تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    25 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

موسم سرما میں سردی کی شدت سے بچائو کا اہتمام 

سجدے میں ماتھے کے بجائے ٹوپی زمین سے لگے تو کوئی کراہت نہیں

سوال  : سردیوں کے موسم میں لوگ گرم ٹوپیاں پہننے کیلئے مجبور ہوتے ہیں ،ان گرم ٹوپیوں کو پہن کر نماز یںپڑھی جاتی ہیں۔یہ گرم ٹوپیاں کبھی پیشانی پر بھی ہوتی ہیں اور اُسی طرح سجدہ بھی کیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں پیشانی زمین پر نہیں ہوتی۔سجدہ ٹوپیوں پر ہوتا ہے۔ ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب نمازی اپنا سَر زمین پر رکھتا ہے توپیشانی کے بجائے زمین پر ٹوپی ٹک جاتی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ اس سے نماز میں کوئی کراہت تو نہیں آتی ۔آج کل اس مسئلہ کی شدت سے ضرورت ہے اور بعض جگہ اس پر بحث و گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے۔
عبدالعزیز لون۔گریز 
جواب  : سَر پر اس طرح ٹوپی ہو کہ نمازی کی پیشانی بھی اس میں ڈھک چکی ہو اور اسی طرح نماز پڑھی جائے اور زمین پر پیشانی نہیں بلکہ ٹوپی چھونے لگے تو اس سے نماز میں کوئی کراہت نہیں ہوتی۔ایسی ضرورت عموماً تین صورتوں میں پیش آتی ہے۔سجدہ کرنے کی جگہ سخت سرد ہو اور پیشانی کو اُس پر ٹیکنا سخت مشکل ہو ،جیسے یہاں پہاڑی مقامات پر لوگ زمینوں ،ندی نالوں ،پہاڑی چٹانوں پر نمازیں پڑھتے ہیں تو وہ چٹانیں سخت ٹھنڈی ہوتی ہیں ۔دوسرے سخت گرم علاقوں میں سجدہ گاہ سخت گرم ہوتی ہے، خصوصاً جب مسجد کے نیچے ماربل یا دوسرے پتھر ہوں ،جیسے مغل دور کی بے شمار بڑی مساجد مثلاً جامع مسجد دہلی ،تاج المساجد بھوپال ،شاہی مسجد لاہور ،کہ اُن میں فرش سنگِ سرخ کا ہے۔یہ گرمیوں میں سخت گرم ہوتا ،اس پر سجدہ کرنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ اسی طرح ریگستانوں میں گرم ریت پر نماز پڑھتے ہوئے گرم ریت پر سجدہ کرنا ایسا ہوتا ہے جیسے چنگاریوں پر سر رکھ دیا ہو۔تیسرے جب موسم سخت سرد بلکہ منفی درجہ حرارت ہو اور پیشانی کھُلی رکھنے پر سر درد یا زکام کا خدشہ ہو ۔ایسی حالت میں پیشانی پر ٹوپی رکھ کر نماز پڑھنی پڑتی ہے ،اس سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی۔حضرات صحابہ  ؓ تو گرم زمین پر سجدہ کرتے ہوئے اپنی آستیں پیشانی کے نیچے رکھ لیتے تھے تاکہ پیشانی کو گرمی کی شدت سے بچائیں۔اسی طرح یہاں کشمیر میں سردی کی شدت سے پیشانی ڈھکنے کی جس کو ضرورت ہو وہ اگر ٹوپی پیشانی پر رکھے تو کوئی کراہت نہ ہوگی۔فقہ حنفی کی معروف کتاب مراقی الفلاح میں یہ مسئلہ اسی طرح ہے تاہم مساجد میں عموماً فرش گرم ہوتا ہے ،کارپٹ کی صفیں ہوتی ہیں نہ کہ ٹھنڈی چٹائیاں یا خالص ماربل ،اس لئے پیشانی ڈھکنے کی ضرورت نہیں ہے۔
کشمیر کا مروجہ حمام اور اسکی معنوی توضیح

مساجد میں بنے صوفہ پر نماز پڑھنا درست

سوال  : موسم سرما میں سردی سے بچنے اور گرم پانی کی فراہمی کے لئے کشمیر کی اکثر مساجد میں حمام ہوتا ہے اور بعض گھروں میں بھی۔اب کبھی اُن حماموں میں نماز پڑھنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن کچھ حضرات حمام میں نماز پڑھنے پر خدشات کا اظہار کرتے ہیں ۔اُن کا کہنا ہوتا ہے کہ حدیث میں حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہے ۔اس لئے اس میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا حمام میں نماز پڑھنے کی ممانعت احادیث سے ثابت ہے اور کیا نیچے آگ ہونے کی وجہ سے حمام میں نماز ادا کرنے میں کوئی کراہت یا ممانعت ہے ،ان دونوں سوالوں کے جواب میں صریح اور صاف تحریر فرمائیں کہ حمام کے فرش پر نماز پڑھی جائے یا نہیں؟۔
محمد امین ۔باغِ مہتاب سرینگر 
 
جواب  :کشمیر میں مساجد یا گھروں میں جو حمام ہوتے ہیں ،اُن کے متعلق یہ بات طے ہے کہ یہ وہ حمام ہرگز نہیں ہیں جن کے متعلق احادیث میں نماز کی ممانعت وارد ہوئی ہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پوری روئے زمین مسجد ہے مگر سات جگہیں ایسی ہیں کہ اُن جگہوں میں نماز نہ پڑھی جائے ۔اُن سات جگہوں میں سے ایک جگہ حمام بھی ہے۔یہ حدیث ترمذی میں ہے ۔اس حدیث میں جس حمام کا تذکرہ ہے وہ گرم پانی سے غسل کرنے کا ایک ایسا کمرہ ہوتا ہے جس میں کئی کئی آدمی بیک وقت غسل کیا کرتے تھے ۔یہاں کشمیر میں بھی پہلے اس طرح کے حمام ہوا کرتے تھے ،جن کو ’نائید حمام‘ کہتے تھے۔
آج کل مسجدوں میں جو حمام ہوا کرتے ہیں وہ در حقیقت صوفہ ہوتے ہیں جو صفہ کی تبدیل شدہ لفظی شکل ہے ،اس صوفہ پر نماز نہ پڑھنے کے متعلق وہ حدیث ہرگز نہیں ۔اس لئے کہ یہ صوفہ اُس کا مصداق ہے ہی نہیں۔اس صوفہ پر نہانے والے افراد برہنہ ہوکر نہیں بیٹھتے ،جبکہ اُس نہانے والے حمام میں لوگ کبھی گرم پانی کے ٹب میں اور کبھی گرم پتھروں پر کافی دیر بیٹھا کرتے ہیں،جو در حقیقت ایک قسم کا علاج تھا ۔چنانچہ اطباء بھی مریضوں کو حمام کرنے کی ہدایت دیا کرتے تھے تاکہ جوڑوں اور اعصابی بیماریوں کا علاج ہوسکے۔جبکہ آج کے حمام میں یہ سب نہیں ہوتا ۔
رہا یہ کہنا کہ آج کل کے حمام میں نیچے آگ اور اوپر پتھر ہوتے ہیں ،اس لئے ان پر نماز پڑھنا نادرست یا مکرہ ہے تو یہ بھی کوئی ایسی وجہ نہیں جو شریعت کی بیان کردہ ہو۔یہ صرف عوام میں پھیلی ہوئی ایک غلط رائے ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ سخت سردیوں میں خواتین اور معمر حضرات گھروں میں بنے ہوئے ان حماموں میں بڑی بشاشت اور آرام سے نمازیں پڑھتے ہیں اور یہ بلا شبہ درست ہے۔اسی طرح جمعہ کی نمازوں میںجب مسجد بھر جاتی ہے تو بہت سارے لوگ حمام میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔اُن کی نماز ِ جمعہ کو غلط یا مکروہ قرار نہیں دیا جاسکتا ،نہ ہی کوئی شرعی وجہ ممانعت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیوٹی کی وجہ سے نماز جمعہ چھوٹنے کا مسئلہ

س:-عرض یوں ہے کہ ہم محکمہ تعلیم کے اساتذہ مختلف مدارس میں کام کرتے ہیں اور ہمارے اوقات کار صبح نو بجے سے دن کے دو بجے تک ہیں۔اس میں کسی قسم کا وقفہ نہیں رکھاگیا ہے ۔ جس سے ہماری اکثر ظہر نمازیں متاثر ہوتی ہیں اور خاص کر جمعتہ المبارک کی نماز عام طور سے جامع مسجد کی دوری کی وجہ سے چھوٹ جاتیہے۔اگر کوئی استاد صاحب نماز کے لئے بھی جاتاہے تو اس کو افسروں کے آنے کا ڈر رہتا ہے،جس کی وجہ سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھتا بھی ہے تو اس کی نماز کی  روح قائم نہیں رہتی۔
اب آپ سے گذارش ہے کہ ایسے استاد کے لئے کیا حکم (شرعی )ہے ؟ جوجمعہ جامع مسجد کی دوری کی وجہ سے ادا نہیں کرپاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی گذارش ہے کہ اس شرعی مسئلے کو متعلقہ حکام تک پہنچایا جائے تاکہ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لئے کسی کو یہ فرضِ عین ادا کرنے سے روکا نہ جائے ۔
چند اساتذہ
ج:- ملازم کوڈیوٹی کے اوقات میں جیسے کھانے پینے اور شرعی ضروریات پورا کرنے کا حق ہے اور یہ ایسا حق ہے جس سے انکار ممکن نہیں تو دورانِ ڈیوٹی ضرورت کی بات چیت ، مزاج پرسی، کھانا پینا اور حوائج بشریت پوراکرنا جیسے درست ہے۔ ایسے ہی نماز پڑھانا بھی درست ہے ۔ وہ طبعی ضرورت ہے یہ شرعی ضرورت ہے ۔جس جگہ ڈیوٹی ہواگر اسی گائوں میں نماز جمعہ ادا ہوتی ہوتو نماز جمعہ کی ادائیگی لازم ہے ۔ البتہ صرف اتنا وقت اس نماز میں خرچ کرنے کی اجازت ہے جس میں وہ سنتیں بھی پڑھ سکے ۔ خطبہ جمعہ سن سکے اور فرض وسنت اداکرکے واپس اپنی ڈیوٹی کے مقام پر پہنچ جائے اور طلبہ کو بھی اسی کی تلقین کی جائے ۔اگراُس گائوں میں جمعہ ادا نہ ہوتا ہو تو ہفتہ کے دوسرے ایام کی طرح جمعہ کے دن نماز ظہر ادا کی جائے گی اور اس نماز کی ادائیگی ایک بجے سے دو بجے تک ہوسکتی ہے او ریہ وقت عموماً وفقہ تعلیم کا ہوتاہے۔اسی صورت پر کوئی نقصا ن بھی نہ ہوگا اور کسی کو اعتراض کا حق بھی نہ ہوگا ۔

حلال جانور کے ممنوع اجزاء

س:- حلال جانور کے وہ اجزاء کیا ہیں جن کا کھانا جائز نہیں ؟قرآن وحدیث سے اس کا جواب تحریر فرمائیں ۔
بشیر احمد میر ، سرینگر
ج:- حلال جانور کی سات چیزیں ممنوع ہیں۔ ان سات چیزوں میں سے ایک چیز حرام ہے اور بقیہ چھ چیز مکرو ہ تحریمی (حرام کے قریب) ہیں ۔ و ہ یہ ہیں ، خون (یہ حرام ہے )، نرجانور کا عضو تناسل ،مادہ جانور کا عضو تناسل، نر جانور کے فوطے ، پیشاب کی تھیلی ، پتّہ ، غدّہ،غدّہ کے معنی گوشت کی وہ گٹھلی جو عموماً جانور کی کھال کے نیچے ہوتی ہے اور کتنا ہی پکایا جائے وہ جوں کی توں رہتی ہے ۔ 
ان سات چیزوں میں سے خون کی حرمت قرآن کریم سے ثابت ہے اور بقیہ چھ چیزوںکی ممانعت حدیث سے ثابت ہے ۔ یہ حدیث بیہقی ، طبرانی میں موجود ہے ۔