تازہ ترین

دورِ نبوت ؐ میں اسلامی بھائی چارہ

سیرت نبویؐ

تاریخ    25 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


عبید احمد آخون
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے قندیلیں مسجد میں لٹکادیں ، پھر رات کے وقت ان کو جلادیا ۔یہ دیکھ کر حضور نبی کریم ؐ نے فرمایا:"ہماری مسجد روشن ہوگئی، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بھی روشنی کا سامان فرمائے، اللہ کی قسم! اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اس کی شادی تم سے کردیتا"۔بعض روایات میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجد میں قندیل جلائی تھی ۔ 
مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ آپؐ نے دو حجرے اپنی بیویوں کے لیے بنوائے تھے ۔(باقی حجرے ضرورت کے مطابق بعد میں بنائے گئے)۔ان دو میں سے ایک سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا تھا اور دوسرا سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا ۔
مدینہ منورہ میں وہ زمینیں جو کسی کی ملکیت نہیں تھیں ، ان پر آپ ؐنے مہاجرین کے لیے نشانات لگادئیے، یعنی یہ زمینیں ان میں تقسیم کر دیں۔کچھ زمینیں آپ کو انصاری حضرات نے ہدیہ کی تھیں ۔ آپ ؐ نے ان کو بھی تقسیم فرمادیا اور ان جگہوں پر ان مسلمانوں کو بسایا جو پہلے قبامیں ٹھہر گئے تھے، لیکن بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ قبا میں جگہ نہیں ہے تو وہ بھی مدینہ چلے آئے تھے ۔
آپ ؐ نے اپنی بیویوں کے لیے جو حجرے بنوائے، وہ کچے تھے ۔ کھجور کی شاخوں ، پتوں اور چھال سے بنائے گئے تھے ۔ان پر مٹی لیپی گئی تھی۔حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مشہور تابعی ہیں اور یہ تو آپ کو پتا ہی ہوگا کہ تابعی اسے کہتے ہیں جس نے کسی صحابی کو دیکھا ہو ۔وہ کہتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں امہات المومنین کے حجروں میں جاتا تھا، ان کی چھتیں اس قدر نیچی تھیں کہ اس وقت اگرچہ میرا قد چھوٹا تھا، لیکن میں ہاتھ سے چھتوں کو چھو لیا کرتا تھا۔ 
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اس وقت پیدا ہوئے تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو ابھی دو سال باقی تھے۔ وہ نبی کریمؐ کی زوجہ حضرت اْمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی باندی خیرہ کے بیٹے تھے۔ حضرت اْمّ سلمہ رضی اللہ عنہا انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس کسی کام سے بھیجا کرتی تھیں۔ صحابہ کرام انہیں برکت کی دعائیں دیا کرتے تھے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا انہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس بھی لے گئی تھیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ان الفاظ میں دعا دی تھی:"اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ عطا فرما اور لوگوں کے لیے یہ پسندیدہ ہوں "۔ 
مسجد نبوی کے چاروں طرف حضرت حارثہ بن نعمان کے مکانات تھے۔ آنحضرت ؐ نے اپنی حیات مبارکہ میں متعدد نکاح فرمائے تھے، جن میں دینی حکمتیں اور مصلحتیں تھیں ۔ جب بھی آپ ؐنکاح فرماتے تو حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ اپنا ایک مکان یعنی حجرہ آپ ؐکو ہدیہ کردیتے۔اس میں آپؐ کی زوجہ محترمہ کا قیام ہوجاتا ۔یہاں تک کہ رفتہ رفتہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سارے مکان اسی طرح حضورؐ کو ہدیہ کردیے۔ 
اسی زمانے میں آنحضرت ؐنے مہاجرین اور انصار مسلمانوں کے سامنے یہودیوں سے صلح کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کی ایک تحریر بھی لکھوائی۔معاہدے میں طے پایا کہ یہودی مسلمانوں سے کبھی جنگ نہیں کریں گے، کبھی انہیں تکلیف نہیں پہنچائیں گے اور یہ کہ آنحضرت ؐ کے مقابلے میں وہ کسی کی مدد نہیں کریں گے اور اگر کوئی اچانک مسلمانوں پر حملہ کرے تو یہ یہودی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔ ان شرائط کے مقابلے میں مسلمانوں کی طرف سے یہودیوں کی جان و مال اور ان کے مذہبی معاملات میں آزادی کی ضمانت دی گئی ۔یہ معاہدہ جن یہودی قبائل سے کیا گیا، ان کے نام بنی قینقاع، بنی قریظہ اور بنی نظیر ہیں ۔ 
اس کے ساتھ ہی آپؐ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا۔ اس بھائی چارہ سے مسلمانوں کے درمیان محبت اور خلوص کا بے مثال رشتہ قائم ہوا ۔اس بھائی چارہ کو مواخات کہتے ہیں ۔بھائی چارہ کا یہ قیام حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان پر ہوا ۔یہ بھائی چارہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد ہوا۔ اس موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمایا تھا:"اللہ کے نام پر تم سب آپس میں دودو بھائی بن جاؤ"۔
اس بھائی چارہ کے بعد انصاری مسلمانوں نے مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ۔خود مہاجرین پر اس سلوک کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ پکار اٹھے:"اے اللہ کے رسولؐ! ہم نے ان جیسے لوگ کبھی نہیں دیکھے ۔ انہوں نے ہمارے ساتھ اس قدر ہمدردی اور غم گساری کی ہے، اس قدر فیاضی کا معاملہ کیا ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی... یہاں تک کہ محنت اور مشقت کے وقت وہ ہمیں الگ رکھتے ہیں اور صلہ ملنے کا وقت آتا ہے تو ہمیں اس میں برابر کا شریک کرلیتے ہیں ... ہمیں تو ڈر ہے... بس آخرت کا سارا ثواب یہ تنہا نہ سمیٹ لے جائیں "۔ان کی یہ بات سن کر حضور نبی کریم ؐنے ارشاد فرمایا:" نہیں ! ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو گے اور انہیں دعائیں دیتے رہو گے "۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ بھائی چارہ کرانا حضور نبی کریم ؐکی خصوصیت میں سے ہے۔ آپؐ سے پہلے کسی نبی نے اپنے امتیوں میں اس طرح بھائی چارہ نہیں کرایا۔اس سلسلہ میں روایت ملتی ہے کہ انصاری مسلمانوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنی ہر چیز میںسے نصف حصہ دے دیا۔کسی کے پاس دو مکان تھے تو ایک اپنے بھائی کو دے دیا۔ اسی طرح ہر چیز کا نصف اپنے بھائی کو دے دیا۔ یہاں تک کہ ایک انصاری کی دو بیویاں تھیں، انھوں نے اپنے مہاجِر بھائی سے کہا کہ میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں ۔عِدّت پوری ہونے کے بعد تم اس سے شادی کرلینا لیکن مہاجر مسلمان نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا ۔
ان کاموں سے فارغ ہونے کے بعد یہ مسئلہ سامنے آیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو کیسے بلایا کریں۔ آپؐ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ اس سلسلہ میں ایک مشورہ یہ دیا گیا کہ نماز کا وقت ہونے پر ایک جھنڈا لہرادیا جائے۔ لوگ اس کو دیکھیں گے تو سمجھ جائیں گے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے اور ایک دوسرے کو بتادیا کریں گے لیکن حضور اکرم ؐنے اس تجویز کو پسند نا فرمایا۔ پھر کسی نے کہا کہ بگْل بجادیا کریں۔حضور اکرمؐ نے اس کو بھی نا پسند فرمایا کیونکہ یہ طریقہ یہودیوں کا تھا ۔اب کسی نے کہا کہ ناقوس بجا کر اعلان کردیا کریں آپؐ نے اس کو بھی پسند نا فرمایا اس لیے کہ یہ عیسائیوں کا طریقہ تھا ۔کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ آگ جلادی جائے۔ آپؐ نے اس تجویز کو بھی پسند نا فرمایا اس لیے کہ یہ طریقہ مجوسیوں کا تھا ۔ایک مشورہ یہ دیا گیاکہ ایک شخص مقرر کردیا جائے کہ وہ نماز کا وقت ہونے پر گشت لگالیا کرے۔چنانچہ اس رائے کو قبول کرلیا گیااورہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اعلان کرنے والا مقرر کردیا گیا۔
انہی دنوں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا۔ انہوں نے ایک شخص کو دیکھاکہ اس کے جسم پر دو سبز کپڑے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس (بگْل) تھا۔ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا " کیا تْم یہ ناقوس فروخت کرتے ہو "۔…اس نے پوچھا "تم اس کا کیا کروگے "۔میں نے کہا : "ہم اس کو بجا کر نمازیوں کو جمع کریں گے " ۔اس پر وہ بولا :" کیا میں تمہیں اس کے لیے اس سے بہتر طریقہ نہ بتادوں " ۔میں نے کہا: " ضرور بتائیے" … اب اس نے کہا… تم یہ الفاظ پکار کر لوگوں کو جمع کیا کرو " ۔اور اس نے اذان کے الفاظ دہرادیے ۔یعنی پوری اذان پڑھ کر انھیں سنادی۔ پھر تکبیر کہنے کا طریقہ بھی بتادیا ۔صبح ہوئی تو حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ ؐکی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا یہ خواب سْنایا …خواب سن کر آپ ؐنے ارشاد فرمایا :" بے شک ! یہ سچا خواب ہے ان شاء اللہ! تم جاکر یہ کلمات بلال کو سکھادو تاکہ وہ ان کے ذریعے اذان دیں۔ ان کی آواز تم سے بلند ہے اور زیادہ دل کش بھی ہے "۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔انھوں نے کلمات سیکھنے پر صبح کی اذان دی… اس طرح سب سے پہلے اذان فجر کی نماز کے لیے دی گئی۔
رابطہ۔ پاندریٹھن سرینگر، حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی
فون نمبر۔ 9205000010