تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    11 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال :صورت ِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے زید کو بطورِ خانہ داماد گھر میں لایا ،اُس کی شادی اپنی بیٹی سے کرلی اور اُس کو حصۂ وراثت سے بھی نوازا اور زید کے بچے بھی ہوئے۔چنانچہ زید اس علاقہ کا پشتینی باشندہ نہیں تھا ،جہاں وہ خانہ داماد لایا گیا ۔اب پوری زندگی دوسرے علاقہ میں گذارنے کے بعد زید وفات پاگیا۔حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا زید کو اپنے سُسر کے قبرستان میں دفن کرنے کا شرعی جواز ہے یا نہیں؟کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کو یہاں قبرستان نہیں ملے گا بلکہ زید وہاں ہی دفن ہوگا جہاں کا وہ پشتینی باشندہ تھا اور نہ ہی زید کے بچوں کو نانا کے قبرستان میں دفن ہونے کا حق ہے۔
براہِ کرم اس مسئلہ پر تفصیلاً روشنی ڈالیں تاکہ یہ اختلاف ہمیشہ کے لئے پوری وادی بالعموم شہر سرینگر میں ختم ہوجائے گا ۔
طارق احمد ملہ۔نور باغ سرینگر 
جواب :مقبرہ جب بستی کے تمام باشندگان کے لئے وقف ہو اور تمام باشندے اس میں اپنے مُردے دفن کرتے آئے ہیں تو اب اس بستی یا محلہ میں جو بھی آباد ہوجائے ،اُس کو اِس میں دفن ہونے کا حق ہے اور کسی مسلمان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ اُسے اس حق سے محروم کرے۔حقِ تدفین بلا تخصیص سب کا حق ہے ،لہٰذا وہ شخص جو خانہ داماد بن کر،اپنے گائوں کو چھوڑ کر دوسری بستی میں یا اپنے محلے کو چھوڑ کر دوسرے محلے میں رہائش پذیر ہوگیا ،اُسے اس نئی جگہ کے مقبرہ میں دفن ہونے کا پورا حق حاصل ہے اور یہ شرعی حق ہے۔جیسے اس شخص کو مسجد میں آنے کا حق ہے ایسے ہی مقبرہ بھی وقف ِعام ہوتا ہے۔ہاں! اگر کوئی مقبرہ کسی خاص قوم ،ذات یا طبقہ کے لئے پہلے سے مخصوص ہو تو اُس کا حکم الگ ہے۔
جو شخص خانہ داماد بن کر اپنے سُسرال میں رہائش پذیر ہوا،اگر بالفرض یہ مرد نہیں عورت ہوتی اور وہ خاتون جو اس کے نکاح میں آئی وہ مرد ہوتا ،مثلاً شفیق احمد اگر شفیقہ بیگم اور عارفہ بیگم اگر محمد عارف ہوتا ،تو پھر اس خاتون کو اپنے سُسرال کے مقبرہ میں دفن ہونے کا پورا حق ہوتا ،اسی طرح اس داماد کو بھی اپنے سُسرال میں دفن ہونے کا پورا حق ہے۔۔۔۔،یعنی یہ خانہ داماد اگر بہو بن کر آئے تو حق ِ دفن حاصل ہے ۔ایسے اس میں بھی ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خانہ داماد کو اپنے پشتینی مقبرہ میں ہی دفن ہونے کا حق ہے کیا وہ یہ ہمت کرسکتے ہیں کہ ہر گھر میں آنے والی بہو کو بھی یہ کہیں کہ اس کو پشتینی مقبرہ میں دفن ہونے کا حق ہے اور ہم اپنے مقبرے میں دفن ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ؟ہرگز نہیں۔یاد رکھیں ! مقبرہ کے لئے پشتینی باشندہ یا نئے باشندہ ہونے کی کوئی تقسیم اسلام میں نہیں ہے۔غور کیا جائے کہ :حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام خلفائے راشدین اور تمام مہاجرصحابہ، مدینہ منورہ کے پشتینی باشندے نہیں تھے،یہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے اور جب ،جس وقت یہ دنیا سے رخصت ہوئے ،اُس وقت سارا مکہ مسلمان تھا اور مکہ مکرمہ کا مقبرہ جس کا نام ـ’’ـجنت المعلیٰ‘‘ہے ،میں بہت سارے صحابہ اور حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ بھی مدفون تھیں۔۔۔کیا اہلِ مدینہ حضرات مہاجر صحابہ کو کہہ سکتے تھے کہ آپ کا پشتینی مقبرہ مدینہ میں نہیںبلکہ مکہ شریف میں ہے ،لہٰذا مدینہ میں دفن کرنے کا حق نہیں۔پھر اسی مدینہ کے مشہو ر مقبرہ ’’جنت البقیع‘‘ میں آج تک اور آج بھی وہ تمام مسلمان دفن ہوتے ہیں جو مدینہ میں فوت ہوتے ہیں۔لہٰذا ہر خانہ داماد کو بلکہ محلہ کے ہر باشندے کو اس محلے کے مقبرہ میں دفن ہونے کا برابر حق ہے ۔محلہ کا قدیم باشندہ اور نیا باشندہ اس حق میں مساوی درجہ کا شریک ہے ۔وقفِ عام مقبرہ کا یہ حکم دنیا بھر کے تمام مقبروں کے لئے ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اسی پر عمل رہا ،کوئی بھی وہ مسلمان جو دوسری جگہ فوت ہوتا ہے وہ اس جگہ کے مقبرہ میں غیر پشتینی ہونے کے باوجود دفن ہوتا ہے ،یہی اخوت اسلامی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال : بہت سارے لوگ اپنے بال قسم قسم کے رنگوں سے رنگ دیتے ہیں۔ کئی ایک اپنی داڑھی کو کبھی سیاہ اور کبھی کبھی دوسرے رنگوں سے رنگ دیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا خضاب کرنا جائز ہے اور اس میں کون کون سا رنگ لگانا جائز ہے؟برائے مہربانی تفصیل سے رہنمائی فرماکر مشکور و ممنون فرمائیں۔
نورا لحق کسانہ ۔ڈوڈہ

خضاب کا استعمال۔ چند اہم مسائل

جواب :خضاب کرنے کے مختلف حالات میں مختلف احکام ہیں ،اُس کو مختلف صورتوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
پہلی صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو سفید ہی رکھنا بھی جائز اور ہر طرح درست ہے ۔دوسری صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو سیاہ خضاب کے علاوہ ہر قسم کا خضاب لگانا درست ہے۔تیسری صورت یہ ہے کہ سفید بالوں کو مکمل طور پر خالص سیاہ خضاب کیا جائےتویہ سخت منع ہے۔اس کے لئے حدیث میں جو وعید ہے وہ یہ ہے:
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آْخری زمانہ میں ایسے لوگ ہونگے جو سیاہ خضاب کرتے ہونگے،جیسے کبوتر کے پپوٹے ہوتے ہیں۔وہ جنت کی بُو بھی نہیں سونگھ پائیں گے ۔یہ حدیث نسائی اور ابو داؤد میں ہے۔ اس حدیث کی وجہ سے حکم یہ ہے کہ سیاہ خضاب منع کرنا ہے۔
یہ جو آخری صورت ہے ،اس میں وہ شخص کہ جس کا نکاح ہونے والا ہو اور سَر کے بال سفید ہوگئے ہوں اور وہ نکاح کرنے میں رکاوٹ پاتے ہوں ،اُن کو سیاہ رنگ کا خضاب کرنے کی وقتی اجازت ہے ۔اگر کسی کے بال سیاہ ہوںاوروہ اپنے بالوں کو براؤن یا زعفرانی بنانے کے لئے اس طرح کا خضاب کرتے ہوں،بالکل جائز نہیں ۔اس لئے کہ یہ فطری رنگ کو تبدیل کرنے کا عمل جو جائز نہیں کیونکہ یہ عمل صرف فیشن کی وجہ سے ہوتا ہے نہ کہ ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعہ نماز اور سنتوں کی ادائیگی 

سوال:-نماز جمعہ سے پہلے کتنی رکعت سنت ہیں ؟اور نمازِ جمعہ کے بعد کتنی رکعت سنت پڑھنی چاہئے۔ جواب حدیث سے نقل کرتے ہوئے باحوالہ درج فرمائیے ۔
عاشق احمد وانی… سرینگر
جواب:-جمعہ کی نماز سے پہلے چاررکعت سنت موکدہ ہے ۔ اس سلسلے میں صحاح ستہ کی کتابوں میں سے ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓسے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت سنت پڑھتے تھے ۔
اور ترمذی میں حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓجمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ۔ 
ظاہرہے صحابی کوئی بھی عمل اگر انجام دیتاہو تو وہ خود اپنی طرف سے وضع کردہ نہیں ہوسکتا۔اس لئے حنفیہ نے جمعہ سے پہلے چاررکعت کوسنت قرار دیاہے ۔نماز جمعہ کے بعد چاررکعت سنت مؤکدہ اور دورکعت سنت غیر مؤکدہ ہیں ۔حدیث یہ ہے :حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو پھر اُس کے بعد چار رکعت ادا کرو اور ایک روایت میں ہے جب تم نمازِ جمعہ کے بعد نمازپڑھو تو چاررکعت پڑھو۔ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ۔ ابن ماجہ میں بھی ہے ۔
 حضرت عبداللہ ؓبن عمرؓ کا معمول یہ تھاکہ وہ جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکر گھر آتے تھے تو دورکعت پڑھتے تھے او رپھر فرماتے تھے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔یہ حدیث بھی مسلم میں ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہؓ میں ہے ابوعبدالرحمان ؓکہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓبن مسعود ہم کو حکم دیتے تھے کہ جمعہ کے بعد چاررکعت پڑھا کریں ۔
پھر حضرت علیؓ کاارشاد ہم نے یہ سنا کہ وہ چھ رکعت پڑھنے کا حکم دیتے تھے ۔ حضرت علی کاارشاد سن کر ہم نے چھ رکعت پڑھنے کا معمول بنایا۔
ترمذی میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود جمعہ سے پہلے چاررکعت اور جمعہ کے بعد چاررکعت پڑھتے تھے اور حضرت علی ؓسے منقول ہے کہ وہ یہ حکم دیتے تھے کہ نمازِ جمعہ کے بعد پہلے دورکعت پھر چار رکعت پڑھا کرو۔
مسلم ترمذی او رمصنف ابن ابی شیبہ کی ان احادیث کی بناء پر حضرت علامہ کشمیری نے فرمایا کہ ان احادیث کی بناء پر امام شافعی ؒ نے فرمایا نماز جمعہ کے بعد دو رکعت ،امام ابوحنیفہ ؒ نے فرمایا چار رکعت ، اور قاضی ابویوسف اورامام محمد نے فرمایا چھ رکعت سنتیں پڑھی جائیں۔
حنفیہ کی تمام کتابوں میں چھ رکعت کاقول لکھا گیا کیونکہ کثرت عبادت ہرحال میں مطلوب ہے اور حضرت علی ؓخلیفہ راشدہ ہیں وہ جب تاکید سے اس کا حکم فرماتے تھے تو ظاہرہے کہ وہ کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دے سکتے ۔ جو خود اُن کی خودساختہ ہو۔یقیناً اُن کے سامنے عمل نبیؐ ہوگا۔(صلی اللہ علیہ وسلم)
بہرحال چاررکعت سنت مؤکدہ اور دوسنت غیر مؤکدہ میںہیں۔کفایت المفتی میں یہی خلاصتہً لکھا گیا ۔