تازہ ترین

اسلام میں تعدد ازدواج کی اہمیت

اصلاح معاشرہ

تاریخ    24 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


آفتاب اظہرؔ صدیقی
جس معاشرے میں تعدد ازدواج کو معیوب سمجھا جاتا ہو وہ کوئی اور معاشرہ ہو تو ہو اسلامی معاشرہ ہرگز نہیںہوسکتا، اسلام نے انسانی فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہی شریعت کو اس پر نافذ کیا ہے، انسان فطری طور پر ایک بیوی پر اکتفا نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک ہی بیوی ضروری سمجھی جاتی ہے وہاں کے مرد چھپے راستے ایک سے زائد ناجائز تعلقات بنائے رکھتے ہیں۔ ایک سے زائد شادی آدمی کی ضرورت بھی ہے، اس لیے کہ شادی شدہ زندگی میں بھی ایسے بہت سے مواقع پیش آتے ہیں؛ جب مرد کے لیے اس کی ایک بیوی کافی نہیں ہوتی۔ مثلاً جب بیوی حمل سے ہو اور تولد کا وقت قریب ہو تو چند مہینوں تک مرد کو ہمبستری سے روکا جاتاہے، اب وہ اپنی فطری خواہش اور جسمانی ضرورت کی تکمیل کہاں سے کرے گا؟ ہر عورت کو مہینے میں ایک بار ماہواری کا تقاضا رہتا ہے، جس کی مدت تین دن سے دس روز تک بھی ہوسکتی ہے، اس دوران مرد اپنی مردانہ خواہش کیسے پوری کرے گا؟ بچہ پیدا ہونے کے بعد چالیس دن تک عورت ناپاک رہتی ہے اور سائنس کے ڈاکٹروں کا بھی یہی ماننا ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد ڈیڑھ دو مہینے تک عورت سے مجامعت نہ کی جائے تو ایسے میں آدمی کہاں جائے گا؟ مرد کو لمبے سفر پر جانا ہواور اس کی بیوی اس کے ساتھ جانے کی حالت میں نہ ہو تو وہ اپنے سفر میں جنسی پیاس کیسے بجھائے گا؟ اسی طرح بہت سی جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ عورت جلدی بوڑھی ہوجاتی ہے اور اس کا شوہر جوان ہی نظر آتا ہے، ایسے میں وہ مرد پریشان رہتا ہے اور ادھر ادھر منھ مارتا پھرتا ہے۔یہ وہ عقلی تقاضے ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے ایک بیوی کافی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ گناہوں کی طرف مائل ہوتے ہیں اور ناجائز طریقے سے اپنی اس ضرورت کی تکمیل کرتے ہیں۔ اسلام نے انسان کی اس ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے مرد کو چار شادیوں تک کی اجازت دی ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟ جبکہ اس کے علاوہ بھی معاشرے کی بہت سی ضروریات ہیں جن کے پیش نظر آدمی کو ایک شادی پر اکتفا کرنا درست نہیں ہے۔ اوپر تو مرد کے تقاضوں کی بات کی گئی ہے، اب اگر آپ صنف نازک کی لاچارگی، بے بسی اور جنسی تقاضوں پر غور کریں تو آپ کو دوسری شادی عورت پر ظلم نہیں؛ بلکہ یہ عمل اس پر ایک احسانِ عظیم معلوم ہوگا۔ گھر بڑا ہے، بچے زیادہ ہیں، کام بہت ہے ، ایسے میں ایک بیوی کے لیے سارا گھر سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے، مجبوراً گھر میں نوکرانی رکھنی پڑتی ہے ، پھر مرد کی نیت نوکرانی پر پھسلتی ہے اور گھر میں فتنہ و فساد شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں آپ غور کیجیے کہ مرد اگر دوسری شادی کرلے تو نہ کسی کو کسی کے گھر میں نوکرانی بننے کی نوبت آئے گی اور نہ کسی ایک عورت پر سارے گھر کا بوجھ ہوگا؛ اس لیے کہ جو عورت کسی کے گھر میں نوکرانی بن کر کام کر رہی ہے ، وہ یا تو کوئی بیوہ ہے یا نہایت غریب لڑکی جس کے اولیاء کے پاس اس کی شادی کے لیے خرچ نہیں ہے، ایسے میں کتنا اچھا ہو کہ مالدار آدمی اسے اپنی دوسری زوجہ بناکر رکھے اور سماج کو نوکرانی کے تصور سے آزاد کرے، معاشرے کو بیواؤں کی آہ سے نجات دلائے۔ آپ خود اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں گے تو اپنی بستی میں ہی ایک یا کئی بیوہ بے قراری و مصیبت کی زندگی گزارنے پر مجبور مل جائیں گی، یہ وہ خواتین ہوتی ہیں کہ معاشرے میں کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا، اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں، عورت اگر پاکدامن ہے تو مزدوری کرکے اپنا گزارہ کرتی ہے ورنہ سماج کی نگاہوں سے اوجھل ہوکر بدکاری کی زندگی شروع کردیتی ہے۔ اسی طرح کتنے ہی غریب گھرانوں میں ادھیڑ عمر کی لڑکیاں بغیر شادی کے بیٹھی ہوئی ہیں، ان کی شادی اس لیے نہیں ہوپاتی کہ ان کے ماں باپ کے پاس لڑکے والوں کے مطالبات پوار کرنے کا انتظام نہیں ہوتا، اگر ایسی بیوہ اور بن شادی کے بیٹھی ہوئی لڑکیوں کی کفالت اور سماج کو گناہوں سے بچانے کے لیے دوسری شادی کو فروغ دیا جائے تو یہ ایک بڑی نیکی کا کام ہے۔ اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ شادیاں کیں اور ان میں صرف ایک ہی بیوی ’’ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا‘‘ ہی کنواری تھیں، ان کے علاوہ تمام ازواج مطہرات بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ رسولِ آخریﷺ نے ان مطلقہ اور بیوہ خواتین سے نکاح فرماکر امت کو یہ پیغام دے دیا کہ معاشرے کو لے کر چلنا سیکھو، بیواؤں کے درد کا مداوا کرو، مطلقہ عورتوں کو تنہا مت چھوڑو، نیز اس میں دیگر بہت سی مصلحتیں شامل ہیں۔ 
دنیا کے بہت سے دانشور حکمرانوں نے چاہا کہ اپنے ملک میں ایک شادی کولازمی قرار دیا جائے؛ لہذا انہوں نے تعدد ازدواج کو اپنے ماتحتوں کے لیے جرم ٹھہرایا اور ایک سے زائد شادیوں پر سزائیں مقرر کیں؛ لیکن کچھ ہی سال بعد ان کے اس قانون کے خطرناک نتائج انہیں بھگتنے پڑے اور وہ اپنے بنائے ہوئے اصول سے روگردانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ 
محمود عالم صدیقی نے اسی موضوع پر اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ’’تعدد ازدواج Polygamyاسلام کے ان مسائل میں سے ہے جسے اہل مغرب نے سب سے زیادہ ہدف وتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے اسلام کو مردوں کی اجارہ داری (Monopoly)اور عورتوں کے تئیں ظلم وزیادتی والا مذہب قرار دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں اہل یورپ کے ان الزامات کو بڑھاوا دینے میں ہمارے وہ علماء حضرات بھی سرفہرست ہیں جو تعدد ازدواج کے بلا شرط قائل ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے تعدد ازدواج کی اجازت عدل ومساوات کی شرط پردی ہے۔ اسلام سے قبل تعدد ازدواج کا چلن عرب میں اغنیاء  ورؤساء کے مابین موجود تھا۔‘‘
ان کے اس جملے پر کہ علماء نے بلاشرط تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے، یقین کرنا مشکل ہے؛ اس لیے کہ علماء وہی مسائل بتاتے ہیں جو شریعت کی رو سے درست ہوتاہے؛ لہذا جو شرائط ایک شادی کے لیے لازمی ہیں کہ بیوی کو نان و نفقہ اور سکنیٰ دیا جائے، ٹھیک ان ہی شرائط کے ساتھ دوسری شادی بھی جائز اور درست ہے؛ ہاں اگر ایک سے زائد شادیوں کے بعد کوئی اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کرتا اور کسی ایک کی حق تلفی کرتا ہے تو وہ اپنے عمل کا گناہ پائے گا، لہذا کسی کو اگر شروع میں ہی اندازہ ہو کہ وہ دو بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر پائے گا، یعنی دونوں کا خرچ نہیں اٹھا پائے گا تو اسے ایک پر ہی اکتفا کرنا چاہیے، یہی قرآن کا حکم ہے۔ 
لیکن انصاف نہ کرنے اور عدم مساوات کے حیلوں کے ساتھ صنف نازک کے حقوق پر کھانے اور کمانے والی تنظیموں کاتعدد ازدواج کو انسانوں کے لیے ممنوع قرار دینا بالکل غلط ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ تعدد ازدواج کے بغیر ہمارا معاشرہ ادھورا ہے، ہمارا سماج نامکمل ہے اور ہماری ضرورتیں ناکافی ہیں، اصلاحِ معاشرہ کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی اگر معاشرہ سے زناکاری کی برائی کو ختم کرنا ہے تو ایک سے زائد شادیوں کو فروغ دینا ہی ہوگا، اس کے بغیر معاشرہ اس بدکاری سے نہیں نکل سکتا۔ 
قرآن نے صاف صاف انسانوں کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ’’ جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو، اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو یا جو لونڈی تمہارے ملِک میں ہو وہی سہی، یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے۔
اصلاح معاشرہ کی تما م تنظیموں کو چاہیے کہ اپنے معاشرے میں تعدد ازدواج کو فروغ دیں اور خاص کر باحیثیت لوگوں کو ایک سے زائد شادیوں کی ترغیب دیں، بیوہ اور بے سہارا لڑکیوں کو سہرا دینے کی کوشش کریں، اس کے بغیر معاشرہ خوش حال اور صالح نہیں بن سکتا، مقررین، واعظین اور ائمۂ مساجد کو چاہیے کہ تعدد ازدواج پر تقریر کریں، عوام کو ترغیب دیں اور معاشرے پر احسان کریں۔