تازہ ترین

بُراآدمی

تاریخ    13 دسمبر 2020 (00 : 12 AM)   


نیوز ڈیسک
 ’’ ساجد اچھا لڑکا ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ اس کے لچھن یونیورسٹی میں معلوم کرو۔ کتنو ںکے ساتھ محبت کی پینگیں نہ بڑھائیں اور کس کس کو دھوکہ نہیں دیا ۔ کسی کے بھی جذبات سے کھیلنا اس کا مشغلہ ہے۔ یہ بندہ پیار کے اے بی سی سے بھی واقف نہیں ہے اور تم اسی شخص کی بات کر رہی ہو۔ بند کرو اس کی وکالت اور آئندہ کبھی بھی اس کی بات میرے سامنے مت کرنا۔ ‘‘
 ماہی بہت زیادہ غصے میں تھی اور وہ روشنی کو بات کرنے ہی نہیں دے رہی تھی۔ لیکن روشنی بھی اپنی بات پر ڈٹی تھی 
 ’’ دیکھ ماہی ۔ جتنا تم کہتی ہو۔ ساجد اتنا بُرا نہیں ہے۔ میں بھی توتھوڑا بہت جانتی ہوں اس کو۔ دیکھونا کتنا ہینڈسم ہے۔ مردانہ وجاہت سے بھرا چہرہ۔ ڈھنگ کے کپڑے پہننے کا سیلقہ رکھتا ہے ۔ اس کے ریشمی بال کتنے خوبصورت ہیں،  جن کے ساتھ ہوا ہمیشہ  چھیڑخوانی کر تی رہتی ہے۔ آنکھوں سے ذہانت ٹپکتی  رہتی ہے۔‘‘
’’ کتناتہذیب یافتہ ہے۔باتوںسے پھول جھڑتے رہتے ہیں۔‘‘ ماہی نے طنزیہ لقمہ دے دیا۔
 ’’ باتوں سے تو واقعی پھول جھڑتے ہیں ۔مانا کہ منہ پھٹ ہے۔ تھوڑا سا  مذاق بھی کرلیتا ہے لیکن بد اخلاق نہیں ہے۔ ارے پگلی  یہی تو ہے زندگی جینے کا فارمولا ۔‘‘ روشنی ماہی کو پیار سے سمجھا رہی تھی۔ ‘‘
 ’’ اب چپ بھی ہوجا ۔ میرے چاچا کا لڑکا ہے۔ ہم ایک ہی گھرمیں رہتے ہیں ۔  میں اس کو تم سے زیادہ جانتی ہوں ۔ وہ بھی بچپن سے‘‘
 ’’ اوووو اچھا اچھا ۔ یعنی تم بچپن سے اس کو فالو کر رہی ہو۔‘‘
 ’’ فالو کرے میرے جُوتی۔ تمہاری عقل گھاس چرنے گئی ہے کیا۔ میں اس کو فالو کیوں کرنے لگی۔ہم بچپن سے ساتھ رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی میں بھی میرا سینئر ہے۔ ہمارا روز کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ چاہئے گھر میں ، چاہے یونیورسٹی میں ۔ ‘‘
 ’’ کیا ساجد نے تم سے بھی کبھی چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ ‘‘
 ’’ چھیڑ چھاڑ اور وہ بھی مجھ سے ۔ پھر تو وہ اس گھر میں ہوتا ہی نہیں۔  چاچا نے کب کا اسے باہر کا راستہ دکھایا ہوتا ۔ تم کیا نہیں جانتی  کہ میں اس گھر کی اکیلی  بیٹی ہوں۔ بچپن میں بھائی کے مرنے کے بعد ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں میں ۔چاچا کے بھی بیٹے ہی بیٹے ہیں ساجد کے بغیردو اور ۔ میری ماں سے زیادہ میں چاچا چاچی کی بیٹی ہوں۔ وہ مکھی کو بھی میرے قریب پھٹکنے نہیں دیتے ۔ ساجد کی کیا بساط۔ ویسے بھی میں اسے زیادہ منہ نہیں لگاتی ۔ مجھے کہیں آنا جانا ہو تو میں ساحل کے ساتھ جاتی ہوں۔ ساحل  میرے چاچا کا چھوٹا بیٹا۔‘‘
’’   لگتا ہے تمہارے کوُل ٹھنڈے مزاج (Cool behave )  کی وجہ سے  وہ اپنے دل کی بات تم سے کبھی کہہ نہیں پایا ۔‘‘
 ’’ ایک بار کوشش کی تھی۔ میں نے وہ حال کردیا کہ بس۔کان پکڑکر بیٹھ گیا۔ گھر میں بات نہ کہنے کے لئے  ہاتھ جوڑ ے۔ بس جاتے جاتے ایک بات کہہ گیا۔ اس گھر میں بس ایک میں ہی ہوں جو تمہارے لئے کبھی کچھ بھی کرسکتا ہے۔‘‘
’’ بے چارہ ساجد۔  ‘‘
’’ وہ بچپن سے ہی خراب تھا۔ میری جو بھی سہیلی آتی تھی۔ اسے گھور گھور کر دیکھتا تھا۔ میں نے کتنی بار جھڑک دیاہے اسے۔‘‘
’’ ہائے  ۔۔۔ ظالم نے ایک بار بھی مجھے نہیں گھورا۔‘‘
’’ بکواس بند کر۔ ایک بار بھی گھور کر دکھائے ۔ آنکھیں نوچ لوں گی ۔‘‘
 ’’ کس کی ۔۔۔؟؟؟‘‘ روشنی نے جیسے نشے میں پوچھ لیا
 ’’ تیری بھی۔ اگر اس کو کبھی منہ لگایا تو ۔‘‘
’’ جلن ۔۔۔ جلنے کی بو آرہی ۔‘‘
 ’’ جلے میری جُوتی ۔ ‘‘ 
 ’’ لگتا ہے ایسے ہی تیری ساری جوتیاں جلی ہیں۔ تبھی تو تم صرف چپل پہنتی رہتی ہو ۔‘‘ روشنی نے تشویش سے کہہ دیا تو ماہی ٹھاٹھا کر کے ہنس پڑی ۔۔۔ پھردونوں دیر تک ہنسی مذاق کرتی رہیں۔ 
ماہی کا باپ حشمت علی پشتنی جاگیر دار تھا۔ بہت ساری زمین جائیداد کا مالک ۔ لیکن امیری کی کوئی ٹھاٹ باٹھ اس نے اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دی تھی۔ وہ بہت ہی خوش مزاج اور ملنسار آدمی تھا۔ حاجت مندوں کی حاجت روائی اپنا مشن بناچکا تھا۔ ماہی کے بغیر اس کا ایک بیٹا بھی تھا جو دس سال کی عمر میں فوت ہوچکا تھا۔اس کے بعد تو حشمت علی نے ہاتھ کبھی بند رکھا ہی نہیں بلکہ اور زیادہ کھلا چھوڑ دیا۔ بنا پوچھے کسی کی بھی مدد کرتا تھا ۔ ساجد کا باپ رحیم احمد اس کا پھوپھا زاد بھائی تھا۔ اتنی بڑی جائیداد کو سنبھالنے کے لئے اس کو اپنے ساتھ رکھا۔  اُ س سے چھوٹے بھائی کی طرح پیار کرتا تھا۔  اپنی جائیداد میں اس کے لئے ایک بڑا حصہ رکھ دیا۔ باقی ٹرسٹ کے لئے چھوڑ دیا۔  لیکن زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پایا اور داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ اب ہر چیز  رحیم احمد کی تحویل میں تھی لیکن کیا مجال کہ اس نے کبھی امانت میں خیانت کی ہو۔ ماہی اس گھر میں سب کی چہیتی تھی۔ اپنی ماں سے زیادہ چاچا چاچی اس سے پیار کرتے تھے اور اس کی پسند کا خاص خیال رکھتے تھے ۔ ماہی بڑے ناز و نعمت میں پلی بڑی تھی اور اس کے چاچا چاچی  چاہتے تھے کہ وہ اپنے ہی گھر میں  رہے۔ لیکن ماہی کی ماں چاہتی تھی کہ ماہی کی شادی اس کے بھائی کے لڑکے سلمان کے ساتھ ہو جائے ۔ بھائی کا تو انتقال ہوچکا تھا۔ لیکن سلمان بڑی جائیداد کا اکیلا وارث تھا اور پیشے سے وکیل بھی۔ دونوں ماں بیٹا ا سی شہر میں رہتے تھے ۔ماہی کی شادی طے ہوتے ہی ساجد نے مذیدتعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا۔ گھر والوں نے ماہی کی شادی تک رکنے کے لئے بہت زور دیا لیکن وہ اپنی مجبوریوں کا اظہار کرکے شادی سے پہلے ہی نکل گیا۔  چاچا نے بڑی دھوم دھام سے ماہی کی شادی کردی اور جہیز میں کافی مال و اسباب ساتھ دیا۔ ساجد کے جانے سے گھر میں اتنا زیادہ فرق نہیں پڑا تھا لیکن ماہی کے جانے سے گھر ایک دم سونا سوناپڑ گیا تھا۔ 
ساجد تعلیم مکمل کرکے وہیں کا ہوکر رہ گیا تھا۔ وہ اپنے بارے میں گھر والوں کو بہت کم اطلاع دیتا تھا۔ اس کے دونوں بھائیوں کی بھی شادیاں ہوگئی تھیں اور وہ کاروبار میں اپنے باپ رحیم احمد کا ہاتھ بٹا تے تھے۔ اس دوران ماہی کی ماں بھی اللہ کو پیاری ہوگئی تھی۔ دس سال میں ماہی دو بیٹیوں کی ماں بن چکی تھی اور اب وہ پھر  امید سے تھی۔بیٹیوں کی وجہ سے اس کی گھریلو زندگی بہت زیادہ پریشان کن تھی۔ ایک طرف اس کی ساس کا رویہ تو دوسری طرف اس کے شوہر کی بے رخی ۔ غم اور دکھوں سے ماہی کے چہرے کی رونق تک ختم ہوچکی تھی ۔ بال تیزی سے سفید ہو رہے تھے اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ رہے تھے۔نازک تو تھی ہی لیکن اب کمزور بھی بہت لگ رہی تھی ۔ آخر تیسری بیٹی اس کے لئے مصیبتوں کے پہاڑ لے کر آئی۔ اسے سرکاری اسپتال میں ڈال دیا گیا تھا اور اب کوئی پوچھتا بھی نہیں۔  نہ شوہر اسپتال آتا تھا اور نہ ہی ساس نے کبھی خیر وخبر پوچھی ۔ شوہر نے اس پر ایک اوربڑی مصیبت  ڈالی دی تھی۔ وہ دونوں بیٹیاں لیکر اسپتال آیا اور ان کو بھی ماہی  کے پاس چھوڑ  دیا تھا۔ تین دن تک وہ اسپتال میں شوہر کا انتظار کرتی رہی لیکن جب اس کی طرف سے کو ئی مثبت پیغام تک نہیں آیا تو  وہ  بیٹیوں کو لیکر گھر پہنچ گئی ۔ لیکن  اس کے یہاں پہنچتے ہی اس کی ساس نے کہرام مچا دیا۔  سارا گھر سر پر اٹھا لیا۔ شوہر نے اسے دھکے دے دے کر گھر سے باہر نکالا۔ اس کی حالت خراب ہورہی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے پھر اسپتال پہنچ گئی۔ یہاں  پہنچ کر وہ نیم بہوش ہوچکی تھی۔ اسے پھر سے ایڈمٹ کرکے علاج شروع کیا گیاتھا۔  آخر کسی طرح سے اس کے چاچا رحیم احمد تک بات پہنچ گئی ۔  وہ سب لوگ اسپتال پہنچ گئے۔ یہاں ماہی کی حالت دیکھ کر ان کا خون گرم ہورہا تھا۔ لیکن بیوی  نے اسے سمجھادیا کہ فی الحال ان کے پاس سب سے بڑی ذمہ داری  یہ ہے کہ وہ ماہی کا صحیح طرح سے علاج کرائیں ۔ انہوں نے ماہی کو سرکاری اسپتال سے نکال کر ایک بڑے اسپتال میں ایڈمٹ کرایا۔ یہاں بڑی زمہ داری کے ساتھ اس کا علاج ہوا اور چند ہی دنوں میں وہ ٹھیک ہوگئی اور وہ اسے گھر لے آئے۔ ۔ گھر لاکر وہ ماہی کی دلجوئی کرتے رہے اور اس کی بیٹیوں کو شہزادیوں کی طرح رکھا۔ وہ بھی یہاں آکر بہت خوش تھیں ۔ ابھی ماہی سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ اس کے شوہر نے اسے ڈاک کے ذریے طلاق بھیج دی۔ گھر میں کہرام مچ گیا۔ یہاں کے کئی لوگ اس کی سسرال پہنچ گئے۔ وہاں لڑائی جھگڑا  بھی ہوا۔ لیکن آخر پر اس کے شوہر اور ساس نے یہی فیصلہ  سنایا کہ وہ ماہی اور اس کی بیٹیوں کو اپنے گھر میں نہیں رکھیں گے۔ کافی لے دے کے بعد آخر ماہی کی طلاق ہوگئی ۔ اس کا شوہر قانونی مجبوری کے تحت بڑی دو بیٹیاں رکھ لیتا لیکن ماہی کسی بھی حال میں بیٹیوں کو اپنے سے جدا نہیں کرنا چاہتی تھی اور وہ اپنی تینوں بیٹیوں کو ساتھ لیکر اپنے میکے والے گھر آگئی۔  وہ عدت کے دن گزار رہی تھی۔ اور اس دوران اس نے کئی بار خودکشی کرنے کا ارادہ بھی کر لیا لیکن تین  بیٹیاں اس کا راستہ روک رہی تھیں۔ چاچا چاچی ماہی کو دیکھ کر دکھی ہو رہے تھے۔ لیکن اس کی بیٹیوں کی دیکھ بھال میں اپنا دن رات ایک کر رہے تھے۔ ان کا کھانا پینا، کپڑے،  اسکول آنا جانا اور پڑھائی یہ سب و ہی لوگ دیکھ رہے تھے۔ اور بیٹیاں بھی اپنی ماں سے زیادہ اب چاچا چاچی کی ہی ہوکر رہ گئیں تھیں۔
ماہی کے آنے سے گھر میں تنائو بڑھنے لگا تھا۔ دونوں بہوئیں اسے مصیبت سمجھنے لگی تھیں۔ انہوں نے شوہر بھی اپنے ساتھ ملا لئے۔ وہ اب باپ کے کاروبار کو ہڑپ ہی کرنا چاہتے تھے اور اس گھر سے نکل کر کہیں کسی پاش کالونی میں رہنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سازشین کرنی شروع کی تھیں۔لیکن چاچا ان کے تیور دیکھ چکا تھا۔ اس نے کاروبار کی ساری ڈور اپنے ہاتھ میں رکھ لی ۔ ایک طرف وہ جہاں اپنے بیٹوں کی وجہ سے پریشان تھے  وہیں وہ ماہی کی بیٹیوں کی وجہ سے بہت زیادہ خوش تھے۔ ان سے گھر میں رونق آچکی تھی۔ چاچی کچھ زیادہ ہی ان کی دیوانی تھی۔ ان کے بغیر کہیں آتی جاتی بھی نہیں تھی اور لڑکیاں بھی اسی کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی اور سوتی تھیں ۔ گھر کے حالات دن بدن مخدوش ہوتے جارہے تھے اور چاچی اس کا زیادہ اثر لے رہی تھی  اورایک شام اچانک اس کی شوگر لیول بہت زیادہ بڑھ گئی اور اس کا بلڈ پریشر بھی ہائی ہوگیا۔ اسے اسپتال میںایڈمٹ کرنا پڑا۔اس کی حالت بہت زیادہ  خراب ہورہی تھی، سارے رشتہ داروں کو خبر کی گئی۔ ماہی اور اس کی بیٹیوں کو چاچی کے بغیر قرار ہی نہیں تھا۔ وہ اسپتال میں ہی رہتی تھیں۔ خاص طور سے ماہی چاچی کی تیمارداری میں ایسی جُٹ گئی تھی کہ اسے اپنا بھی ہوش نہیں رہا۔چاچی کی حالت بھی دن بدن نازک ہوتی جارہی تھی۔ اسے جب بھی ہوش آتا وہ ساجد ساجد بڑبڑھاتی رہتی تھی اور ایک صبح سچ میں ساجد اسپتال پہنچ گیا۔ ساجد ابھی جوان دکھ رہا تھا البتہ اس کے چہرے پر سنجیدگی دھر آئی تھی۔ اس کے بالوں میں اکا دکا ہی کوئی بال سفید دکھ  رہا تھا۔ جب وہ ماں کے پاس بیٹھا اور ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا تو چاچی نے آنکھیں کھول دیں۔ اس نے جب ساجد کو اپنے اتنے قریب دیکھا  تو اس کی آنکھوں سے آنسوں کی لڑی جاری ہوگئی۔ وہ کچھ کہہ نہیں پا رہی تھی۔ بس اس کے ہونٹ پھڑپھڑا  رہے تھے۔ 
ساجد گھر میں کیا آیا تھاکہ جیسے سارے گھر میں بہار آچکی تھی ۔ اس کے دونوں بھائی اس کے ساتھ ساتھ رہنے لگے تھے اور بھابیاں اپنے بچوں سمیت اس کی آئوبھگت میں پیش پیش تھیں۔  ماہی خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی لیکن ساجد نے  اسے ایک بار بھی خیر و خیریت نہیں پوچھی۔ وہ بس ماں کے ساتھ بیٹھا رہتا تھا۔ اب ماہی کو بھی تھوڑا آرام کرنے کا موقعہ مل رہا تھا۔ بچوں کے ساتھ ساتھ ماہی کی بیٹیاں بھی ساجد سے مانوس ہورہی تھیں اور ساجد ان کو گھمانے لے جاتا تھا۔ اسپتال سے گھر اور گھر سے اسپتال لے جاتا تھا۔ ساجد کے آنے سے ماہی کے لئے یہ بات انوکھی تھی کہ اب چھوٹی بھابیاں اس کے گرد بھی منڈلاتی رہتی تھیں اور اپنا زیادہ پیاراس پر اور اس کی بیٹیوں پر نچھاور کرتی رہتی تھیں۔  ساجد کے آتے ہی ماں کی طبیعت سنبھلنے لگی تھی اور دو چار دنوں میں وہ اسپتال چھوڑ کر گھر بھی آچکی تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے بالکل ٹھیک قرار دیا تھا۔ اسے بس پرہیز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ ماں کے گھر آنے سے زیادہ ساجد کے آنے سے گھر میں رونق آئی تھی۔ ماہی چاچی کے پاس ہی سوتی تھیں ،لیکن صبح شام سبھی ماں کے کمرے میں بیٹھتے تھے ۔ چاچا چاچی بھرے پرے گھر کو دیکھ کر   خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ دو تین دن سے چاچی کی آنکھوں میں چمک سی آرہی تھی اوروہ جیسے کسی خاص موقعے کی تلاش میں تھی۔ ایک رات جب سبھی لوگ اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لئے چلے گئے تو چاچی نے ساجد کو کمرے میں ہی روک لیا تھا۔ 
 ’’ماہی بیٹا ۔ تم تین کپ قہوہ لے کر لائو ۔ آج میں ساجد کو تیرے ہاتھ کا قہوہ پلائوں گی۔‘‘ 
 ماہی قہوہ بنانے چلی گئی تو ماں ایک ٹک اپنے بیٹے ساجد کو دیکھ رہی تھی ۔
’’ ماں ۔ کیا دیکھ رہی ہو تم ‘‘ ساجد نے ماں کے  دونوںہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر ہونٹوں سے لگاکرکہا۔
 ’’ بس بیٹا ۔ ماہی بھی آجائے ۔‘‘ ماہی نے قہوے کی ٹری سائیڈ میں رکھی چھوٹی میز پر رکھ دیتی تھی اور قہوے کی پیالیاں ماں بیٹے کو دے دیں۔ ساجد کو پیالہ دیتے اس کی آنکھوں کا تصادم ساجد کی آنکھوں سے ہوگیا تھا، جو شاید کافی دیر سے اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔ ماہی نے جلدی سے اپنی آنکھیںجھکالیں۔ اس نے اپنے لئے بھی ایک پیالی ہاتھوں میں لی اور دور صوفے پر بیٹھ گئی۔ 
’’ ماہی بیٹا ، یہاں آئو  میرے پاس بیٹھو ۔‘‘ ماہی اٹھ کے چاچی کے ساتھ لگ کے بیٹھ گئی۔ 
 ’’ ساجد بیٹے ۔ کیا تم یہاں نہیں رہ سکتے ۔‘‘ ماں نے بیٹے کی طرف التجا بھری نظروں سے دیکھا۔
 ’’ ماں اگر آپ لوگ چاہتے ہیں ، تو ضرور رکوں گا۔ ‘‘ اس نے بڑی بے باکی سے ماہی کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’ لیکن وہاں تم نے گھر ۔۔۔۔۔‘‘ ماں کچھ کہنے جا رہی تھی کہ ساجد نے جلدی سے کہا
’’ ماں ۔۔۔ کیسا گھر ۔ گھر تو گھر گرہستی سے ہوتا ہے نا۔ ‘‘
 ’’ تو بسائو نا اپنا گھر۔ ‘‘
’’ اسی لئے تو رُکا ہوں ماں ۔ برسوں پہلے شادی کا پرپوزل دیا ہے۔ اسی کی ہاں کا انتظار ہے ‘‘
 ’’ ماہی بیٹی اب تو ہاں بولو نا ۔ ہم سب کتنے سالوں سے تمہاری ہاں کے منتظر ہیں ‘‘ ماں نے ماہی کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ہونٹوں سے لگایا۔  ماہی ہکا بکا دونوں ماں بیٹے کو دیکھ رہی تھی ۔‘‘ 
’’ بولو نا بیٹی۔ کچھ تو بولو۔ ساجد کو برسوں سے تیرا ہی انتظار ہے ۔ میں اور تم جانتی ہیں نا کہ ساجد گھر چھوڑ کر کیوں گیا تھا۔ وہ بھی تیری شادی سے پہلے ہی ۔ جانتی ہیں نا ہم بیٹی۔  ‘‘
 ’’ پر چاچی ۔ میری بیٹیاں ۔؟ ‘‘ 
 ’’ وہ تو اب میری بیٹیاں ہیں ۔ ۔۔ ماہی اب پھر سے انکار مت کرنا۔ میں اپنے گھر کے سوا کہیں اور رہنا نہیںچاہتا تھا ۔ لیکن تیرے بغیر اس گھر میں رہ بھی نہیں سکتا تھا، اس لئے چلا گیا۔ میرے دل نے تمہارے بغیر کسی کو اپنا جیون ساتھی قبول ہی نہیں کیا ۔ ‘ ‘ ساجد نے ماہی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔  
 ’’ یہ خیرات ہے یا۔۔۔‘‘
 ’’ یہ پیار ہے ماہی، جو یہ بُرا آدمی بچپن سے تمہارے ساتھ کرتا آیا ہے ۔ پر تم نے مجھے اس لائق ہی نہ سمجھا‘‘ 
ماہی نے ایک بار غور سے ساجد کی طرف دیکھا تو اسے لگا کہ یہ بُرا آدمی تو واقعی بہت اچھا ہے۔ اس نے توکبھی ساجد کو اس نظر سے دیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ اسے اور زیادہ غور سے دیکھنا چاہتی تھی لیکن اس کی نظر اور ساجد کے چہرے کے درمیان مدھم سے جھالے پڑ رہے تھے جو ماہی کی آنکھوں میں جمع ہورہے آنسووں کی وجہ سے بن رہے تھے۔ 
���
اننت ناگ ، فون نمبر9419734234