تازہ ترین

لڑکیوں کو پڑھاؤ، لڑکیوں کو بچاؤ!

صنفِ نازک

تاریخ    10 دسمبر 2020 (00 : 01 AM)   


ابوبکراودھ
ہمارے ہندی والے ماسٹر صاحب (خدا انہیں غریق رحمت فرمائیں) اکثر کہا کرتے تھے،’’پریورتن پَر کِرتی کا شاسوَت نِیَم ہے‘‘۔بخدا اس وقت تو میرے پلے کچھ نہیں پڑتا تھا،لیکن جوں جوں عمرکا مرحلہ طے کرتا گیا،ماسٹرصاحب کی بات کا مطلب سمجھتا گیا۔گوکہ صد فیصد سمجھ لینے کا دعوے دارآج بھی نہیں ہوں،لیکن کام تو بہر حال چل جاتا ہے،بات بن جاتی ہے۔یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب میری زبان سے بھی بارہا نکل جاتا ہے، ’’تبدیلی فطرت کا بنیادی اصول ہے‘‘۔دیکھیں جی فطرت معاف نہیں کرتی ہے۔بدلو گے نہیں، تو ’ڈائنا سور‘کی مانند تمہارا سُراغ تک مٹ جائے گا۔کہنے کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ 'غوروفکر کی سطح پربھی بدلاؤ ناگزیرہے'۔میں اگریہ کہوں 'اصل میں بدلاؤ توغوروفکرکی سطح پرہی ہونا چاہئے'، تو میرا یہ کہنا کسی طور انتہاپسند فکریا نظریے کا شاخسانہ نہیں ہے۔اس سے میری شدت پسند طبیعت کی غمازی بھی نہیں ہوتی ہے۔حقیقت بس اتنی سی ہے کہ جب انسان کی’ فکر‘میں تبدیلی واقع ہوتی ہے،توچیزیں آپ ہی بدل جاتی ہیں۔آپ جیسا چاہتے ہیں،ویسا ہی سوچنا شروع کردیجئے۔یاد رکھئے’ آپ وہی ہیں، جو آپ سوچتے ہیں‘۔
مذکورہ بالا تمہید کا مقصد محض یہ ہے کہ ہمیں اپنی فکروہاں سے بدلنی چاہیے جہاں سے ہم یہ کہتے ہیں ’’بیٹی بچاو،بیٹی پڑھاو‘‘۔اس کی جگہ اگر ہم یہ کہیں ’’لڑکی کو پڑھاؤ،لڑکی کو بچاؤ‘‘، تو ہمارا یہ کہنا کہیں زیادہ مناسب اورعقل و خرد سے کئی درجہ قریب ہوگا۔ایسا میں کہہ رہا ہوں تو اس کے پیچھے جو راز پوشیدہ ہے یا جس نقطے کی بنیاد پر میں یہ بات کہہ رہا ہوں اسے میں آئندہ سطروں میں درج کئے دے رہا ہوں۔
ارے بھئی آج بیٹیاں عام طور سے پڑھائی اور لکھائی جارہی ہیں۔ان کے خوب صورت مستقبل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں بہتر سے بہترتعلیم دلائی جارہی ہے۔ مہنگے سے مہنگے اسکولوں میں ان کا داخلہ کرایا جا رہا ہے،نیزان کی حفاظت کے تئیں بھی مناسب اقدامات کئے جارہے ہیں۔بیٹی کی فکر تو وہ والدین بھی اپنی جان سے زیادہ کررہے ہیں، جواس حیثیت میں بھی نہیں ہیں کہ وہ خود دو وقت کی روٹی اور ایک عدد سر اور تن ڈھکنے کا مناسب بندوبست کرسکیں۔بیٹیاں عام طور سے محفوظ و مامون ہیں۔ان کو پڑھایا جارہا ہے اور ان کو تحفظ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔مسئلہ یہاں نہیں ہے،کہیں اور ہے۔جب ہم غور و فکر کی لوکو تھوڑا اور بڑھاتے ہیں تو مسئلے کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔نقطہ یہ ہے کہ 'بچیوں' یا 'لڑکیوں' کوکون پڑھا رہا ہے،اورانہیں کون تحفظ فراہم کررہا ہے۔ 
بھئی اپنی بیٹیوں کو تو کم و بیش سبھی اعلی و ارفع تعلیم دلا رہے ہیں۔لطف اور مثبت فکر کی بات یہ ہے کہ بیٹیوں کی اعلی و ارفع تعلیم کا خواب وہ بھی دیکھ رہے ہیں جو ابھی مرحلۂ شادی کو بھی نہیں پہنچے ییں۔جن کے آنگن بیٹیوں کی کلکاریوں سے سونے ہیں، وہ بھی بیٹیوں کے مستقبل کے بارے میں بہتر سے بہتر سوچ اور فکر رکھ رہے ہیں۔دھاگے کا سِرا کہاں ہے،دیکھنا ہمیں یہ ہے۔
اچھا جی جب آپ یہ کہتے ہیں کہ 'بیٹی پڑھاؤ،بیٹی بچاؤ' تواس کا مطلب یہ بھی تو نکل رہا ہوتا ہے کہ 'اپنی بیٹی کو پڑھاؤ اور اپنی بیٹی کو بچاؤ'۔لاکھ کوڑی کی بات تو یہ ہے کہ کہا جائے،’’بچیوں یا لڑکیوں کو پڑھاؤ،بچیوں یا لڑکیوں کو بچاؤ‘‘۔اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ اپنی بیٹی جب گھرسے تعلیم کی غرض سے نکلتی ہے تو ہم بڑے خوش ہوتے ہیں۔چہرے پر یہ سوچ کرخوشی کی لڈو پھوٹ پڑتے ہیں کہ کل کوبٹیارانی پروفیسر،ڈاکٹر،انجینئر،سائنس داں،آفیسر،جرنلسٹ،ملٹی نیشنل کمپنی کی چئرپرسن وغیرہ بنے گی۔ وہیں جب دوسرے کی بیٹی کم و بیش وہی غرض لے کرباہرقدم نکلالتی ہے توہمارے چہرے مہرے پرخاک پڑ جاتی ہے۔چہرے پر ہوس کی سیاہی دوڑ آتی ہے۔ ہماری آنکھوں میں خوف ناک چمک دوڑ آتی ہے۔ہماری زبان پرجو لفظیات ہوتی ہیں وہ انتہائی اوچھی اور سخت واہیات قسم کی ہوتی ہیں۔سب سے پہلے ہماری نظر اس کے پہناؤ اڑھاؤ پرجاتی ہے،پھرگھومتے گھامتے چال ڈھال پرچلی جاتی ہے۔پھر ہاتھ ہاتھ کی ہماری بے لگام زبانیں بے ہودے تبصرے کرنے لگتی ہیں۔ہم لڑکے بالے کہیں بھی جائیں،کچھ بھی پہنے اوڑھیں،کتنی ہی پھٹی اورکتنی ہی نیچی جینس کیوں نہ پہنیں۔ ہماری برانڈیڈ انڈرویرں کی رنگین پٹیاں کیوں نہ جھانکیں،اجی کیا فرق پڑتا ہے،ہم لڑکے بالے جو ٹھہرے۔فیشن بھی توکچھ ہوتا ہے،اس کے بھی تو کچھ تقاضے ہیں۔اچھا جی یہ تو ٹھیک ہے ،مگر لڑکی ایسا کرتی ہے تو ہماری رگیں کیوں پھڑکنے لگتی ہیں ۔حالاں کہ سمجھنے کا پھیر ہے ورنہ یہ بڑی عام سی بات ہے۔ایسے ہی موقعوں پر مجھے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ واقعی میں عام فہم چیزیں واقعی عام فہم نہیں ہوتی ہیں۔
میں صاف لفظوں میں کہوں تو ہماری نفسیات کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں،اپنی ماؤں اوراپنی بیویوں کے علاوہ کسی کو عورت سمجھتے ہی کہاں ہیں۔معروف افسانہ نگار’سعادت حسن منٹوں‘ کی تحریروں میں بھی اس راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ ہم اپنے گھرکی عورتوں کے علاوہ عورتوں کو'عورت' نہیں سمجھتے ہیں۔ چلیں آگے بڑھنے سے پہلے ہم خود کو بھی ٹٹول لیتے ہیں۔آنکھ بند کیجئے اوردل پرداہنا ہاتھ رکھئے۔ پھردھیان سے اپنے اندرسے اُٹھ رہی آوازکو سنئے اورخود اپنے بارے میں فیصلہ کیجئے۔آپ کے ضمیر سے اُٹھ رہی آواز عورتوں یا لڑکیوں کے سلسلے میں آپ کی سوچ سے آپ کو آگاہ کر دے گی۔
واقعہ بھی یہی ہے کہ اگرہم سمجھتے توہر لڑکی ہمیں اپنی بیٹی جیسی لگتی، ہرعورت ہمیں اپنے گھرکی عورتوں جیسی لگتی۔میری تلخ کلامی پرمجھے معاف کریں یا نہ کریں،لیکن مجھے یہ کہنے سے کوئی چیز نہیں روک رہی ہے کہ بھیا ہم دوسرے کی بہنوں،بیٹیوں،اورعورتوں کو'عورت' سمجھتے ہی نہیں ہیں۔موقع ملتے ہی ان کے ساتھ زوروزبردستی کربیٹھتے ہیں۔ہوس کے سرخ ڈورے آنکھوں میں لیے دندناتے پھرتے ہیں۔اگر ایسا نہیں ہے تو کیوں آئے دن اسکولوں، کالجوں کے اردگرد مجنوں گیری نظرآتی ہے۔ دست درازی اور زنا بالجبر کے واقعات روشنی میں آتے رہتے ہیں۔مہینہ بھی نہیں گزرتا کہ ایک نیا واقعہ سامنے آجاتا ہے۔اجی حد تو یہ ہے کہ ایک واقعہ ابھی سرد بھی نہیں پڑتا کہ دوسرا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔بے شمار واقعات توروشنی میں آنے ہی نہیں پاتے ہیں۔کچھ لوگ تو عزت و ناموس کا خیال کرکے خاموش ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ خوف کی وجہ سے زبان نہیں کھول پاتے ہیں۔سیاسی ایوانوں میں بحثیں ہوتی رہتی ہیں اور انتہا ئی قیمتی وقت ان معاملات کی نظر ہوجاتے ہیں۔لے دے کر قانون تو بن جاتے ہیں اور قانون کا نفاذ بھی ہو جاتا ہے،لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عملا قانون کہیں عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔رہا قانون کا خوف تو یہ کہیں نظرہی نہیں آتا ہے۔’’قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں‘‘ یہ بات فلمی مکالمہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔قانون کے رکھوالوں کی بے غیرتی  سے قانون کو رئیسوں نے اپنے گھرکی لونڈی بنا لیاہے۔ہاں غریبوں کے خلاف قانون سرگرم دکھائی دے جاتا ہے۔باقی زمینی سطح پرمعاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتا ہے۔فیض احمد فیض سخن فرماتے ہیں:
ؔجس دیس سے قاتل غنڈوں کو
اشراف چھڑا کر لے جائیں
جس دیس کی کورٹ کچہری میں
انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
اچھا جی اپنے گھر خاندان والیوں کو تو ہم دیویوں کے سمان رکھتے ہیں۔انہیں اپنی عزت ِنفس خیال کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کی عزت و ناموس کی خاطر مرنے اور مارنے پربھی آمادہ ہوجاتے ہیں۔عزت و ناموس کے نام پرقتل کے بے شمارواقعات آئے روزہماری نظروں کے سامنے سے گزرتے رہتے ہیں۔’بھائی نے اپنی بہن کو مار دیا‘،’باپ اور چچا نے مل کر بیٹی کو مار دیا‘،’لڑکی والوں نے لڑکے کو دھوکے سے بلا کر اس کا قتل کردیا‘،اس طرح کی خبریں آتی ہی رہتی ہیں ۔ واضح رہے ناموس کے نام پرجو قتل ہوتے ہیں وہ کوئی دشمنی کی بنا پر نہیں ہوتے ہیں۔وہ قتل انا کے نام پرکیے جاتے ہیں۔
اگرواقعی ہم ایک بہترین معاشرے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں،جہاں انسانی،اخلاقی اور سماجی بنیاد پرانصاف قائم ہو،جنس یا جینڈر کے برعکس عمومی انصاف یعنی جنرل جسٹس ہو تو سب سے پہلے ہمیں لڑکے اور لڑکیوں یا عورت اور مرد کے درمیان کسی طرح کی تفریق یا کسی طرح کا غیرمناسب امتیاز بند کرنا پڑے گا۔ بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان بھی والدین کو اپنے رویوں میں تبدیلی کانے کی ضرورت ہے۔عورتوں یا لڑکیوں کے تئیں اپنے دوغلے رویے میں تبدیلی لانا پڑے گا۔قدرے آسان یاعام فہم لفظوں میں کہا جائے تو’ منصف مزاج ‘ہونا پڑے گا۔انسانی بنیاد پرکے بندوں کے درمیان انصاف قائم کرنا ہوگا۔آغازہمیں اپنے ہی گھر سے کرنا ہوگا۔ایسا کرنا مشکل ترین امر ہے ،لیکن نا ممکن ہر گز نہیں ہے۔کرنے سے سب کچھ ہو جاتا ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ 'تبدیلی غور و فکر کی سطح' سے شروع ہوگی۔اس کے بغیربہتری یا بھلائی کی امید کرنا صحیح معنوں میں بے معنی بات ہے۔یہ تبدیلی عام آدمی کی سطح سے لے کرحکومتی سطح تک ناگزیر ہے۔کسی ایک ہی فریق پر یہ ذمہ داری ڈال کرراہ فرار اختیارنہیں کیا جا سکتا ہے۔یہ ایک ایسی سماجی اجتماعی برائی ہے جس کے خاتمے کے لیے ہرایک کی برابرشموملیت لازمی ہے۔مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ ’عورتوں کے تئیں ہم سب کہیں نہ کہیں مجرم ہیں‘۔ان کے حق اور حقوق کے معاملے میں ہم سب کہیں نہ کہیں خائن ہیں۔عورتیں از خود جاگیں ،اس سے پہلے ہمیں اپنے آپ کو بیدار کر لینا چاہئے۔
ہمیں اپنے ذہنوں میں اس روزکو ہمہ وقت رکھنا چاہئے،جس روز عدالت قائم کی جائے گی،جب انصاف قائم کیا جائے گا۔جب منصف وقت ان سے ان پرکیے گئے ظلم و ستم کے بارے میں دریافت کرے گا اورہم سے ایک ایک چیزکا حساب مانگے گا۔ہمارے اجتماعی اور انفرادی غرض سبھی معاملات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔قرآن کریم کی آیت نقشہ یوں کھینچتی ہے:
’’اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس گناہ کی بنا پر قتل کردی گئی تھی۔اور جب اعمال نامے کھل جائیں گے‘‘۔(سورہ التکویر۔سورہ نمبر ۸۱۔آیت ۸،۹،۱۰)
اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا۔(سورہ الزلزلہ ،سورہ نمبر ۹۹۔آیت ۶،۷،۸)
معروف اردو ادیب اور نقاد 'مولانا الطاف حسین حالی'اپنی مشہور نظم 'چپ کی داد' میں معاملہ یوں اٹھاتے ہیں:
ؔآتا ہے وقت انصاف کا
نزدیک ہے یوم الحساب
دنیا کو دینا ہوگا 
ان حق تلفیوں کا وہاں جواب
ای میل۔abubakr.awadh@gmail.com
فون نمبر۔9560877701