تازہ ترین

لڑکیاں اپنا تحفظ خود کرلیں گی

صنفِ نازک

تاریخ    24 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


ابو بکر
ہاں صاحب،لڑکیاں اپنا تحفظ ازخود کرلیں گی،آپ یقین جانیں۔مزید اس ضمن میں یہ بات ہمیں گانٹھ باندھ لینی چاہیے کہ جس قدرخوب صورتی کے ساتھ اپنا تحفظ وہ خود کرلیں گی،دوسرا بھلا کیا کرے گا۔ ’’اپنی حفاظت اپنے ہاتھ‘‘والا محاورہ توغالبا ہم سب نے سنا ہی ہے،توجناب عالی سات ادب کے ساتھ یہ بات بھی گوش گزار لیجئے کہ یہ محاورے محض محاورے نہیں ہوتے ۔
واقعہ دراصل یہ ہے کہ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے ذہنوں کو صاف کرلینا چاہئے۔ یعنی اس طرح کی باتیں نکال دینی چاہئں کہ’’ بھئی لڑکیاں توکمزورہوتی ہی‘‘۔واضح رہے کمزوری کا تعلق بظاہرجسم سے ہے ،لیکن عقل و خرد رکھنے والے خوب جانتے ہیں’ کمزوری کا تعلق درحقیقت عدم خود اعتمادی سے ہے،قوت فیصلہ اور قوت ارادہ کی محرومی سے ہے۔فہم و فراست کے فقدان سے ہے،ایک بات۔دوسری بات یہ کہ ہمیں اپنے بچوں پریقین کرنا چاہئے،خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی۔اس کے ساتھ ہی اس بات کا انہیں احساس بھی دلا ئیں کہ وہ ان پر یقین کرتے ہیں۔اس سے یہ ہوگا کہ ان کے اندرخوداعتمادی اور احساسِ ذمہ داری بحال ہوگی،نیزوالدین اور گھر کے بڑے بوڑھوں کے تئیں ان کے اندرایمانداری کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔
تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ یہ سوچنا سمجھنا ترک کردیجئے کہ ’’لڑکیاں غیرمحفوظ ہیں‘‘۔جان لیجئے کہ جس طرح لڑکے محفوظ ہیں،عین اسی طرح لڑکیاں بھی محفوظ ومامون ہیں۔ایک ذرا آپ اپنے آپ کو وسوسوں ا ور بے جا شکوک و شبہات سے محفوظ فرمالیجئے۔بھئی ظاہر ہے کہ وہ کسی جنگل ،بیابان یا کسی ’برموڈا ٹرائنگل‘ میں تو رہ نہیں رہی ہیں کہ انہیں کوئی آدم خورمخلوق کھا جائے گی یا کوئی غیرمرئی شئی ان کواچانک اُچک لے جائے گی۔بھئی جب ہمارے لڑکے محفوظ ہیں توہماری لڑکیاں بھی محفوظ ہیں ۔
اچھا جی مان لیجئے کہ ذہن مذکورہ بات نکالنے پرکسی طورسے آمادہ نہیں ہے تو اس سوال کا جواب بھی آپ کے ذہن کو ہی دینا ہوگا کہ ’’جس معاشرے میں لرکے محفوظ ہیں ۔وہ جہاں چاہیں یا جب چاہیں سر اٹھا کر آجا سکتے ہیں تو بھئی اسی معاشرے میں لڑکیاں کیوں کرمحفوظ نہیں ہیں؟ بھلا وہ کیوں کر کہیں آجا نہیں سکتی ہیں ‘‘؟آخروہ کون لوگ ہیں،یا وہ وجوہات کیا ہیں جن سے لڑکیوں کوخطرہ لاحق ہے؟ ایسے سماج دشمن اوربیمارعناصرکی بہرصورت شناخت کی جانی چاہئے جن سے واقعی لڑکیوں کوخطرہ ہے۔خطرے کا بروقت ادراک کرکے اس کا تدارک کیا جانا چاہئے۔ خطروں کو تحفظ فراہم کرنا کسی طور سے بھی مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ صحت مند عمل ہے۔
کتنی عجیب سی بات ہے کہ جن سے خطرہ ہے ان کی خیرخبر لینے کے بجائے انہی کو اندرخانہ کیا جا رہا ہے جن کوخطرہ لاحق ہے۔بھئی اگرآبادی میں کوئی درندہ گھس آئے تو دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ مناسب اقدامات کرکے درندے کی پکڑدھکڑکی جائے اور دور درازکسی جنگل میں اسے چھوڑا جائے۔ایسے معاملے میں عام طورسے یہی کیا جاتا ہے،نہ کہ لوگوں کوگھروں یا کسی محفوظ جگہوں پر بند کردیا جاتا ہے!لیکن عورتوں، لڑکیوں کے بارے میں ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔الٹا انہیں ہی اندرکردیا جاتا ہے اورمہلک عناصرکو کھلا ننگا چھوڑ دیا جاتا ہے۔’’الٹا چور کوتوال کوڈانٹے۔‘‘
کہا جاتا ہے کسی دور دراز ملک میں بادشاہ ِوقت نے ایک روز اپنے وزرا سے دریافت کیا: ''بتائیے غریبی کو کیسے ختم کیا جائے؟ ‘‘
دربارمیں موجود کم و بیش سبھی وزرا ومصاحب نے مشورے پیش کیے۔انہی مشوروں میں ایک مشورہ یہ بھی تھا کہ’’غریبی کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ غریبوں کو ہی سرے سے ختم کردیا جائے‘‘۔ جان کار بتاتے ہیں کہ بادشاہ سلامت نے ایسا ہی کیا۔یہاں بھی کم و بیش ایسا ہی معاملہ ہے۔ان سماج دشمن عناصر کے نتھنے میں نکیل ڈالنے کے بجائے عورتوں کی نکیر کس کر انہیں ہی چہار دیواری کے پیچھے ڈھکیل دیا جاتا ہے۔’’اندھیرنگری چوپٹ راج!‘‘
حالاں کہ غیرمعاشرتی عناصرین جو معاشرے کے لیے ناسورہیں، ان سے نمٹنے کا کام حکومت اور انتظامیہ کا ہے،لیکن چوں کہ حکومت اور انتظامیہ کے کانوں پرتھوڑی دیر کے لیے جوں اس وقت تورینگتی ہے جب کوئی ناگفتہ بہ حادثہ پیش آجاتا ہے۔اب ایسے میں کیا کیا جائے بھلا۔ایسے حالات میں حکومت یا انتظامیہ پرسب کچھ توچھوڑا نہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی’ ہاتھ پرہاتھ دھرے ‘بیٹھا جاسکتا ہے۔اس لیے ایسے موقع پردو کام کیے جا سکتے ہیں۔پہلا کام تو یہ کرنا چاہئے کہ اپنے بچوں کو ایک دوسرے کا احترام اورایک دوسرے کی عزت کرنا سکھایا جائے۔ہندوستان جیسے کثیر قومی، کثیرلسانی اورکثیرمذہبی و معاشرتی ملک میں اپنی اپنی انفرادیت کو ملحوض رکھتے ہوئے اجتماعی طورپررہنے کا سلیقہ سکھایا جائے۔چھوٹے اوربڑے کے درمیان تمیزسکھائی جائے۔معاشرے کا توازن برقرار رکھنے میں عورت اورمرد کی معنویت و اہمیت بتائی جائے۔ انسانیت اورانسانی حقوق سے متعلق بنیادی باتیں بتائی جائیں۔اس ضمن میں اخلاقی اوراصلاحی کہانیوں کا بھی سہارا لیا جا سکتا ہے۔اچھا جی اسی ضمن میں یہ بھی سنتے جائیے کہ ہمارے بڑے بوڑھوں کو اپنے گھرمیں ’اپنے بچوں کے درمیان یکساں اورمبنی برانصاف‘ معاملہ کرنا چاہئے۔''بیٹا گھرخان دان کا چراغ ہوتا ہے'' اور''بیٹی پرائی دولت ہوتی ہے''،جیسے نامعقول و نا ہنجار جملوں کو اپنے ذہنوں سے نکال پھینکتے چلئے۔
اچھا جی دوسری بات جس کا خیال رکھنا ہے وہ یہ کہ بچوں کوبچپن سے ہی ’خود حفاظتی طریقے‘ سکھائے جائیں۔انہیں ان تمام اقدامات سے واقف کرایا جائے جن کے استعمال سے وقت ضرورت وہ اپنا دفاع ازخودکرسکیں۔برے حالات میں سب سے پہلے خود پر قابو رکھنے اور بروقت فیصلہ لینے کے طریقوں سے روشناس کرایا جائے۔محلے یا آس پاس اگر’سیلف ڈفینس‘ کے ادارے قائم ہوں تو اپنے بچوں کی تربیت کے لیے انہیں وہاں بھیجاجائے۔اچھا یہاں تھوڑاساٹھہریں، اورغورسے سنیں۔اپنی بیٹیوں کوسیلف ڈیفینس یا خودکارحفاظتی اقدامات سے ضرور بالضرورآراستہ کریں۔ انہیں خودمختاربنائیں۔ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ خوکفیل ہوجائیں۔اس کے فائدے ناگہانی حالات میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔یہاں نقطہ یہ ہے کہ ایسا کیا جاسکتا ہے،کیوں کہ اس آدھی ادھوری مگرامکانات سے بھری دنیا میں کچھ بھی ناممکن ہے ہے۔
مضمون کی اختتامی سطروں میں اس بات کا اعادہ کردیا جائے کہ ’’لڑکیاں اپنا تحفظ بہترطورپرازخودکرسکتی ہیں‘‘۔’آپ اپنا دفاع سب سے بہتر دفاع ہے۔‘ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں بہتر سے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ان پربھروسہ کیا جائے۔اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ لڑکیوں،عورتوں کے تعلق سے ہمارے ذہنوں میں جو بے بنیاد اورغیرمنطقی خیالات بھرے ہوئے ہیں، ان کونکال باہرکیا جائے۔
رابطہ۔abubakr.awadh@gmail.com/9560877701