۔ یوں پورے سال میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ رونما نہ ہوا جو اہلیانِ جموںوکشمیر کیلئے راحت اور شادمانی کا باعث بن جاتا بلکہ اُلٹا نامرادیوں اور مایوسیوں کا یہ عالم رہا کہ بیروزگار نوجوانوں سے لیکر عام آدمی تک تمام طبقوں سے وابستہ لوگ نالاں ہی نظر آئے۔اب جبکہ 2020کا سورج غروب ہو رہاہے اور2021کا سورج طلوع ہورہاہے، تو یہی امید کی جاسکتی ہے کہ نیا سال اہلیانِ جموںوکشمیرکیلئے خوشیوں کی نوید لیکر آئے گا اور سارے نہیں تو کم از کم بیشتر مسائل حل ہوپائیں گے۔
 

تازہ ترین