نجی اسپتالوں میں ڈیجٹل بینکنگ کافقدان،مریضوں کیلئے باعث پریشانی

تاریخ    30 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//پرائیویٹ ہسپتالوںمیں ڈیجیٹل بینکنگ سہولیات نہ ہونے سے وہاں پر آنے والے مریضوں اور تیمارداروں کو شدید پریشانیوں کا سامناہے جبکہ اکثر نجی ہسپتالوں میں مریضوں کو دو دو ہاتھوں لوٹنے میں کوئی بھی کسر باقی نہیں چھوڑی جاتی ۔سی این آئی کے مطابق وادی جہاںاکثر سرکاری ہسپتالوں کو کووِڈ - 19مریضوں کیلئے مختص رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں مریض پرائیویٹ ہسپتالوں اور نجی کلینکوں پر جانے کو مجبو رہیں ۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ اکثر پرائیویٹ ہسپتال ٹیکس بچانے کی غرض سے ڈیجیٹل بینکنگ قبول نہیں کرتے اور لوگوںکو کئی کلو میٹر دور جاکر اے ٹی ایموں اور بینکوں سے رقومات نکالنی پڑتی ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی ایک مریضوں نے خبر رساںایجنسی کو فون پر بتایا یا کہ اکثر پرائیویٹ ہسپتالوں میں اس طرح کی سہولیات میسر نہیں ہیں جو ان کیلئے کافی پریشانی کا باعث بنتا ہے ۔ دریںاثناء مریضوں اور تیمار داروںنے کہا ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں اور نجی کلینکوں پر علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں کو دو دو ہاتھوں لوٹا جاتا ہے اور بات بات پر خطیر رقم چارج کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں معمولی سرینج جو بازار میں پانچ روپے میں ملتا ہے ،کیلئے پچاس روپے چارج کیا جاتا ہے ۔اسی طرح دیگر طبی آلات اورادویات بھی اضافی  قیمتوں پرفروخت کی جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں لوٹ و کھسوٹ کا بازار گرم ہے جس پر انتظامیہ کی خاموشی ناقابل فہم ہے ۔ لوگوںنے کہا ہے کہ علاج و معالجہ کے بہانے پرائیویٹ ہسپتالوں نے کاروبار شروع کیا ہے۔ لوگوںنے کہا ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں کی نکیل کسنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مجبور مریضوں کی جیبو ںپر نظر رکھنے کے بجائے انسانیت بچانے کی طرف توجہ مرکوز کریں ۔
 

تازہ ترین