تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    13 دسمبر 2020 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
 
 
غزل 
فکرِ امروز نہ فردا مجھ کو
ہے ستائے غمِ طیبہ مجھ کو
یاد ماضی جو کبھی کرتا ہوں
یاد آتا ہے مدینہ مجھ کو
میری باتوں میں کشش پیدا کر
ایک اسلوب دے مولا مجھ کو
صرف اعزاز یہی کافی ہے
لوگ سمجھیں ترا شیدا مجھ کو
علم سارے مجھے ازبر ہوجائیں
میں پڑھوں اور تو سمجھا مجھ کو
ضبط کی تاب نہ لاپاؤں گا
زخم دے اتنا نہ گہرا مجھ کو
اپنی رحمت سے عطا کر یارب
بات کرنے کا سلیقہ مجھ کو
چاند تاروں کی رفاقت دے دے
بارشِ نور میں نہلا مجھ کو
چاہیے مجھ کو سفینہ تیرا
تاکہ مل جائے کنارا مجھ کو
میری آنکھیں بھی منور ہوجائیں
بخش دے خواب سنہرا مجھ کو
شمسؔ ہوں میں یہی رہنے دے مجھے 
کیا بنائے گا ستارا مجھ کو
 
ڈاکٹر شمس کمال انجم
صدر شعبۂ عربی اردواسلامک اسٹڈیز بابا غلام شاہ بادشاہ یوینورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛9086180380
 
یہ اونچے محل ؟
دِکھانے کو تو مُسکراتے ہیں لوگ
دردِ جگر پر چُھپاتے ہیں لوگ
حقیقت میں دل کوئی روتا نہیں ہے
مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں لوگ
انسان تو کیا، یہاں اُنگلیوں پر
شیطان کو بھی نچاتے ہیں لوگ
مانا نہیں دُم چھلے ہیں کسی کے
مگر ہاں میں ہاں بھی ملاتے ہیں لوگ
حق بات کہنے کی خاطر ہمیشہ
تالا زبان پر چڑھاتے ہیں لوگ
پانی رواں ہو نہ ہو، غم نہیں ہے
یہاں خون میں اب نہاتے ہیں لوگ
جو توڑ لائے تھے تارے فلک سے
کبھی یاد ایسے بھی آتے ہیں لوگ
دو گز زمین بھی ملے کیا پتہ ہے
یہ اُونچے محل کیوں بناتے ہیں لوگ
اُدھار میں لائے تھے جو غُلامی
قرضہ اُن ہی کا چکاتے ہیں لوگ
 
اے مجید وانی
احمد نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛9697334305
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
غــزلیـــــات
 
بنا درد زخم اب سزا ہوگئے ہیں
وہ آزمانے والے خفا ہو گئے ہیں
لُوٹا سرِ عام کیا رہزنوں نے
یوں راہِ وفا میں گدا ہو گئے ہیں
جفا کرنے والے سلامت رہیں گے
وفا کے ستمگر فنا ہو گئے ہیں
مری آنکھ میں جو اُمڈتے ہیں آنسو
مجھے ہمدموں سے عطا ہو گئے ہیں
رہوں ہوش میں کیا اے جانِ تمنا
یہاں بے سبب اشک خطا ہو گئے ہیں
تھی جن کی طلب مجھکو مدت سے عاجزؔ
وہ لمحے تو سارے قضا ہو گئے ہیں
 
الف عاجز
کلسٹر یونیورسٹی سرینگر
موبائل نمبر؛9622697944
 
محبت پہ تمہاری اعتبار آئے
چلے آئوو ذرا دل کو قرار آئے
 
خزاں چھائی رہے گی کب تلک یاں
کبھی تو گلشنِِ دل میں بہار آئے
 
ملیں گے پھر نہ ہم خوابوں میں بھی شاید
جو ملنے کو نہیں تم اب کی بار آئے
 
گذر بیتی گلی سے جب ہوا میرا
اشک آنکھوں میں تب بے اختیار آئے
 
تمہاری جو ہے وہ جانو تم ہی صورتؔ
ہم اپنا دل تمہیں پہ وار آئے
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں،موبائل نمبر؛9622304549
 
 
 
 
وہ جب سے ہمارے نگر آگیا ہے
قیامت کا سب پہ پہر آگیا ہے
 
محبت تھی کیسی، لگن اُسکی کیا تھی
خلوص اُس کا سارا نظر آگیا ہے
 
ذرا بھر بھی مجھ میں نہیں حوصلہ تھا
مگر صبر اب سربہ سر آگیا ہے
 
اُجالے لئے من کا سورج یہ دیکھو
اندھیروں نے روکا، مگر آگیا ہے
 
چلاتے ہیں سینے پہ تیر، اپنا بن کر
زمانہ یہ کیسا سحرؔ آگیا ہے
 
ثمینہ سحر ؔ مرزا
بڈھون راجوری،
 
خوفِ کرونا
بال کٹائوں بھائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
کووِڑ سے میں ڑرتا ہوں
رہ رہ آہیں بھرتا ہوں
ماسک یوز میں کرتا ہوں
گویا اسُ بنِ مرتا ہوں
بھائی یا پرَجائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
صابون دان میں دکھِتی ہے
ہر سامان میں دکھِتی ہے
پورے مکان میں دکھِتی ہے
اس کی دوکان میں دکھِتی ہے
کووِڈ کی پرچھائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
کووڈِ خبریں پڑھنے دو
بڑھتے بال ہیں بڑھنے دو
دائیں بائیں چڑھنے دو
جوئوں کو جنگ لڑنے دو
چُپ کر بیٹھوں مائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
صبح صبح ’’ڈر‘‘ لے آئیں
منع کیا’’ پر‘‘ لے آئیں
منُڈوانے سر لے آئیں
نائی کو گھر لے آئیں
اکِ دم بھاگا تائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
ناک سے ناک مِلاتا ہے
سانسیں بھی ٹکراتا ہے
پاس بہت وہ آتا ہے
ہائے دل گھبراتا ہے
کیا جائوں ہرجائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
خوفِ ’’ کرونا‘‘ دل میں ہے
دل کا رونا دل میں ہے
کیا ہے ہونا ؟ دل میں ہے
دکُھ کا بِچھونا دل میں ہے
نا جائوں سودائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
گھر والوں نے جھکڑ لیا
مجھ کو ملِ کے پکڑ لیا
میں تھوڑا سا اکڑ لیا
پَر نائی نے دھکڑ لیا
گویا موت ہو آئی پاس 
میں نہیں جانا نائی پاس
 
 
 
 
 
 
 
نعت حبیب ﷺ
ہم جو سنّت میں ڈھلنے لگے ہیں
خود اندھیرے ہی جلنے لگے ہیں
بر زباں آتے ہی نام احمد
غم خوشی میں بدلنے لگے ہیں
فیض نعت حبیب خدا سے
جومصائب تھے ٹلنے لگے ہیں
سنگ دل گفتگوئے نبی سے
اپنی فطرت بدلنے لگے ہیں
اللہ اللہ وہ انگشت آقاﷺ
جن سے چشمے ابلنے لگے ہیں
حکم پاکر میرے مصطفٰے کا
پیڑ پودے بھی چلنے لگے ہیں
نام لیتے ہی مشکل کُشا کا
گرنے والے سنبھلنے لگے ہیں
صرف نام عمر سن کے ’’زاہد ‘‘
سارے کافر دہلنے لگے ہیں
 
محمد زاہد رضا بنارسی
دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج،بھدوہی
یوپی،بھارت
 
 
غزلیات
یہ کیا ہوا کہ شوخ طبیعت نہیں رہی
آنکھوں میںوہ حیاومُروّت نہیں رہی
نغمات میں ہے لطف نہ غزلوں میں وہ کشش
لگتا ہے شاعری میں حرارت نہیں رہی
اب دوستی کے نام پر پیہم فریب ہے
پہلی سی دوستی میں مُروّت نہیں رہی
کچھ ہم حصارِ وقت سے باہر نہ آسکے
کچھ آپ کو بھی اِن دنوں فرصت نہیں رہی 
ذہن ونظر پہ آج بھی چھائے ہوئے ہیں آپ
کیسے کہیں کہ آپ سے نسبت نہیں رہی
یا تو نصیحتوں کا زمانہ گذر گیا 
یا پھر نصیحتوں میں حقیقت نہیں رہی
آثمؔ برائیوں کا چلن اس لئے بڑھا
سچ بات منہ پہ کہنے کی جرأت نہیں رہی
 
بشیر آثمؔ
باغبان پورہ لعل بازارسرینگر
 موبائل نمبر؛9627860787
 
 
کس کا کیا رختِ سفر ہے، ہم سفر کو کیا خبر
کیوں لُٹا بستا نگر، ویران گھر کو کیا خبر 
جب مرا پیغامِ رُخصت ہنس کے اُس نے پڑھ لیا
دِل پہ کیا گزری ہمارے نامہ بر کو کیا خبر
پالتے ہیں ناز سے وہ مار و تمساح کو مگر
کیا ہے لطفِ شاہ بازی، بہر و بر کو کیا خبر
چارہ گر کہتا ہےچہرے سے عیاں ہے دردِ دِل
دردِ دِل میں کیا ہے پِنہاں، کم نظر کو کیا خبر
خوش ہوا صیّاد کی نظروں سے جب وہ بچ گیا
گھات میں ہیں مُنتظِر سب، جانور کو کیا خبر 
خوب تھی نوحہ گری میّت پہ جب وہ آ گئے
چھا گئی پھرخامشی کیوں، نوحہ گر کو کیا خبر
 جن کے نقشِ پا کا بوسہ روز لیتی تھی نسیم
ہیں کہاں وہ راہ رو اب، رہ گزر کو کیا خبر 
وہ ہمارے عزم سے واقف نہیں مضطرؔ ابھی
کوہکن کی تیشہ بازی، شیشہ گر کو کیا خبر
 
اعجاز الحق
قصبہ کشتواڑ،موبائل نمبر؛9419121571
 
 
 
روز و شب ہم نے  اشکباری کی
انتہا ہے یہ بے قراری کی
 
میرا دامن سیاہ تھا پھربھی
اے خدا تو نے پاسداری کی
 
جانے کب کا میں مرگیا ہوتا
ان کی یادوں نے آبیاری کی
 
کوستا ہی رہا مجھے ہر دم 
قدر کیا جانے وہ بھکاری کی
 
خاک ہوں خاک میں ہی ملنا ہے
بُو بھی آتی ہے خاکساری کی
 
کام میں نے کیا مصّورکا
میں نے شعروں میں دستکاری کی
 
میں تو مجنون بن گیا بسملؔ
مجھ پہ لوگوں نے سنگ باری کی
 
سید مرتضی بسملؔ
طالب علم؛ شعبہ اردو،
ساؤتھ کیمپس یونیورسٹی آف کشمیر
موبائل نمبر؛6005901367
 
 
ہوں میں گمنام لیکن نام کی حقدار میں ہی تھی 
 کہانی میں تری وہ مرکزی کردار میں ہی تھی
 
تمہارے ہاتھ سے چھوٹی تو تم بے سمت ہو بیٹھے
تمہاری زندگی کی ناو کی پتوار میں ہی تھی
 
وہ جس کے  واسطے میں لڑ گئی تھی ساری دنیا سے
 خود اس کے  سامنے مجبور اور لاچار میں ہی تھی
 
مرے دم سے ہر اک شئے قیمتی کہلائی اس گھر میں 
مگر اس گھر کے اندر چیز اک  بیکار میں ہی تھی
 
ملا ہے فیض کیا یوں ہی چراغوں کے اجالوں سے؟ 
 بلا کی آندھیوں سے بر سرِ پیکار میں ہی تھی
 
قبیلے کا عَلم بن جاتا تھا پہلے مرا آنچل
  کمر سے جھولتی غیرت کی وہ تلوار میں ہی تھی
 
یہ دنیا آج تک سمجھی نہیں خوشبوؔ مجھے شاید
بہت آسان ہو کر بھی بہت دشوار میں ہی تھی
 
خوشبو ؔپروین
ریسرچ اسکالر،یونی ورسٹی آف حیدرآباد