تازہ ترین

نا قابل دوست

کہانی

تاریخ    10 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


ترجمہ کار:نیلوفر ناز نحوی۔۔۔۔۔ اصل فارسی از مرزبان نامہ
 ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک بوڑھا کسان تھا۔جس نے زندگی میں بڑے رنج اٹھائے تھے اور زمانے کے سرد وگرم کو چکھ لیا تھا۔اسکی زندگی کا حاصل ایک کھیت تھا جو پیداوار سے پْر تھا،ایک باغ تھا جو پھلوں سے بھرا تھا،ایک گھر تھا جو اثاثہ سے بھرا تھا اور گائیوں ،بھیڑ بکریوں اور نقدی و جواہرات کی کافی مقدار تھی۔ان سب سے بہتر اسکی ایک بیوی تھی جو دانا اور سمجھ دار تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بیٹا دیا تھا جو اسکی آنکھوں کا نور تھا اور اسکی شادمانی اور مسّرت کا باعث تھا۔
بوڑھے کسان نے جوانی میں بڑے رنج اٹھائے تھے۔اور محتاجی سے بے نیازی تک پہنچ گیا تھا۔زمانے کے لوگوں سے بہت برائی دیکھی تھی۔اپنے اچھے دوستوں کو بھی پہچان گیا تھا۔سارے باپ جیسے چاہتے ہیں اسی طرح اس کا دل بھی چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا اسکے تجربات سے مستفید ہو جائے اور جوانی کے آغاز سے خوش قسمت ہو جائے۔
کسان نے اپنے بیٹے کو بچپن میں ہی مدرسہ میں داخل کیا، چونکہ سب جانتا تھا اس لئے اسے کھیلنے سے بھی منع نہیں کیا۔لیکن اسکی آرزو تھی کہ اس کا بیٹا جلدی سے زندگی کے معنی سمجھے اور اپنے وقت اور اپنی زندگی کی قدر کو سمجھ لے تاکہ جوانی میں بعض جوانوں کی طرح دھوکہ باز اور نا قابل دوستوں سے فریب نہ کھائیاورنا پسندیدہ کاموں کو ہاتھ نہ لگائے،پشیمان نہ ہو جائے اور غم نہ دیکھے۔
دنیا کی رسم یہی ہے کہ سب باپ اپنے بیٹوں کو دوست رکھتے ہیں اور انکی خوش بختی سے خوشحال ہو جاتے ہیں۔کسان اسکے علاوہ اپنے بیٹے کیلئے عقل و دانش سیکھنے کے وسائل فراہم کرتا تھا۔خود بھی ہر وقت جب موقعہ ملتا تھا اپنے بیٹے کو زندگی کے رازوں سے آشنا کرتا تھااور اسکو سکھاتا تھا کہ اپنے کھیت سے کیسے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔اس کو آگاہ کرتا تھا کہ علم اکیلے پیداوار نہیں دیتا بلکہ علم کام کا صحیح کرنا ہیاور علم کام کی جگہ نہیں لیتا۔اس کو سکھاتا تھا کہ کام کرنے والے کھیت کو رضا اور خوشنودی کی نگاہ سے دیکھے تاکہ سارے کام اسکی طرح صحیح سے انجام دیں۔اسکو سکھاتا تھا کہ لوگوں کے ساتھ کیسے برتائو کرنا چاہئے تاکہ اچھے لوگوں کو اپنا دوست بنائے۔ان کے منہ سے دوستی کی لالچ اور دشمنی کا بہانہ نہ رکھتا ہو۔اس کو سکھاتا تھا کہ آمدنی اور خرچ کو کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔فضول خرچی کو عادت نہیں بنانا چاہئیکیونکہ فضول خرچی کرنے سے ضرورتیں بڑھ جاتی ہیں۔اسے سکھاتا تھا کہ ناتوان آدمیوں کی کیسے مدد کی جاتی ہے تاکہ نہ تو وہ شرمندہ ہو جائیں نہ ان کو بھیک مانگنے کی عادت ہو جائے اور اسطرح کی دوسری نصیحتیں اسکو کرتا تھا۔
لیکن سب سے زیادہ جس چیز کو اہمیت دیتا تھا وہ اچھے دوستوں کو سنبھالنا ہے۔ایک روز بیٹے نے پوچھا۔’’اچھا دوست کون ہے؟‘‘باپ نے جواب دیا ’’اچھا دوست وہ ہے جو ہمیشہ انسان سے سچ بولے اوربْرے کام کو تمہارے سامنے خوب نہ کہے۔‘‘
بیٹے نے پوچھا۔’’بْرا دوست کون ہے؟‘‘
باپ نے کہا۔’’جو تم سیجھوٹ بولے اور تمہارے دشمن کے ساتھ دوستی کرے۔‘‘ بیٹے نے کہا’’ اگر ایسا ہوگا کہ دوست نہیں ہے،دوستی ایک پورا کلمہ ہے اور خوب و بد اسکے صفات ہیں۔اگر اسکے ساتھ بد کا لفظ چسپاں  نہ ہو،اگر دوست ہو تو اچھا ہو ورنہ دوست ہی نہ ہو۔‘‘
اسوقت باپ کی آنکھوں میں آنسو آئے  اور کہا۔’’آفرین میرے بیٹے۔اب میں سمجھتا ہوں کہ تم اب چیزوں کو سمجھ سکتے ہو۔لیکن اس کو کبھی فراموش نہ کروکیونکہ پرانے زمانے سے کہتے آئے ہیں ہزار دوست کم ہیں اور ایک دشمن زیادہ۔ہمیشہ ایسے بنے رہو کہ بہت سارے تمہارے دوست ہوں۔
بیٹا اس موقعہ پر ابھی شاگرد تھا۔کچھ سال اور گذرے اور بوڑھا کسان بیمار ہوا اور دنیا سے چلا گیا۔بیٹا اپنی ماں کے ساتھ اکیلا رہ گیا۔بیٹا تازہ جوان ہوا تھا۔زندگی آسودہ تھی۔شاگردی ختم کردی تاکہ باپ کے کام کو آگے بڑھائے۔لیکن کام ایسے سامنے تھے کہ بیٹے نے انکی جانچ پڑتال کرنے کا احساس نہیں کیا۔جو چاہتا تھا فراہم تھا اور جس کو دیکھتا تھاایسا لگتا تھا کہ باپ کا دوست اس کا دوست ہے۔گائوں کے لوگ سب اس کا احترام کرتے تھے۔اسکی عمر کے جوان اسکے ساتھ دوستی کر کے خوشحال ہوتے تھے۔آہستہ آہستہ کھیت کے کاموں ،باغ ،گائیوں اور بھیڑ بکریوں کی طرف سے غافل ہوگیا۔دور دراز گردشوں اور بے فائدہ آمد و رفت کی عادت لگ گئی۔جو کچھ نقدی تھی اپنے دوستوں کے ساتھ عیش و مستی میں خرچ ہو گئی۔ اس دوران میں اس کے باپ کے اچھے دوستوں،جنہوں نے بیٹے کو غافل اور نصیحت سے منکر دیکھا ،نیاسکو اپنے حال کے بارے میں آگاہ کیااور کچھ لوگ جو اسکے مال و جائیداد سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے اکثر اپنے آپ کو اس کا دوست اور رفیق ظاہر کرتے تھے۔پھرایسا ہواکہ اسکی ماں کو خبر ہوگئی کہ بیٹے کی کار کردگی دگر گون  ہو گئی ہے۔اسکے دوست نا قابل ہیں اور زندگی کے کام کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
اسکی ماں ،جو ایک دانا اور سمجھدار عورت تھی، نے ایک دن بیٹے کو نصیحت کی اور کہا۔’’اے پیارے بیٹے اپنے باپ کی نصیحت کو فراموش نہ کراور کام اور محنت و کوشش سے غافل مت ہو جائو۔جو کچھ تمہارے پاس ہے آسانی سے خرچ نہ کرکیونکہ تمہارے اکثر دوست پیسے اور مال کے دوست ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں دیکھتی ہوں کہ ان کو سوائے کھیلنے کے،تفریح اور عیش و عشرت کے اور کوئی کام نہیں ہیاور تم کو ہمیشہ بیہودہ کاموں کی طرف اکسایا ہے۔‘‘
بیٹے نے جواب دیا۔’’ان میں سے کوئی بھی ایک میرا بد خواہ نہیں ہے۔اگر میں ان کے لئے کچھ خرچ کروں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ میرے دوست ہیں اور قدیم بزرگوں نے کہا ہے کہ ہزار دوست کم ہیں اور ایک دشمن زیادہ۔مجھے چاہئے میرے بہت سے دوست ہوں تاکہ خوشحال رہوں۔یہ سب مجھے ہنساتے ہیں اور مجھے خوش اور خوشحال رکھتے ہیں۔‘‘
ماں نے کہا۔’’ میںیہ نہیں کہتی ہوں تو شاد اور خوش نہ رہولیکن میں کہتی ہوں اپنے کام کا اور زندگی کا حساب رکھو۔میں دیکھتی ہوں کہ یہ دوست جو چاروں اطراف تمہیںگھیرتے ہیں تمہارے ساتھ یکدل اور اخلاص والے نہیں ہیں کیونکہ تم کو کام اور ترقی سے دور رکھتے ہیں۔اگر تیرے ہاتھ سے دولت چلی گئی تو تمہیں فراموش کریں گیاور جب تک کہ انکا امتحان نہ لیا ہوگا اور انکی وفا اور خلوص کو نہ پہچانو انکو دوستوں میں شمار نہیں کر سکتے ہو‘‘۔
بیٹے نے جب آزمائش اور امتحان کا لفظ سنا تو اسکو اچھا لگا کہ اپنے دوستوں کی آزمائش کرے۔لیکن پھر کوئی بات نہ کی اور نہ ماں سے یہ پوچھا کہ دوستوں کی آزمائش کیسے کرے۔اپنے آپ سے کہا۔’’کل جائوں گا اور اور ایک چیز جو اصل میں عقل کے مطابق نہیں ہے میں ان سے کہوں گا۔دیکھتا ہوں کیاجواب دیتے ہیں۔
دوسرے دن دوستوں میں کچھ لوگ جمع تھے۔کسان زادے نے کہا’’  ایک گندا چوہا میرے گھر میں ظاہر ہواہے۔وہ بہت خرابی کر رہا ہے۔میری کچھ کتابیں ریزہ ریزہ کرکے چھوڑی ہیں۔کچھ لباسوں کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے۔ہم نے جتنی بھی چوہے دانیاں رکھی ہیں اور اسکی موت کونوں اور جگہوں پر رکھی ہیں وہ اْن میں نہیں پھنستا ہیاور وہ زہر بھی نہیں کھاتا ہے لیکن دوسری چیزوں کو کھاتا ہے۔ مثلاً ہمارے پاس ایک دس من پتھر کا کھرل (کونڈی) ہے جو باورچی کھانے میں ہے۔کل ا?دھی رات کو بد بخت چوہے نے وہاں جاکر کھرل کو کھایا اور اب نہیں جانتا ہوں ا سکے شرکو کیسے دفع کریں۔
بیٹے کے دوستوں نے جب یہ بات سنی تو ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ان میں سے ایک نے کہا’’ہاں چوہا ایک خطرناک حیوان ہے جو کچھ دیکھتا ہے کھاتا ہے۔دوسرے نے کہا۔’’ضرورکھرل میں گوشت کْو ٹاہوگا اور ہاون پر چربی لگی ہوگی۔چوہے نے بھی اسکو چربی کی لالچ میں کھایا ہوگا‘‘
دوسرے نے کہا’’نہیں اصل میں چوہے کو اپنے دانتوں کی کر کر کی آواز اچھی لگتی ہے اور ہر چیز جوسخت ہے وہ اسکو شوق سے کھاتا ہے۔چوہا کاغذ اور لکڑی کو بھی اسی لئے کھاتا  ہے اور ریزہ ریزہ کرتا ہے چونکہ اپنے دانتوں کی آواز کر کر اسکو اچھی لگتی ہے۔
‘‘ خلاصہ یہ کہ ہر کسی نے  کوئی نہ کوئی بات کی مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ چوہا پتھر نہیں کھا سکتا ہے اور کسان کے بیٹے کو کسی نے جھوٹ کہنے پر روکا نہیں۔
جوان کسان نے جب یہ باتیں سنی تو باوجود اسکے کہ وہ جانتا تھا اس نے یہ جھوٹ خود بنایا ہے لیکن دل میں ان اشخاص کی دوستی کی امید زیادہ بڑھ گئی۔اپنے آپ سے کہا۔’’اچھا ہے میرے خلاف انہوں نے ایک حرف بھی نہیں کہا۔اگر میرے دشمن ہوتے فوراً شور مچاتے اور میرا مذاق اْڑاتے۔‘‘
خوشی سے ماں کے پاس چلا گیا اور کہا۔’’امی جان میں نے اپنے دوستوں کا امتحان لیااور میں نے اتنا بڑا جھوٹ ان کو بولا اور انہوں نے میرا مذاق نہیں اْڑایابلکہ احترام کی نگاہ سے مجھے دیکھا اور میرا جھوٹ سچ مانا۔اب تم کیا کہتی ہو۔‘‘
ماں نے جواب دیا’’میں نہیں جانتی کہ میں تمہاری عقل پر ہنسوں یا روئوں۔آخر بیٹے جان یہ تو امتحان نہیں ہے۔امتحان یہ ہے کہ یا تو ان سے کوئی محنت کا کام کرائو یا ان سے بے شمار مال مانگویا مثلاًایک درس کی کلاس بنائو اور یہ تجویز رکھو کہ سب آجائوتاکہ ناداراور غریبوں کو درس دیں گے یا بولو کہ سب پیسے لائواور ایک اچھا کام کریں گے یا پھر کسی مدت کے لئے اپنے آپ کو غریب یا بیمار ظاہر کرو۔اس طریقے سے تم دیکھو گے کہ ہر کوئی کیسے عذر تراشتا ہے اور تم سے دور بھاگتا ہے۔اب دیکھو یہی چوہے کا مسئلہ بھی اچھا سبق ہے۔تم دیکھتے ہو تمہارے دوستوں میں کسی نے نہیں کہا کہ جھوٹ کہتے ہو۔ہر کسی نے تجھے رسوائی اور ذلت کی باتوں سے روکا نہیںاور صرف اس لئے کہ تمہارا دل خوش ہو جائے تمہارے جھوٹ کو سچ مانا لیکن وہ اپنے دلوں میں تمہاری  نادانی پر اور تم پر ہنستے ہونگے‘‘۔
بیٹے نے کہا ’’عجیب بات کرتی ہو۔میں تم کو اپنے راز کا محرم سمجھتا تھا اور دوستوں کے امتحان کی بات کہی اور اب آپ کہتی ہو کہ انہوں نے مجھ سے جھگڑا کیوں نہ کیا؟ کیا انہوں نے بْرا کیا کہ میری عزت رکھ لی اور جھوٹ کا طعنہ مجھے نہیں دیا۔اگر مجھ سے مسخرہ کرتے اور ہنستے تو کیا بہتر ہوتا؟‘‘
 ماں نے جواب دیا’’ ہاں! میرے خیال میں اگر مذاق اْڑاتے اور تم پر ہنستے تو زیادہ اچھا تھا۔اس وقت تمہیں سمجھ آتا کہ اگر غلطی کرو گے وہ تمہیں گمراہی اور غلطی میں نہیں رہنے دیں گے۔اس وقت سمجھ جاتے کہ جھوٹ بولنا رسوائی کا سبب ہے۔اس وقت تم ان پر اعتبار کر سکتے تھے۔ کہ تمہارے پیٹھ پیچھے ہنسیں گے نہیں۔تمہارا عیب تمہارے سامنے بتایئں گے اور تم اپنے آپ کی اصلاح کرو گے۔اس وقت تمہیں یقین ہو جاتا کہ اگر ایک دن اپنی کم عقلی سے کوئی غلط کام کرتے  وہ تمہیں اس کام سے منع کرتے۔لیکن اب تم دیکھتے ہو کہ انہوں نے تمہاری دل کی خوشی کے لئے تمہاری خواہش کے مطابق باتیں کی ہیں اور اگرتم گمراہی اورغلطی میں ہوتے تو کیا تمہیںغلطی سے باہر نہیں نکالتے۔پرانے لوگوں نے کہا ہے۔دوست وہ اچھا نہیں ہے جو تجھے ہنسا دے اور تیرے پیٹھ پیچھے تیرے عیب نکالے۔دوست اچھا وہ ہے جو تجھے رْلا دے یعنی اگر تمہاری چاہت اور خواہش کے خلاف ہو تمہیں سچ بولے اور تمہیں تمہارے عیب دکھائیںاور تمہیں اس کام کا شوق دلائیںتاکہ دکھ اٹھائو اور کامیاب ہو جائو۔دوست اچھا وہ ہے کہ تمہارا جھوٹ سچ کی جگہ پر قبول نہ کرے اور خود اور تمہارے پیٹھ پیچھے ایک جیسا ہواور جو اپنے لئے پسند نہیں کرتا تیرے لئے بھی پسند نہ کرے۔‘‘اب اگر میری باتیں نہیں سنتا ہے ایک دن آئے گا کہ خود ہی پشیمان ہو جائے گا اور غم اٹھائے گا‘‘۔
بیٹے نے کہا۔’’ان سب باتوں کے باوجود وہ میرے بد خواہ نہیں ہیں۔انکی ہم نشینی باعث بنتی ہے کہ میں اپنے غموں کو بھول جاتا ہوں ،ہنستا ہوں اور خوشحال رہتا ہوں‘‘۔
پھر بھی کسان زادہ جو اپنے نا قابل دوستوں کا فریفتہ تھا،اسی طرح اپنا وقت اور اپنا مال صرف کرتا رہااور آہستہ آہستہ نقدی تو ختم ہو ہی گئی بھیڑ ،بکریوں اور پھر گائیوں کو بھی فروخت کیا۔دھوکے باز دوستوں نے اسے شراب اور جْویسے بھی آشنا کرایا تھا۔اس نے اپنا باغ جْوے میں ہار دیا۔اسکے کھیتوں، جن پر وہ اب کام نہیں کرتا تھا  اور کسی  اورکو بھی کیا چٹی پڑی تھی،میں روز بروز پیدا وار کم ہوگئی۔یہاں تک کہ نقصان ہو گیااور جو وقت کے منتظر تھے انہوں نے کھیت کو سستے میں خرید لیا۔
 بہت کم مدت گذری تھی کہ خوش بخت کسان زادے نے اپنی تمام جائداد اْڑا دی۔فرش اور گھر کا اثاثہ بھی آہستہ آہستہ تمام ہو رہا تھااور چونکہ زندگی کی نا پسند یدہ عادات نے اس کو تباہ کیا تھا، اب اسکے وضع بھی کسی طریقے کے نہ تھے کہ اسکے خالی ہاتھ دوست اب اس سے شاد و شاد کامی کی طمع کریں۔وہ بھی اب انہی کی طرح ہو گیا تھا۔بے کار،نا قابل اور مفلس۔
اتفاق سے ایک دن صبح انہی چند دوستوں کے ساتھ اکھٹے تھے۔چوہے کی بات ہوئی اور کہا گیا کہ چوہا آدمی کو بہت نقصان پہنچا تا ہے۔کسان زادہ جو، ہمیشہ کی طرح ٹانگ اڑاتا تھا، نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا ’’چوہا گھر کا ایک دشمن ہیاور وہ چاہتا تھا کہ اسکی بْری جنس کی مثال دے دے۔اس کی زبان اسطرح پھسلی۔’’کل رات دسترخون میں ایک روٹی تھی اور دسترخوان باورچی خانے میں رکھا تھا۔آدھی رات کو چوہا آیا دستر خوان کو سوراخ کیا اور صبح تک اس روٹی کو صاف کیا۔‘‘
یہ بات سن کر ایک دوست نے کہا’’عجیب بات کرتے ہو،کیسے ممکن ہے کہ ایک چوہاایک رات میں پوری روٹی کھائے گا؟ دوسرے نے کہا َ’’اگر دس چوہے بھی ہونگے ایک رات میں پوری روٹی نہیں کھا سکتے ہیں۔‘‘ایک اور نے طعنہ مارتے ہوئے کہا ’’ اسکا مقصد اس سے یہ بہانہ بنانا ہے کہ کوئی ناشتے کا انتظار نہ کرے۔ایک اور نے کہا’’نہیں صاحب اصل میں یہ ایسے دور کی باتیں ہیں جو منہ میں آیا بک دیااور سوچتا نہیں ہے کہ عقل کو کس لئے اس کے سر میں ڈالتے ہیں۔کیا تمہیں یاد نہیں دو سال پہلے اس دن جب کہتا تھا پتھر کے ہاون کو چوہے نے کھایا ہے اور میں مدت تک ہر وقت اسکے بارے میں سوچتا تھا تو ہنسی کے مارے پیٹ میں بل پڑتے تھے۔اب بھی ٹھیک ہے کہتا ہے چوہے نے روٹی کھائی۔‘‘ان باتوں پرسب دوستوں نے قہقہہ لگایا۔کسان زادہ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔اسکی آنکھوں سے سیاہ پردہ ہٹ چکا تھا اور ماں باپ کی نصیحتیں اور اپنی گذری زندگی اسے یاد آئی۔وہ آنسو جو اسکی آنکھوں میں آئے تھے مشکل سے بچا لئے۔اپنی جگہ سے اٹھا اور۔۔۔جا رہا تھا کہ ماں کے ہاتھ پر بوسہ دے اور اپنی بچی ہوئی زندگی کی قدر جان لے۔
فون نمبر9906570372